کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں نصف سے زائد نئے چہرے سامنے آگئے ہیں۔پہلی بار صوبائی اسمبلی میں قدم رکھنے والے نوجوان اور خواتین ارکان نے کچھ کر دکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔بلوچستان کی گیارہویں اسمبلی میں بڑی تعداد میں نئے سیاسی چہرے نمود ہوئے ہیں۔ رکنیت کا حلف اٹھانے والے 58میں سے 35ارکان پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کا حصہ بنے ہیں۔
ان میں متو قع وزیراعلیٰ جام کمال خان، بی این پی کے ثناء بلوچ، پی ٹی آئی کے میر نعمت اللہ زہری اور ایم ایم اے کے سید فضل آغا قومی اسمبلی اور سینیٹ میں صوبے کی نمائندگی کرچکے ہیں مگر صوبائی اسمبلی میں پہلی بار قدم رکھاہے۔باقی 31ارکان اسمبلی ایسے ہیں جو پہلی دفعہ پارلیمان میں صوبے کی نمائندگی کررہے ہیں۔
نئے چہروں میں دس کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی، چھ کا تعلق ایم ایم اے اور پانچ،پانچ کا تعلق تحریک انصا ف اور بی این پی سے ہیں۔اے این پی کے تین، ایچ ڈی پی اور جے ڈبلیو کا ایک ایک رکن بھی پہلی مرتبہ اسمبلی پہنچا ہے۔ خواتین اور اقلیت کی تیرہ مخصوص نشستوں میں سے بارہ پر منتخب ہونیوالے بھی پہلی بار ایم پی اے بنے ہیں۔
پہلی دفعہ بلوچستان اسمبلی کا حصہ بننے والوں میں19ارکان عمومی نشستوں پر کامیاب ہوکر آئے ہیں۔ ان میں بی اے پی کے نور محمد دمڑ، سکندر عمرانی، میر ضیاء لانگو، عبدالرؤف رند، مٹھا خان کاکڑ، میر محمد عارف محمد حسنی ، ایم ایم اے کے مولانا نور اللہ، اصغر علی ترین، محمد یونس عزیز زہری شامل ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے احمد نواز بلوچ ،نصیر احمد شاہوانی ،پی ٹی آئی کے سردار بابر خان، نصیب اللہ مری، عمر خان جمالی، محمد مبین خلجی ، اے این پی کے محمد اصغر خان اچکزئی، ملک محمد نعیم بازئی ،ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ اور جمہوری وطن پارٹی کے نوابزادہ گہرام بگٹی نے بھی پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے ۔
خواتین کی10میں سے 9مخصوص نشستوں پر منتخب ہونیوالی خواتین بھی پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی پہنچی ہیں۔ ان میں بلوچستان عوامی پارٹی کی لیلیٰ ترین، مہ جبین شیران اور بشریٰ رند، متحدہ مجلس عمل کی بانو بی بی زوجہ خلیل احمد اور زبیدہ اللہ داد کاکڑ، بلوچستان نیشنل پارٹی کی زینیت شاہوانی ایڈووکیٹ اورشکیلہ نوید دہوار قاضی، عوامی نیشنل پارٹی کی بی بی شاہینہ کاکڑاور تحریک انصاف کی فریدہ بی بی شامل ہیں۔
بلوچستان عوامی پارٹی ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی اس سے قبل2002ء میں جمہوری وطن پارٹی کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوچکی ہیں۔ اقلیت کی مخصوص نشست پر منتخب ہونیوالے بلوچستان عوامی پارٹی کے دنیش کمار، متحدہ مجلس عمل کے شام لعل اور بی این پی کے ٹائٹس جانسن بھی پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ پہلی بار اسمبلی کا حصہ بننے والے ارکان کچھ کردکھانے کا عزم بھی رکھتے ہیں۔
بلوچستان اسمبلی ، نصف سے زائد نئے چہرے سامنے آگئے، نئے اراکین کا کچھ کر دکھانے کا عزم
![]()
وقتِ اشاعت : August 14 – 2018