کوئٹہ: جام آف لسبیلہ جام کمال خان عالیانی بلوچستان کے 17ویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھالیا۔ نومنتخب وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لانے اور لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کیلئے طریقہ کار بنایا جائیگا۔ملک اور صوبے کے مفاد میں ہرممکن اقدام اٹھائیں گے۔ صوبے میں اصلاحات کے ذریعے گورننس بہتر بناکر تبدیلی لائیں گے۔ تبدیلی کا عمل وزیراعلیٰ کے دفتر سے شروع کیا جائیگا۔
تفصیلات کے مطابق حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہوئی جس میں گورنر محمد خان اچکزئی نے نومنتخب وزیراعلیٰ جام کمال خان سے حلف لیا۔ جام کمال خان نے پاکستان سے وفاداری، فرائض کی ایمانداری اور آئین و قانون کے مطابق انجام دہی کا حلف لیا۔
انہوں نے اپنے فرائض پاکستان کی خود مختاری، سالمیت، استحکام ، بہبود اور خوشحالی کی خاطر انجام دینے ،تخلیق پاکستان کی بنیاد اسلامی نظریے کے تحفظ ،ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کردار یا فیصلوں پر اثر انداز نہ ہونے ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کو برقرار رکھنے ،اس کے تحفظ اور دفاع کا بھی حلف لیا۔ حلف میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ وہ ہر حالت میں تمام لوگوں کے ساتھ بلاخوف و رعایت اور بلارغبت اور عناد قانون کے مطابق انصاف کریں گے ۔
حلف اٹھانے کے بعد گورنر محمد خان اچکزئی اور جام کمال خان نے حلف نامے پر دستخط کئے۔ اس سے قبل گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کی منظوری سے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کابینہ سیکشن کی جانب سے جام کمال خان کو صوبائی اسمبلی میں اکثریت کا اعتماد حاصل ہونے پر وزیراعلیٰ بلوچستان مقرر ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
حلف برداری کی تقریب میں سبکدوش نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤ الدین مری ، اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو، ڈپٹی اسپیکر سردار بابر خان، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند ، سابق وزراء اعلیٰ جان محمد جمالی، سردار صالح بھوتانی، بلوچستان عوامی پارٹی ،اتحادی جماعتوں تحریک انصاف، اے این پی، ایچ ڈی پی ، بی این پی عوامی اورجمہوری وطن پارٹی کے نومنتخب مرد ، خواتین و اقلیتی ارکان صوبائی اسمبلی سمیت مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں رہنماؤں، قبائلی عمائدین، چیف سیکریٹری بلوچستان ڈاکٹر اختر نذیر ،آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم احمد انجم، آئی جی پولیس بلوچستان محسن حسن بٹ اور دیگر سرکاری افسران نے شرکت کی۔
جام کمال خان کے قریبی رشتہ دار بھی تقریب میں موجود تھے۔ تاہم سابق اسپیکر راحیلہ درانی کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں ایم ایم اے، بی این پی ، مسلم لیگ ن یا پشتونخوامیپ کا کوئی رہنماء حلف برداری کی تقریب میں نظر نہ آیا۔
حلف اٹھانے کے بعد گورنر محمد خان اچکزئی نے نومنتخب وزیراعلیٰ سے مصافحہ کیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ سبکدوش ہونیوالے نگراں وزیراعلیٰ علاؤ الدین مری اور تقریب کے دیگر شرکاء نے بھی جام کمال خان کو وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھانے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
تقریب کے بعد گورنر ہاؤس کے سبزہ زار پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے نومنتخب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ میں وزارت اعلیٰ کا منصب ملنے پر اللہ تعالیٰ کا بڑا شکر گزار ہوں۔بلوچستان کے لوگوں خاص کر پارٹی کے کارکنوں رہنماؤں ، شہداء کے لواحقین تمام کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھ پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے۔صوبے کیچیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی ، ہماری اتحادی جماعتوں سمیت تمام جماعتوں کا ایک منشور ہے ۔ ہم اپنے اور اتحادی جماعتوں کے منشور کو لیکر چلیں گے۔ ہم نے اس بار بلوچستان میں بہت سے چیلنجز کو عبور کرنا ہے اور چیزوں کو آگے لے جانا ہے۔
یہ وہ وقت ہے جب بلوچستان کے ہر شخص کی نظریں ہم پر ،ہماری حکومت اور ہمارے ان نمائندوں پر ہیں جو بلوچستان کے لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے ایوانوں میں پہنچے ہیں۔ جام کمال نے کہا کہ بلوچستان ہمارا ہے اور ہم اس صوبے سے ہے۔ ہماری پیدائش یہی ہے اور ہم نے دفن بھی اسی سرزمین پر ہونا ہے۔
اس کا ہم پر قرض ہے جس کو بہت عرصہ تک نے اگر نہیں چکایا تو شاید وہ وقت اب آگیا ہے۔اگر ہم نے ابھی بھی وقت ،لوگوں کے معاملات اورماضی کی غلطیوں سے نہیں سیکھا اور اسی طرح حکمرانی کی جس سے لوگوں کو فائدہ نہ پہنچا تو بلوچستان کے لوگ آنے والے وقتوں میں ہمیں معاف نہیں کرینگے اور پھرہمیں ایسی ذمہ داریوں پر آنے نہیں دینگے۔
حکومت میں پرانے چہرے شامل ہونے سے متعلق جام کمال خان نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی اور اتحادی جماعتوں کا تجزیہ کریں تو اسمبلی کے اندر 65 فیصد وہ لوگ ہیں جو پہلی دفعہ آئے ہیں اورجنہوں نے ماضی میں کوئی سیٹ حاصل نہیں کی۔ 65 فیصد نئے لوگوں کا آنا ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔
یقیناًہمارے ہاں ایسے بھی لوگ ہیں جو ماضی کی سیاست میں رہے ہیں لیکن ہم نے ایک گورننس میں ایگزیکٹیو سے تبدیلی لانا ہے۔ہم نے اگر وہ تبدیلی وزیراعلیٰ کے دفتر سے شروع ہوگی تو میرا ایمان ہے کہ وہ بلوچستان کے ہر محکمے کی نچلی سطح تک جائے گی اور انشاء اللہ آپ اس تبدیلی کو دیکھیں گے۔
امن وامان اور بنیادی مسائل سے متعلق حکمت عملی سے متعلق سوال پر نومنتخب وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہ اکہ بلوچستان کا سب سے بڑاایشو گورننس ہے۔ اگر گورننس ٹھیک ہوگی تو لیویز، پولیس سمیت آپ کا ہر محکمہ ٹھیک چلے گا۔ انتظامی سیٹ اپ بھی صحیح چلے گا۔
ہمارے ہاں گورننس کا بڑا فقدان ہیا ور شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی اسے درست کرنے میں دلچسپی نہیں لی۔ہم نے اس جانب کوئی پیشرفت ہی نہیں کی۔ یہ چیلنجز بہت بڑے ہیں ہم نے ان چیلنجز کو حل کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ ہم نے اپنے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو بہتر کرنا ہے۔ ہم نے پولیس، لیویز میں اصلاحات لاکر اس کے اسٹرکچر کو بہتر کرنا ہے۔ ہم نے انتظامی سیٹ اپ کو درست کرنا ہے۔ یہ ساری چیزیں آپ کرینگے تو بتدریج اورآہستہ آہستہ مسائل حل ہوں گے اور بہتری آئے گی۔
ناراض لوگوں سے بات چیت سے متعلق انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک ڈیڑھ سال میں ہم نے دیکھا ہے کہ بلوچستان میں بہت سارے عناصر جو ناراض اور پہاڑوں پر تھے اور انہوں نے انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے لوگوں اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے تھے انہوں نے سرنڈر کیا اور قومی دھارے میں آئے۔
بہت سیاسی دھارے میں بھی آئے۔ آج اس دھارے میں بلوچستان کی ایک سیاسی جماعت جس نے خاص کر بلوچستان میں قوم پرستی پر بہت کی اور اس سے اس پارٹی کے لوگوں کو بہت نقصان بھی ہوا۔ آج وہ پارٹی وفاق میں اوراس پارلیمنٹ کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق یا بلوچستان میں حکومت کسی کی بھی ہو ہم نے معاملات کو بہتر کرکے لوگوں کے جائز مسائل حل کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے لوگ شاید اس وجہ سے بھی انتہاء پسندی کی جانب گئے کہ انہوں نے شاید پاکستان یا بلوچستان کی حکومتوں کی جانب سے اپنے علاقوں اور عام زندگی میں بہتری کیلئے اقدامات کرتے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ ناراض ہونیوالے بہت سارے لوگوں کے جائز مسائل بھی ہوں گے اس لئے ہم ان مسائل پر کام کریں گے۔
ہم نے ایوان میں بھی کہا کہ لاپتہ افراد کا بڑا مسئلہ ہے۔اگر بی این پی نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے تو بلوچستان عوامی پارٹی کا ان سے بھی زیادہ یہ ایجنڈا ہے ہم لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کام کریں گے۔ وفاقی حکومت اور اداروں سے بات کریں گے اور ایک باقاعدہ طریقہ کار وضع کریں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ملک میں نظام کو بھی چلانا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بہت سارے ایسے بھی عناصر ہیں جو بیرون ملک تو موجود ہیں مگر شاید بلوچستان کی شورش میں ان کا براہ راست کوئی ہاتھ نہیں مگر ان کے تحفظات بلوچستان ، پاکستان اور یہاں کے نظام کے حوالے سے ہیں۔
بعض عوامی رہنماء اور ایسے عناصر بھی ہیں جو اپنے تنظیموں کے بڑے ہیں اور انتہاء پر جاکر کھڑے ہوئے ہیں لیکن کچھ لوگوں کے مؤقف میں بڑا لچک ہے۔ وہ سوشل میڈیا یا عالمی میڈیا میں آتے ہیں اور اپنا مؤقف بیان کرتے ہیں۔ ہم انشاء اللہ اس مسئلے کو باقاعدہ ایک طریقے سے نمٹائیں گے۔
ملک اور بلوچستان کی بہتری میں ہرممکن اقدام اٹھائیں گے۔ ایک اور سوال پر نومنتخب وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان کی کابینہ عید الاضحی کے بعد تشکیل دی جائے گی۔
ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لانے اور لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کیلئے طریقہ کار بنایا جائیگا ،وزیر اعلیٰ بلوچستان
![]()
وقتِ اشاعت : August 20 – 2018