کوئٹہ: جام کمال خان بلوچستان کے 17ویں منتخب وزیراعلیٰ ہیں۔ بلوچستان کی تین شخصیات نہ صرف خود وزرا اعلیٰ کے منصب پر فائز رہیں بلکہ ان کے صاحبزادوں نے بھی مختلف ادوار میں صوبے کی بھاگ دوڑ سنبھالی۔ جام غلام قادر ، نواب ذوالفقار علی مگسی اور ظفر اللہ جمالی دو دو دفعہ بلوچستان کے منتخب وزیراعلیٰ اور نگراں وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔ جام خاندان کی تیسری نسل کو وزیراعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔
بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ عطاء اللہ مینگل تھے جو یکم مئی 1972 سے 13 فروری 1973 تک رہے۔ ان کا تعلق اس وقت نیشنل عوامی پارٹی سے تھا۔ 13فروری 1973 کو ان کی حکومت برطرف کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا۔
بلوچستان کے دوسرے وزیر اعلیٰ پیپلز پارٹی کے جام غلام قادر تھے جو 27 اپریل 1973 سے 31 دسمبر 1974 تک رہے۔31 دسمبر 1974 سے 6 دسمبر 1976تک ایک مرتبہ پھر بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا جو 6 دسمبر 1976 تک نافذ رہا۔ بلوچستان کے تیسرے وز یر اعلیٰ سردار محمد خان باروزئی تھے جو 7 دسمبر 1976 سے5 جولائی 1977 تک اس عہدے پر فائز رہے ان کا تعلق بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔
5 جولائی 1977 سے 6 اپریل تک 1985 تک ملک میں مارشل لاء4 نافذ رہا۔ 6اپریل 1985کو جام غلام قادر دوسری مرتبہ جبکہ مجموعی طور پر بلوچستان کے چوتھے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ وہ 29 مئی 1988 تک اس منصب پر فائز رہے۔
بلوچستان کے پانچویں وزیر اعلیٰ میر ظفر اللہ جمالی منتخب ہوئے جو 24 جون 1988 سے 24 دسمبر 1988 تک اس منصب پر فائز رہے ان کا تعلق اس وقت اسلامی جمہوری اتحاد سے تھا۔
ظفر اللہ جمالی اکثریت ثابت نہ کرنے پر ٹوٹ گئی۔ بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس خدا بخش مری 24 دسمبر 1988 سے5 فروری 1989 تک قائمقام وزیراعلیٰ بلوچستان کے منصب پر فائز رے۔ نواب اکبر بگٹی 5 فروری 1989 کو چھٹے وزیر اعلیٰ بلوچستان منتخب ہوئے جو 7 اگست 1990 تک اس منصب پر فائز رہے ان کا تعلق اس وقت بلوچستان نیشنل الائنس سے تھا۔نواب بگٹی کے داماد ہمایوں خان مری 7 اگست 1990 سے 17 نومبر 1990 تک بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ رہے۔
ساتویں وزیر اعلیٰ بلوچستان کا تاج اسلامی جمہوری اتحاد کے تاج جمالی کے سر سجا جو 17 نومبر 1990 سے 22 مئی 1993 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ذوالفقار علی مگسی بلوچستان کے آٹھویں وزیر اعلیٰ تھے جو 30 مئی 1993 سے 19 جولائی 1993 تک اس عہدے پر فائز رہے۔
محمد نصیر خان مینگل 19 جولائی 1993 سے 20 اکتوبر 1993 تک بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔نواب ذوالفقار علی مگسی دوسری مرتبہ اور مجموعی طور پر بلوچستان کے نویں وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ وہ 20 اکتوبر 1993 سے 9 نومبر 1996 تک اس منصب پر فائز رہے۔ظفر اللہ جمالی 9 نومبر 1996 سے 22 فروری 1997 تک بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ رہے۔
بلوچستان کے دسویں وزیر اعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل کے صاحبزادے سردار اختر مینگل تھے جو 22 فروری 1997 سے 29 جولائی 1998 تک اس منصب پر فائز رہے۔ ان کی حکومت کی برطرفی کے بعد جان محمد جمالی بلوچستان کے گیارہویں وزیر اعلیٰ بنے جو 13ا گست 1998 سے 12اکتوبر 1999 اس منصب پر فائز رہے۔
12 اکتوبر 1999 سے یکم دسمبر 2002 تک بلوچستان میں گورنر راج نافذ رہا۔ مسلم لیگ ق کے جام محمد یوسف یکم دسمبر 2002 سے 19 نومبر 2007 تک رہنے والے بلوچستان کے بارہویں وزیر اعلیٰ تھے۔ ان کے والد جام غلام قادر بھی انیس سو تہتر میں وزیراعلیٰ رہے۔
سردار صالح بھوتانی 19 نومبر 2007 سے 8 اپریل 2008 تک بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ رہے۔سابق گورنر بلوچستان نواب غوث بخش رئیسانی کے صاحبزادے پیپلز پارٹی کے نواب اسلم رئیسانی 9 اپریل 2008 سے 14 جنوری 2013 تک بلوچستان کے 12 ویں وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔
14جنوری 2013 کو ان کی حکومت کو معطل کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا جو 13 مارچ 2013 تک نافذ رہا۔ 13 مارچ 2013 کو حکومت بحال ہوئی اور نواب اسلم رئیسانی نے دوبارہ منصب سنبھالا۔
سابق وزیراعلیٰ سردار محمد خان باروزئی کے صاحبزادے نواب غوث بخش باروزئی 23 مارچ کو بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالا۔ڈاکٹر مالک بلوچ بلوچستان کے چودیں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں۔
سابق وزیراعلیٰ سردار محمد خان باروزئی کے صاحبزادے نواب غوث بخش باروزئی 23 مارچ کو بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالا۔ نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ 7 جون 2013ء4 کو بلوچستان کے 14ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔
وہ مری معاہدے کے تحت ڈھائی سالہ مدت پوری ہونے پر 23 دسمبر 2015ء4 پر مستعفی ہوئے تو مسلم لیگ ن کے نواب ثناء اللہ زہری نے وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالا۔ نواب ثناء اللہ زہری جنوری 2018ء میں اپنے ہی جماعت اور اتحادیوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد سامنے آنے پر مستعفی ہوگئے۔ جس کے بعد باغی ارکان کی حمایت سے مسلم لیگ ق کے عبدالقدوس بزنجو صوبے کے 16ویں وزیراعلیٰ بنے۔
وہ 31 مئی 2018ء کو اسمبلی تحلیل ہونے پر سبکدوش ہوگئے تو علاؤ الدین مری نے نگراں وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالا۔ جام کمال خان صوبے کے 17ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں۔ وہ جام خاندان کی تیسری نسل ہیں جنہیں وزیراعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔اس سے قبل ان کے والد جام محمد یوسف اوردادا جام غلام قادر بھی وزیراعلیٰ بلوچستان کے عہدے پر رہ چکے ہیں۔
جام کمال اپنے خاندان سے تیسرے وزیراعلیٰ ہیں
![]()
وقتِ اشاعت : August 19 – 2018