|

وقتِ اشاعت :   August 3 – 2018

کوئٹہ: عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے پارٹی کی صوبائی قیادت کے اس فیصلے کی توثیق کردی ہے جس کے تحت بلوچستان میں حکومت سازی کیلئے بلوچستان عوامی پارٹی کیساتھ اتحاد کیا گیا۔

اے این پی مرکز میں اپوزیشن اتحاد کا حصہ بنی ہیں اور دھاندلی کے خلاف سخت گیر مؤقف اپنایا ہے تاہم بلوچستان میں اس نے ان جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر رکھا ہے جو مرکز میں حکومت کا حصہ بن رہی ہیں۔

اے این پی کوئٹہ دفتر کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی صوبائی پارلیمانی بورڈ ، پارلیمانی پارٹی ، صوبائی کابینہ ، مرکزی عہدیداران کا اجلاس پارٹی کے بزرگ رہنماء ڈاکٹر عنایت اللہ خان کی رہائش گاہ پر ہوا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی صدر و پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے کیا۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال و صوبے کے حالات پر تفصیل سے غور و خوض ہوا۔ 

اجلاس میں گزشتہ دنوں بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ اتحاد کی توثیق کی گئی اور اس بارے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کو اعتماد میں لیا گیا۔جس پر مرکزی صدر نے بھی صوبے کے سیاسی صورتحال ، معروضی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبائی پارٹی کی حکومت سازی سے متعلق کئے گئے اقدامات اور اتحاد کی توثیق کی۔

بیان میں بتایا گیا کہ اجلاس میں ملکی سطح پر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے جو حالات بنتے جارہے ہیں وہ ملک کے استحکام ، جمہوری ماحول کی قیام ، ملک کو درپیش سیاسی سٹریٹیجک صورتحال کو سنبھالا دینے میں معاون و مددگار ثابت ہوگی۔ الیکشن کمیشن جلد از جلد اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات اور خدشات کو دور کرکے ان کی تسلی کے لئے اقدامات اٹھائیں۔ 

اجلاس میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ سابق ادوار میں صوبے کے دیرینہ حل طلب مسائل سے چشم پوشی اختیار کی گئی اور یہاں پر آباد دوست برادر اقوام پشتون ، بلوچ ، ہزارہ اور آبادکاروں کے بنیادی انسانی حقوق کو پس پشت ڈالتے ہوئے ذاتی گروہی مفادات کو اولیت دی گئی۔ 

امن وامان کے مخدوش صورتحال ، صوبے کے میگامعاشی منصوبوں باالخصوص سی پیک مغربی روٹ پانی و بجلی کی قلت ، زراعت کی ترقی کو صرف نظر انداز کیا گیا۔ ان محرومیوں کے ازالے کے لئے پارٹی ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی تاکہ سالوں سال جاری احساس محرومی کا خاتمہ کیا جاسکے۔