کوئٹہ: تربت میں بم نصب کرنے کے دوران زخمی ہونیوالا دہشتگرد دم توڑ گیا۔ لاش کرایے کے ایک مکان سے برآمد کرلی گئی۔ معاونت کے الزام میں مکان مالک سمیت چار مشتبہ افرا د کو حراست میں لے لیا گیا۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق کیچ کے ضلعی ہیڈکوارٹر تربت میں یو بی ایل چوک پر چھ اگست کی رات کو کچہرے کے ڈھیر کے ساتھ ایک دھماکا ہوا تھا۔ دھماکے سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تاہم جب قانو نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکارموقع پہنچے تو انہیں کچرہ دان کے قریب خون کے دھبے نظر آئے۔
تفتیش مبینہ کرنیوالے اہلکاروں نے ابتدائی تحقیقات میں یہ اخذ کیا کہ بم نصب کرتے ہوئے دھماکا ہوا جس میں دہشتگرد خود زخمی ہوا اور موقع سے فرار ہوگیااور ایک مکان میں رپوش ہوگیا۔
اس خدشے کے پیش نظر شہر میں زخمی دہشتگرد کی تلاش کیلئے سرکاری و نجی ہسپتالوں اور کلینکس کی کڑی نگرانی کی گئی۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق اس دوران حساس ادارے کو خفیہ اطلاع ملی کہ زخمی دہشتگرد کو گاڑی کے ذریعے علاج کی غرض سے تربت سے ایران منتقل کیا جاسکتا ہے جس پر شہر بھر میں ناکے لگا کر مشتبہ گاڑیوں کی تلاشی لی گئی۔
سخت سیکورٹی کے باعث زخمی دہشتگرد کو علاج کیلئے شہر سے باہر نہیں لے جایا جاسکا جس کے بعد وہ دم توڑ گیا۔
آج دہشتگرد کی لاش تربت کے علاقے آبسر میں کرایے کے ایک مکان سے ملی۔ شناختی کارڈ کی مدد سے اس کی شناخت ہوشاب کے رہائشی اختر علی ولد حامد کے نام سے ہوئی۔
مکان سے ادویات اور میڈیکل سامان کے علاوہ دو ڈیٹونیٹر، کلاشنکوف، پستول اور رائفل کی گولیاں، آئی ای ڈی ریموٹ بھی برآمد ہوئے۔
کارروائی کے دوران دھماکے سے متاثرہ اس کچرے دان کا ٹکڑا بھی ملا جس میں دہشتگرد نے بم رکھنے کی کوشش کررہا تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے بعد دہشتگرد کو اس کے ساتھیوں نے شدید زخمی حالت میں مذکورہ مکان میں روپوش ہونے کیلئے پہنچایا تھا اور یہاں ان کے ساتھی اس زخمی تخریبکار کے علاج معالجے میں مصروف تھے مگر بدھ کو جب فورسز نے مکان پر چھاپہ مارا تو باقی ملزمان وہاں سے فرار ہوچکے تھے اور زخمی دہشتگرد دم توڑ گیا تھا۔
ضروری کارروائی کے بعد لاش ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال تربت منتقل کردی گئی۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے دہشتگرد کو مکان کرایے پر دینیوالے مالک اور ہلاک دہشتگرد کو علاج کی غرض سے بیرون ملک لے جانے کی کوشش میں مدد دینے کے الزام میں گاڑی ڈرائیور سمیت چار مشتبہ افراد کو حراست میں ے لیا ہے۔