|

وقتِ اشاعت :   August 14 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان کے منتخب اراکین اسمبلی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت صوبے کی ترقی وخوشحالی کے لئے اقدامات اٹھائیں گے نومنتخب حکومت وفاق سے صوبے کی احساس محرومی ختم کرنے کے حوالے سے بھی سخت اقدام اٹھائیں گے سی پیک جیسے عظیم منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے ۔

وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ ہم متحد ہو کر نئے سفر کیساتھ صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکے ان خیالات کا اظہار نومنتخب اراکین صوبائی اسمبلی قدوس بزنجو ،گہرام بلوچ ، اصغر اچکزئی ، مولوی نور اللہ اسد بلوچ سید احسان شاہ، سردار صالح بھو تانی، نور محمد دمڑ، حاجی محمد خان طور اوتمانخیل، میر نعمت اللہ ز ہری، میر ضیاء اللہ لانگو، نوابزادہ طارق مگسی، سردار بابر موسیٰ خیل، ملک نعیم بازئی ، اصغر علی ترین، عبدالواحد صدیقی نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے قبل میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے کیا ۔

نومنتخب اراکین نے کہا ہے کہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ ملک میں جمہوری نظام مضبوطی کی طرف جا رہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا اس لئے وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا چا ہئے اور خاص کر ملک اور صوبے کے مفاد کے لئے بہتر اقدامات اٹھائے جائے ہمیں امید ہے کہ موجودہ حکومت صوبے کی ترقی وخوشحالی کے لئے اچھے اقدامات اٹھائیں گے اور ہر طرف سے حکومت کو سپورٹ کرینگے اور اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر جائیں گے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو نے کہا ہے کہ اقتدار میں رہیں یا اپوزیشن میں بلوچ جملہ مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہوگی ۔ صوبے میں قیام امن ،نسلی وفرقہ وارانہ تعصب کا خاتمہ کرکے ساحل وسائل کا تحفظ کرینگے ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی اور متحدہ مجلس عمل متفقہ طور پر قائد ایوان اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کرینگے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نزدیک اقتدار یا حزب اختلاف سے زیادہ بلوچ جملہ مسائل کا حل اہمیت رکھتاہے ۔ ان کا کہنا تھاکہ اپنے انتخابی منشور پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے صوبے میں امن وامان قائم ، نسلی اورفرقہ وارانہ تعصب ختم کرتے ہوئے ساحل وسائل کا تحفظ اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے جدوجہد کرینگے ۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم اقتدار کی کرسی کیلئے نہیں آئے جس طرح بلوچستان بھر میں لوگوں اپنی نمائندگی کا اختیار دیا ہے اس مینڈیٹ کا احترام کرینگے، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی کا انتخاب بلامقابلہ ہوگا ۔

ملک کی ترقی کیلئے حکومت اور سیکورٹی ادارے ایک پیچ پر ہیں ۔ بحیثیت اسپیکر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ساتھ لیکر چلونگا۔ پاکستان بہت قربانیوں کے بعد ہمیں ملاہے اس کی قدر کرنی چایئے عوام ملک کی ترقی میں حکومت اور پاک فوج کا ساتھ دیں تاکہ دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک کو ترقی یافتہ بنایا جاسکے ۔

انکا مزید کہنا تھا کہ اسپیکر کے عہدے کیلئے نامزدگی پر اتحادی جماعتوں کا مشکور ہوں میرے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور قائدین سے بہتر تعلقات ہیں جس کی بناء پر امید ہے کہ اسپیکر کے انتخاب میں بلامقابلہ منتخب ہوجاؤنگا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ باقی صوبوں میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن دو روز بعد ہونے جارہا ہے اس لیے بلوچستا ن میں بھی آج ہونے والے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن کے عمل کو آگئے لے گئے ہیں ۔ ان کا کہنا تھاکہ بہتر طریقہ سے ایوان کو چلانے کا تجربہ ہے وہ فیصلے کرینگے جن سے ایوان کی تقدس پامال نہ ہو۔ 

ان کا کہنا تھاکہ اتھادی جماعتوں کی جانب سے جام کمال کو قائد ایوان اور میری بحیثیت اسپیکر کے لیے نامزدگی پر ان جماعتوں کا مشکور ہوں ہم ان کے توقعات پر پورا اتریں گے، بلوچستان نیشنل پارٹی( عوامی) کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر اسد اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ ہم عوام کے ووٹوں کو امانت سمجھ کر یہاں آئے ہیں ہم عوام کی خدمت کرنا چا ہتے ہیں جیو اور جینے دو کی پالیسی کو اپنایا جائے بلوچستان کے تمام جو وسائل ہے ان کو بروئے کار لا کر بلوچستان کے لو گوں پر خرچ کیا جائے ۔

بی این پی عوامی ایک ترقی پسند پارٹی ہے ہم معاشی ، معاشرتی اور سیاسی تبدیلی لانا چا ہتے ہیں میر اسد اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ عام پہلے بھی عوام ہمارے ساتھ تھے اور اب بھی ہمارے ساتھ ہے ہم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں ۔

طاقت کا سرچشمہ ہی عوام ہے ہم پرامن بلوچستان کی خاطر جدوجہد کرنا چا ہتے ہیں بلوچستان کے تمام وسائل یہاں کے لوگوں پر خرچ کیا جائے بی این پی عوامی ایک ترقی پسند پارٹی ہے ہمیں ایک فکر، ایک سوچ کیساتھ یہاں آئے ہیں بلوچستان کے عوام کے مشکلات ومسائل کے حل کے لئے اپنا بھر پور کردا رادا کرینگے ۔

بی این پی عوامی ایک سیاسی ، جمہوری عوامی اور ترقی پسند پارٹی ہے ہم فرسودہ قبائلی نظام کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ عوام کے ووٹوں کو امانت سمجھ کر یہاں آئے ہیں ہم عوام کی خدمت کرنا چا ہتے ہیں جیو اور جینے دو کی پالیسی کو اپنایا جائے بلوچستان کے تمام جو وسائل ہے ۔

ان کو بروئے کار لا کر بلوچستان کے لو گوں پر خرچ کیا جائے بی این پی عوامی ایک ترقی پسند پارٹی ہے ہم معاشی ، معاشرتی اور سیاسی تبدیلی لانا چا ہتے ہیں، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر وپارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ قوم کو امید دلا تا ہوں کہ ان کے حقوق پر کسی بھی صورت سودا بازی نہیں کرینگے ۔

عوامی نیشنل پارٹی نے پارلیمانی وسیاسی روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا اور تمام فیصلے مشاورت سے ہونگے اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ تمام منتخب اراکین اسمبلی کو مبارکباد پیش کر تے ہیں قوم اور عوام کی امانت لے کر آئے ہیں اور ان کے اعتماد کو کسی بھی صورت ٹھیس نہیں پہنچائیں گے بلوچستان کے عوام کو ریلیف دینے کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے اور اسمبلی فلور سے مسائل کو حل کرنے میں اپنا بھرپور کردا رادا کرینگے ۔

تعلیم، صحت کے شعبوں میں بہتری لانے کے لئے مل کر اقدامات اٹھائیں گے، جمہوری وطن پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر گہرام بگٹی نے کہا ہے کہ جمہوری وطن پارٹی اصولوں کی سیاست پر یقین رکھتی ہے صوبے سے کرپشن اور بے روزگاری کا خاتمہ کرینگے اور ملک کی ترقی وخوشحالی کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے ۔

بلوچستان کے مسائل کو بہتر انداز میں حل کرینگے ،ہم سمجھتے ہیں کہ جو اراکین اسمبلی منتخب ہوئے ہیں وہ اپنے علاقے کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردا رادا کرینگے انہوں نے کہا ہے کہ ہم حکومت کے اتحادی ہے اور کرپشن کے خاتمے کے لئے اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے ۔

کیونکہ کرپشن کی وجہ سے مسائل دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں اور کرپشن کے خاتمے کئے بغیر ہم کبھی بھی ترقی وخوشحالی کے بغیر گامزن نہیں ہو سکتے ہیں پارلیمنٹ میں آیا ہوں اور بگٹی قوم کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرونگا اور بگٹی مہا جرین کے مسئلے کو پرامن انداز میں حل کیا جائیگا ۔

متحدہ مجلس عمل کے صوبائی صدر ونومنتخب رکن صوبائی اسمبلی مولوی نور اللہ نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل اور بلوچستان نیشنل پارٹی وزیراعلیٰ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لئے اپنے امیدوار لائیں گے اور ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنی مخلوط حکومت تشکیل پایا متحدہ مجلس عمل حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں عوام کے حقوق کے لئے بھر پور کردار اٹھائیں گے وفاق سے اپنے حقوق کا مطالبہ کر تے رہیں گے ۔

مولوی نور اللہ نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل اور بلوچستان نیشنل پارٹی صوبے میں اپنا مخلوط حکومت بنانے کی کوشش میں ہے ہماری ہی موقف ہے کہ ہم حکومت بنائیں انہوں نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل اور بی این پی مشاورت کر کے قائد ایوان کے لئے اپنا امیدوار لائیں گے ۔

سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب بھی لڑیں گے سپیکر کے لئے حاجی نواز کاکڑ اور ڈپٹی سپیکر کے لئے احمد نواز بلوچ کو نامزد کر دیا گیا ہے،بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی سید احسان شاہ نے کہا ہے کہ انکی پارٹی صوبائی اسمبلی میں چھ جماعتی اتحاد کا حصہ ہے صوبے میں قائد ایوان جام کمال ہونگے ۔

اتحادی جماعتوں نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کے لیے قدوس بزنجو کے نام پر اتفاق کرلیا ہے تاہم ڈپٹی اسپیکر کیلئے اب تک کسی کا نام زیر غور نہیں آیا ہے ۔