|

وقتِ اشاعت :   August 14 – 2018

کوئٹہ : پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ جام کمال کو اختیار ہے کہ وہ ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ کس جماعت کو دیتے ہیں، وزارتیں لینے کیلئے نہیں آئے بلوچستان میں وزارت اعلیٰ اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی کے انتخابات میں تحریک انصاف نے بی اے پی کی حمایت کا اصولی فیصلہ کیا ہے ۔

صوبے میں حکومت یا آزاد بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ آگے جا کر کریں گے ۔ بلوچستان اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اقتدار کی سیٹوں پر بیٹھیں اپوزیشن یاآزاد بینچوں پر بلوچستان کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرینگے ۔

بلوچستان اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے عوام کی بہتر نمائندگی کا حق ادا کرینگے ۔ ان کا کہنا تھاکہ بلوچستان عوامی پارٹی کو اگر ہماری ضرورت ہے توہم بیٹھنے کو تیار ہیں ہم جمہوری طریقے سے صوبے میں مخلوط حکومت کا حصہ بننا چاہتے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی صوبائی اسمبلی میں اکثریتی جماعت ہے ہم نے اپنے پارٹی چیئرمین کے اس سے کئے وعدہ کے تحت زیراعلیٰ بلوچستان اوراسپیکر بلوچستان اسمبلی کے انتخابات میں ان کی حمایت کرینگے اور اس کے بعد آگے چل کر فیصلہ کرینگے کہ ہمیں آزاد بینچوں پر بیٹھنا ہے یا حکومت میں ان کا کہنا تھا کہ جام کمال کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی کس کو بناتے ہیں تاہم تحریک انصاف نے یہ منصب لینے سے معذرت کا اظہار کیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں نہ خود کرپشن کرینگے نہ کسی کو کرنے دینگے ۔ بلوچستان اسمبلی کا ایوان عوام کی ترجمانی کرے گا عوام کی نمائندہ جماعتوں کو سا تھ لیکر ایسی قانون سازی کرینگے جس سے عوام کی روز مرہ زندگی میں بہتری آسکے اور ان کے حقوق کا دفاع ہو۔ 

ان کا کہنا تھاکہ بلوچستان اسمبلی میں منتخب ہوکر آنے والے تحریک انصاف کے اراکین نوجوان ہیں جن کے بر عکس بی اے پی میں تجربہ کار لوگ موجود ہیں وہ اسپیکر کے منصب کو بہتر انداز میں چلاسکتے ہیں ۔ 

ان کا کہنا تھا کہ عوام کا احسان مند ہو جنہوں نے مشکلات حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ہمیں ایوانوں تک پہنچا اور ان کو یقین دلاتا ہوں جنہوں نے پارٹی کو ووٹ دیا ہے یا نہیں ان کے حقوق کا دفاع کرینگے ۔