|

وقتِ اشاعت :   July 17 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوارحاجی محمد خان عرف طوراتمانخیل کو بلوچستان ہائی کورٹ سے ضمانت خارج ہونے پر گرفتار کرلیا گیا۔ 

انہیں جعلی ڈگری کیس میں لورالائی کی عدالت نے تین سال قید کی سزا سنا ئی ہے۔سیشن کورٹ کے فیصلے کے بعد محمد خان طوراتمانخیل نے بلوچستان ہائی کورٹ میں ضمانت کیلئے درخواست دائر کر رکھی تھی۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مجرم کی درخواست ضمانت خارج کردی جس پر انہیں160 عدالت کیباہر سے گرفتار کرلیاگیا۔

محمد خان طورتمانخیل لورالائی سے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 4 پر بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار ہیں۔2008ء میں لورالائی سے بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہونیوالے حاجی محمد خان طور اتمانخیل پر پر الزام ہے کہ انہوں نے 2008ء کے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کاغذات نامزدگی کے ساتھ کراچی یونیورسٹی کی جعلی ڈگری160 جمع کرائی تھی۔ 

سپریم کورٹ کے 2010ء کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے امیدواروں کی160 ڈگریوں کی تحقیقات کرائی تو محمد خان طور اتمانخیل اپنی تعلیمی 160ڈگری کو اصلی ثابت کرنے میں ناکام ہوئے۔ 

اس کے بعد160 ریجنل الیکشن کمیشن لورالائی نے سابق ایم پی اے کے خلاف لورالائی کی سیشن عدالت میں عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعات 160اور تعزیرات پاکستان کی جعل سازی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا تھا۔

13 جولائی کو سیشن جج لورالائی محمد جمشید خان نے جرم ثابت ہونے پر محمد خان طوراتمانخیل کو مجموعی طور پر آٹھ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ انہیں عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 82 کے تحت تین سال قید، تعریزت پاکستان کی دفعہ 199 کے تحت ایک سال قید ، دفعہ 200 کے تحت ایک سال،دفعہ 471اور 468 کے تحت تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم تمام سزاؤں پر عملدرآمد ایک ساتھ شروع ہوں گی اس طرح محمد خان طور اتمانخیل کو صرف تین سال قید میں گزارنا ہوں گے۔