کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ نے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی احمد علی کہزاد کی پاکستانی شہریت سے متعلق مقدمے پر محفوظ کر لیا۔نومنتخب ایم پی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں شناختی کارڈ منسوخ کر نے سے قبل کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔
احمد علی کہزادکی پاکستانی شہریت کیس کی سماعت بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نعیم اخترافغان اورجسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل بینچ نے کی۔نو منتخب ایم پی اے عدالت میں پیش نہیں ہوئے ان کی جانب سے وکیل ہمایوں ترین ایڈوکیٹ پیش ہوئے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خلیل الزماں،ڈپٹی اٹارنی جنرل اور نادرا کے لاء آفیسر بھی سماعت میں موجود تھے۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے احمد علی کہزاد پر افغان شہری ہونے اورریکارڈ میں جعل سازی کر کے پاکستانی شہریت حاصل کرنے کا الزام ہے۔
احمد علی کہزاد کو نادرا کی جانب سے شناختی کارڈمنسوخ ہونے کی بناء پر انتخابات میں اجازت نہ ملی تو انہوں نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ سے حکم امتناع لے کر انتخاب لڑا اور پی بی پی بی 26کوئٹہ سے بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے۔گزشتہ سماعت پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے عدالت کو تحریری طور پر بتایا گیا کہ نادرا نے احمد علی کہزاد کو غیرملکی قرار دے دیا ہے۔
پیر کو سماعت شروع ہوئی تو احمد کوہزاد کے وکیل ہمایوں ترین ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شناختی کارڈ بلاک کرنے سے پہلے ان کے مؤکل کو نوٹس نہیں دیا گیا۔احمد کوہزاد غیرملکی نہیں بلکہ پاکستانی شہری ہیں۔ وہ ا س سے پہلے نہ صرف یونین کونسل ناظم رہے بلکہ 2013ء کے انتخاب میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ احمد کہزاد کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی گئی۔ جسٹس نعیم اختر افغان کے پوچھنے پر نادرا کے لاء آفیسر نے بتایا کہ احمد علی کہزاد کی تاریخ پیدائش 1977 ہے جبکہ ان کا برتھ سرٹیفکیٹ29جون 2004کو بنایا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت داخلہ کے توسط سے نادرا نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو احمد علی کہزاد کے ریکارڈ سے متعلق مراسلہ بھیجا تھا جس کا تک کوئی جواب نہیں موصول ہوا۔
شناختی کارڈ سے متعلق کیس تاحال محکمہ داخلہ میں زیرالتواء ہے۔ہمایوں ترین ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ چونکہ احمد علی کہزاد انتخابات جیت چکے ہیں اور معاملہ اب تک محکمہ داخلہ میں زیر التواء ہے تو عدالت عالیہ کے دوسرے بنچ کی جانب سے دیئے گئے حکم امتناع کو برقرار رکھا جائے۔
اس موقع پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ اس سے قبل عدالت نے عبوری حکم کس بنیاد پر دیا تھا اس کی نوعیت کو دیکھیں گے۔ عدالت کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ درخواست گزار الیکشن جیتے ہیں یا ہارے ہیں۔ ہم نے صرف ان کی شہریت، شناختی کارڈ اور دستاویزات کے معاملے کو دیکھنا ہے۔
نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی کے وکیل کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔عدالت کا کہنا تھا کہ محفوظ فیصلہ جلد سے جلد سنایا جائیگا۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ عدالت کی جانب سے احمد علی کہزاد کی شہریت سے متعلق فیصلہ منگل کو سنادیا جائیگا۔
رکن اسمبلی احمد علی کہزاد کی پاکستانی شہریت سے متعلق مقدمے پر فیصلہ محفوظ
![]()
وقتِ اشاعت : August 7 – 2018