|

وقتِ اشاعت :   August 10 – 2018

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر میر حاصل خان بزنجو کا کہنا ہے کہ انتخابات میں بد ترین دھاندلی کرکے نیشنل پارٹی سمیت جمہوری قوتوں کو اٹھارہویں ترمیم، جمہوریت اور پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی گئی۔

کوئٹہ پریس کلب میں پارٹی کے دیگر مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حاصل خان بزنجو کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کااجلاس سات اور آٹھ اگست کو کوئٹہ میں ہوا جس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ 

کمیٹی کے جلاس میں پارٹی کی کارکردگی اورانتخابات کاجائزہ لیاگیا پارٹی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نکال دیا جبکہ اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کردئیے گئے ہیں جواب سے مطمئن نہ ہوئے تو خلاف وزری کرنے والوں کو پارٹی سے نکال دیں گے۔

اس موقع پر سینیٹر طاہر بزنجو،سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ، سینیٹر میر کبیر محمد محمد شہی، میر محراب مری، یاسمین لہڑی، میر عطاء محمد بنگلزئی، ڈاکٹر اسحاق بلوچ، میر صالح بلوچ، علی احمد لانگو،نیاز احمد بلوچ ، میر عطاء الرحمان سمیت دیگر پارٹی عہدیداران بھی موجود تھے۔ 

حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی نے حالیہ انتخابات کو فراڈ قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طورپر مسترد کیا ہے ۔اسٹبلشمنٹ نے جمہوری قوتوں کو ہرانے کیلئے تمام حربے استعمال کئے ۔ان کا کہناتھا کہ دھاندلی کا آغاز اس مرتبہ بلوچستان سے کیا گیا جب الیکشن سے قبل جمہوری حکومت کو ختم کر کے نئی جماعتیں بنائی گئیں ۔

قبل ازانتخابات دھاندلی کی گئی جب اس سے کام بنتا نظر نہیں آیا تو لوگوں کو دھمکایا گیا کہ آپ نئی جماعت میں شامل ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکران ڈویژن میں مذکورہ جماعت کے ایسے امیدوار بھی تھے جو لو گوں کو کہتے تھے کہ ہمیں انتخابی مہم چلانے کی ضرورت نہیں اور ہم آسانی سے جیت جائیں گے ۔

اس طرح سرکاری جماعت کے امیدواروں کو کامیابی دلائی گئی۔ حاصل بزنجو نے الزام عائد کیاکہ ملک بھر میں الیکشن 25جولائی کو منعقدہورہے تھے لیکن مکران اور آواران میں فورسز کی سرپرستی میں24جولائی کو ٹھپے لگانے کا سلسلہ شروع کیاگیا۔پچیس جولائی کو بھی چھ بجے کے بعد فورسز کے کیمپوں میں ٹھپے لگائے گئے اور رات گئے نتائج تبدیل کئے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ خودخود آواران میں تھے جہاں نیشنل پارٹی کے امیدوار خیر جان بلوچ 1600 ووٹوں کی برتری سے کامیاب تھے اسی طرح بارکھان سے پارٹی امیدوار کریم کھیتران کو برتری حاصل تھی مگر دونوں کی جیت کو شکست میں تبدیل کیا گیا ۔

ریٹرننگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر آگاہ کرنے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔ ایک شخص دس سال تک علاقے میں جاتا نہیں اور جب انتخابات میں حصہ لیتا ہے تو اسے ہزاروں کی تعداد میں ووٹوں سے کامیاب کرایا جاتا ہے ۔

حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ اسی طرح کی دھاندلی باقی صوبوں میں بھی کی گئی اور جمہوریت اور پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑی سیاسی جماعتوں کا مینڈیٹ چرا کر منظور نظر لوگوں کو کامیاب کرایاگیا۔اسٹیبلشمنٹ نے انتخابات کا حلیہ بگاڑ دیا ۔تمام حربوں کے باوجود ہم دوبارہ جمہوریت اور بلوچستان کے وسائل کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے عوام نے ہم پر جو اعتماد کیا ہے ہم ان کا شکریہ ادا کر تے ہیں۔

حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ انتخابی نتائج کاہمیں پہلے سے علم تھا یہ سزا ہمیں جمہوری طاقتوں کیساتھ کھڑے ہونے ، پارلیمنٹ کی بالادستی کے حوالے سے دی گئی ہے جس کا اندازہ ہمیں پہلے ہی ہو چکا تھا ۔ جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اپنے منظور نظر لوگوں کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں لایا گیا کیونکہ ایک مختلف علاقوں میں چھاؤنیاں قائم کرنے کا بینہ معاملہ زیر بحث ہے اور ریکوڈک کے حوالے سے وہ اپنی مرضی چاہتے ہین ۔

اسٹیبلشمنٹ نے کھلم کھلا بات کی تھی کہ ہمیں اٹھارویں ترمیم کسی صورت تسلیم نہیں حالانکہ اٹھارویں ترمیم1973 کے آئین میں بہترین تبدیلی تھی اس میں مزید مضبوطی آئی ہے جس کے ذریعے صوبوں کو 70 فیصد مضبوط بنایا گیا ۔ 

نیشنل پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم اٹھارویں ترمیم کے خلاف ہونیوالی سازشوں کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی بھی طرح کسی قانون کے تحت اس کو تبدیل یا ختم کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پارلیمنٹ اور جمہوری قوتوں کیساتھ کھڑے ہیں نیشنل پارٹی صاف اور شفاف انتخابات کیلئے بنے اتحاد کا حصہ ہے اور ہمارایہ اتحاد مضبوط پارلیمنٹ کی کامیابی اور صاف وشفاف انتخابات کرانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔