|

وقتِ اشاعت :   August 26 – 2018

کوئٹہ: وزیراعظم عمران خان نے اور تحریک انصاف کی قیادت نے امیر محمد خان جوگیزئی کو گورنر بلوچستان بنانے سے متعلق فیصلے پر یوٹرن لے لیا۔

ترجمان وزیراعظم ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ امیر محمد خان جوگیزئی کو گورنر بلوچستان بنائے جانے کی خبر میں صداقت نہیں۔اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید بتایا ہے کہ امیر محمد خان جوگیزئی کو گورنر بنانے سے متعلق تجویز زیر غور تھی اور اس سلسلے میں دوستوں سے آراء مانگی گئی تھی مگر بعض شواہد کی بناء پر اس تجویز پر مزید کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ امیر محمد خان جوگیزئی کو گزشتہ روز تحریک انصاف کی سینئر قیادت کے اجلاس میں گورنر بلوچستان بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس تجویز کی وزیراعظم اورچیئرمین تحریک انصاف عمران خان نیتوثیق کی تھی۔ تحریک انصاف کے مرکزی میڈیا سیل کی جانب سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے گورنر بلوچستان کے عہدے کے لیے ڈاکٹر امیر محمد خان جوگزئی کو نامزد کردیا ہے۔

تاہم اب وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امیر محمد جوگیزئی کوگورنر بنانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ صرف تجویز زیر غور تھی۔یاد رہے کہ امیر محمد خان جوگیزئی کی بطور گورنر نامزدگی کے بعد ترجمان قومی احتساب بیور (نیب) کا بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر امیر محمد جوگیزئی کے خلاف تحقیقات آخری مراحل میں ہیں اور جلد ریفرنس دائر کئے جانے کا امکان ہے۔

ترجمان نیب کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر امیر محمد جوگیزئی کے خلاف 2015 میں انکوائری کی منظوری دی گئی تھی جس کی منظوری اس وقت کے چیئرمین نیب قمر زمان کی زیرصدارت ایگزیکٹو بورڈ نے دی تھی۔ڈاکٹر امیر محمد جوگیزئی کوئٹہ کڈنی سینٹر میں چیف ایگزیکٹو تعینات تھے اور ان پر سینٹر کے لیے طبی آلات اور سامان کی خریداری کے فنڈز میں چھ کروڑ روپے خرد برد کا الزام ہے۔

مبینہ بد عنوانی میں ملوث اور ملازمت سے جبری ریٹائرڈ کئے گئے شخص کو گورنر بلوچستان نامزد کرنے پر ٹویٹر، فیس بک اور وٹس اپ پر شہریوں نے تنقید کی تھی۔ اس تنقید کے بعد خبر آئی تھی کہ امیر محمد جوگیزئی نے گورنر کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا ہے لیکن بعد میں عہدہ قبول نہ کرنے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے امیر محمد جوگیزئی نے کہا تھا کہ میرے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔

گورنر کا عہدہ قبول کرنے سے معذرت نہیں کی بلکہ میں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جب تک قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے کلیئرنس نہیں آتی تو عہدے کا حلف نہیں اٹھاؤں گا اور پیر کو سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد عہدے کا حلف اٹھاؤں گا۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر امیر محمد خان جوگیزئی میڈیکل کے شعبے میں بطور چائلڈ اسپیشلسٹ 32 سالہ تجربہ رکھتے ہیں اور بولان میڈیکل کالج (بی ایم سی) کوئٹہ میں ڈھائی سال بحیثیت رجسٹرار فرائض انجام دیے ہیں۔وہ نجی تنظیم فاطمید فاؤنڈیشن کے تحت چلنیوالے کوئٹہ کے کڈنی سینٹر کے کئی سالوں تک انتظامی سربراہ بھی رہے۔ ان کے بڑے بھائی گل محمد جوگیزئی گورنر بلوچستان رہ چکے ہیں۔