|

وقتِ اشاعت :   July 15 – 2018

کوئٹہ: مستونگ بم دھماکے میں شہیدنیوالے نوابزادہ سراج رئیسانی کو مستونگ کے آبائی قبرستان میں والد، بھائی اور بیٹے کے پہلو میں سپرد خاک کردیاگیا۔ آرمی چیف کی جانب سے قبر پر پھول چڑھائے گئے۔

نوابزادہ سراج رئیسانی کی نماز جنازہ کوئٹہ کے جنرل موسیٰ اسٹیڈیم میں ادا کی گئی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، گورنر بلوچستان ، نگراں وزیراعلیٰ ،صوبائی وزراء4 ، کمانڈر سدرن کمانڈ، آئی جی ایف سی ا ور دیگر اعلیٰ فوجی حکام کے علاوہ سراج رئیسانی کے بڑے بھائی نواب اسلم رئیسانی ،لشکری رئیسانی ، بیٹے نوابزادہ جمال رئیسانی نے شرکت کی۔

بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، پشتونخوامیپ سمیت مختلف سیاسی تنظیموں کے رہنماؤں، قبائلی عمائدین اور شہریوں کی بڑی تعداد بھی جنازے میں شریک تھی۔ اس سے قبل نماز جنازہ میں تاخیر ان کی بیوہ اور بیٹے نوابزادہ جمال رئیسانی کی تھائی لینڈ سے آمد کی وجہ سے ہوئی۔ دونوں تھائی لینڈ سے کراچی پہنچے جہاں سے انہیں خصوصی طیارے کے ذریعے کوئٹہ لایا گیا۔ سی ایم ایچ کوئٹہ میں بیوہ اوربیٹے نے سراج رئیسانی کا آخری دیدار کیا۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شہید کے لواحقین سے ملاقات کی اور انہیں دلاسہ دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف نے سراج رئیسانی کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ آرمی چیف نے سراج رئیسانی کو پاکستان کا سپاہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک محب وطن پاکستانی کھو دیا ہے جسے ہمیشہ پاکستان کے لیے خدمات کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔

آرمی چیف نے سراج رئیسانی کے خاندان کی تین نسلوں کی قربانیوں کو بھی تسلیم کیا۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی تک امن کی منزل حاصل نہیں کی ہے لیکن ہم کامیابی سے اپنی منزل کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔پاک فوج کے سپہ سالار کا کہنا تھا کہ بحیثیت قوم ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے چیلنج کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ہم انہیں شکست دیں گے۔

آخری دیدار کے بعد میت جنرل موسیٰ اسٹیڈیم پہنچائی گئی جہاں نماز جنازہ کے بعد پاک فوج کے دستوں نے شہید کی میت کو ایمبولنس کے ذریعے سراوان ہاؤس کوئٹہ منتقل کیا۔اس کے بعد میت قافلے کی صورت میں مستونگ میں آبائی علاقے کانک پہنچائی گئی۔ 

کانک میں بھی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد سراج رئیسانی کو آبائی قبرستان میں والد نواب غوث بخش رئیسانی، بھائی اسماعیل رئیسانی اور بیٹے حقمل رئیسانی کے پہلو میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ واضح رہے کہ سراج رئیسانی کے والد، بھائی اور بیٹے بھی مختلف قاتلانہ حملے میں شہید ہوئے۔

تدفین کے موقع پر سراج رئیسانی کے بھائی سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی، بیٹے نوابزادہ جمال رئیسانی کے علاوہ دیگر قریبی رشتہ دار بھی موجود تھے تاہم تدفین کے موقع پر سیکورٹی خدشات کی وجہ سے عام شہریوں کو قبرستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

سیکورٹی کے بھی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ ایف سی کی بھاری نفری قبرستان کے باہر تعینات رہی۔ تدفین کے بعد ایف سی اہلکاروں نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ، کمانڈر سدرن کمانڈ، آئی جی ایف سی، سیکٹر کمانڈر سمیت دیگر اعلیٰ فوجی حکام کی جانب سے شہید نوابزادہ سراج رئیسانی کی قبر پر پھول رکھے۔