|

وقتِ اشاعت :   August 15 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی نے مرکزی حکومت میں تحریک انصاف سے رائیں جدا کرلیں ۔ زبیدہ جلال نے جام کمال کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا۔ صوبے میں حکومت بنانے کیلئے جمعیت اور بی این پی متحرک قائد ایوان کیلئے تحریک انصاف کے صوبائی صدر کے نام پر حامی بھر لی۔

اسپیکر کا عہدہ بھی تحریک انصاف کے حصے میں آئیگا۔ حکومت سازی میں اے این پی ، ایچ ڈی پی ، بی این پی عوامی، جے ڈبلیو پی کو بھی شمولیت کی دعوت دی جائیگی ۔گزشتہ روز اسلام آباد میں بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی زبیدہ جلال کی زیر صدارت منعقدہ ہوا جس میں اراکین قومی اسمبلی نے وفاق میں تحریک انصاف کی جانب سے وزارتیں نہ دینے پر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات میں تحریک انصاف کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

مرکزی میں بلوچستان عوامی پارٹی کی متوقع پارلیمانی لیڈر زبیدہ جلال نے تحفظات سے پارٹی کے سربراہ جام کمال کو آگاہ کردیا ہے ۔ صوبے میں بھی تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی کے درمیان حکومت سازی سے متعلق ڈیلاک برقرار ہے ۔

گزشتہ روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے صوبائی صدر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈیلا ک برقرار رہنے کی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اگر اگر جام کمال کو ہماری ضرورت ہے تو وہ ہم سے جمہوری طریقہ اختیار کرتے ہوئے بات چیت کریں ۔

ہم نے صوبے میں پارٹی چیئرمین کی جانب سے بی اے پی کی حمایت کرنے پر وزارت اعلیٰ اور اسپیکر شب کیلئے انکی حمایت کا فیصلہ کیا ہے تاہم ہم حکومت میں نہیں بلکہ اپوزیشن کے بیچوں پر بیٹھیں گے ۔

اجلاس سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بی این پی کے رکن اسمبلی اختر حسین لانگو کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے اندر جا کر پتہ چلے گا کہ ہم حکومت کا حصہ ہوں گے یا اپوزیشن کا تاہم جو فیصلہ بھی کرینگے صوبے کے عوام کی فلاح وبہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے کرینگے ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جام کمال کا تحریک انصاف سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے اور تحریک انصاف کے درمیان رابطے برقرار ہیں ۔ تاہم ہم بلوچستان اسمبلی میں 24 نشستیں رکھنے والی سب سے بڑی جماعت کے طور پر منتخب ہوکر آئیں ہیں ۔

بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر کیلئے قدوس بزنجوکو نامزد کردیا ہے تاہم ڈپٹی اسپیکر کا نام زیر غور ہے ۔ اسمبلی اجلاس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بی اے پی کی اتحادی جماعت بی این پی عوامی کی رکن اسمبلی نے ڈپٹی اسپیکر سے متعلق جام کمال کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ میری موجودگی میں کسی بھی اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر کیلئے کسی کانام زیر غور نہیں آیا ہے ۔

بی این پی اور ایم ایم اے میں ایک سے زاہد ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں دونوں سیاسی جماعتوں نے صوبے میں وزیراعلیٰ اور اسپیکر شپ پی ٹی آئی کو دینے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے ۔ تینوں جماعتیں ڈپٹی اسپیکر کیلئے جمعیت کے رکن اسمبلی کے نام پر غور کررہی ہیں۔سیاسی مبصرین سردار اختر مینگل کی صوبائی اسمبلی کی نشست خالی چھوڑ کر مرکز میں قومی اسمبلی کی نشست کا حلف اٹھانے کو بھی اسی سلسلہ کی ایک کھڑی قرار دے رہے ہیں ۔

صوبائی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کیلئے یونس عزیز زہری مضبوط امیدوار ہونگے ۔ سردار اختر مینگل اور مولانا عبدالغفور حیدری کی اسلام آباد میں موجودگی کے بعد تحریک انصاف کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند بھی بنی گالہ پہنچ گئے ہیں۔جہاں وہ پارٹی چیئرمین عمران خان سے صوبے میں حکومت سازی سے معلق اہم مشاورت کرینگے ۔