|

وقتِ اشاعت :   July 18 – 2018

کوئٹہ: قومی احتساب بیورو (نیب) نے160 بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء سابق سینیٹر نوابزادہ لشکری رئیسانی کو طلب کیا جس پر وہ نیب کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا بیان قلمبند کرایا۔

نوابزادہ لشکری رئیسانی کو 16جولائی بروز پیر کو اس وقت طلب کیا گیا جب وہ مستونگ خودکش بم دھماکے میں شہید ہونیوالے اپنے چھوٹے بھائی نوابزادہ سراج رئیسانی کی تعزیت کیلئے بیٹھے ہوئے تھے اور فاتحہ خوانی کا دوسرا تھا۔ لشکری رئیسانی فاتحہ خوانی چھوڑ کر نیب بلوچستان کے کوئٹہ میں واقع ہیڈکوارٹر میں پیش ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نوابزادہ لشکری رئیسانی نیب کی جانب سے صوبے کی روایات کی پاسداری نہ کرنے اور فاتحہ160 والے دن طلب کرنے پر برہم دکھائی دیئے۔انہوں نے نیب کے حکام کو کھری کھری سنائی۔

لشکری رئیسانی نے اپنے اور اپنے بڑے بھائی نواب اسلم رئیسانی پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ مہر گڑھ کے متاثرین میں رقوم کی تقسیم عدالت کے فیصلے کے مطابق ہوئی اور اس میں کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہوا۔رئیسانی خاندان کے قریبی حلقوں نے نیب کے اس رویے پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ صوبے کی تاریخ کے ہولناک ترین سانحے پر جب پورا ملک رئیسانی خاندان اور متاثرین کے غم میں شریک ہورہا ہے ۔

ایسے میں نیب کی جانب سے فاتحہ والے دن شہید نوابزادہ سراج رئیسانی کے بڑے بھائی کی طلبی مذہبی و اخلاقی روایات کے منافی اقدام ہے۔ نیب چند دنوں کے وقفے کے بعد بھی انہیں طلب کرسکتا تھا۔

لشکری رئیسانی کے بڑے بھائی سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے خلاف بطور وزیراعلیٰ اختیارات کے غلط استعمال اور غیر قانونی بھرتیوں جیسے الزامات کی نیب تحقیقات کررہا ہے اور اس سلسلے میں بتایا جارہا ہے کہ نیب کی جانب سے انتخابات کے بعد سابق وزیراعلیٰ کیخلاف دو ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کئے جائیں گے۔

نواب اسلم رئیسانی کیخلاف گزشتہ سال دسمبر میں قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹیو بورڈ نے تحقیقات کی منظوری دی تھی۔ان پر مہر گڑھ کے متاثرین کی بحالی اور نقصانات کے ازالے کی مد میں غیر قانونی طور پر حکومت بلوچستان سے Compensation کی مد میں 81کروڑ روپے وصول کرنے اور بھائی نوابزادہ لشکری رئیسانی سمیت دیگر رشتہ داروں میں غیرمنصفصانہ تقسیم کا الزام ہے۔ 

نیب سمجھتی ہے کہ رقوم کی تقسیم میں بدیانتی کی گئی اور حقیقی متاثرین کو نظر انداز کیاگیا۔واضح رہے کہ رئیسانی قبائل کی جانب سے الزام لگایا جاتا ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں سابق وفاقی وزیر نے قبائلی دشمنی کی وجہ سے رئیسانی قبائل کی ملکیت مہر گڑھ پر حملہ کرکے زراعت اور املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔ جب نواب اسلم رئیسانی کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی بلوچستان میں حکومت بنی تو مہر گڑھ کے نقصانات کے ازالہ کی خاطر رقم لی گئی۔