|

وقتِ اشاعت :   August 27 – 2018

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ابتدائی مرحلے میں گیارہ رکنی کابینہ تشکیل دے دی۔کابینہ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے نو ، اتحادی جماعت تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہے۔نومنتخب وزراء نے حلف اْٹھالیا۔

تفصیلات کے مطابق گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے آئین کے آرٹیکل 132ون کے تحت وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی ایڈوائز پر دس ارکان صوبائی اسمبلی کو صوبائی وزراء اور ایک رکن صوبائی اسمبلی مٹھا خان کاکڑ کو وزیراعلیٰ بلوچستان کا مشیر مقرر کردیا ہے ۔

محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کیبنٹ سیکشن نے ان کی تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے میر محمد عارف محمد حسنی ، نور محمد دمڑ، سردار سرفراز چاکر ڈومکی، نوابزادہ طارق مگسی ، ظہور احمد بلیدی، ضیاء اللہ لانگو، سلیم احمد کھوسہ اور سردار صالح محمد بھوتانی ، تحریک انصاف کے نصیب اللہ مری اور عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئر زمرک خان اچکزئی صوبائی وزیر بن گئے ہیں۔

انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقدہ تقریب میں وزارت کا حلف اٹھالیا۔گورنر محمد خان اچکزئی نے ان سے حلف لیا۔ تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ، قبائلی و سیاسی عمائدین اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

کابینہ کے ارکان میں نو کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے جن میں چاغی سے تعلق رکھنے والے میر محمد عارف محمد حسنی اور ژوب کے میر مٹھا خان کاکڑ آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہوئے۔ چھ جماعتی اتحاد میں شامل تحریک انصاف اور اے این پی کو ایک ایک وزارت ملی ہے۔سردار سرفراز چاکر ڈومکی، ظہور بلیدی ، سلیم کھوسہ، ضیاء لانگو، سردار صالح بھوتانی اور زمرک اچکزئی اس سے قبل بھی وزیر اور مشیر کے عہدوں پر کام کرچکے ہیں۔

عارف محمد حسنی، نور محمد دمڑ اور نصیب اللہ مری پہلی مرتبہ وزیر بنے ہیں۔ صوبائی وزراء کوکن کن محکموں کے قلمدان دیئے جائیں گے اس کا اعلان اب تک نہیں کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ خزانہ، محکمہ ترقی و منصوبہ بندی اور صحت جیسی اہم وزارتیں بلوچستان عوامی پارٹی اپنے پاس رکھے گی۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبائی کابینہ کا حجم محدود کردیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کو صرف پندرہ وزراء اور پانچ مشیروں کا تقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ پانچ وزراء اور چارمشیروں کا تقرر اگلے مرحلے میں کیا جائیگا۔

تحریک انصاف اور پی ٹی آئی کے مزید ارکان کے علاوہ بی این پی عوامی اور ایچ ڈی پی کو بھی اگلے مرحلے میں کابینہ کا حصہ بنائے جانے کا امکان ہے۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے نومنتخب کابینہ کا پہلا اجلاس آج بروز منگل صبح 10بجے طلب کرلیا ہے۔ اجلاس جام کمال کی زیر صدارت وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوگا۔

دریں اثناء وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے صوبائی کابینہ کے نومنتخب اراکین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ نومنتخب صوبائی وزراء صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے وژن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے اپنی صلاحیتیں بھرپور طریقے سے بروئے کار لائیں گے اور عوام نے ان پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر پورا اتریں گے، وہ نومنتخب صوبائی وزرا ء سے بات چیت کررہے تھے جنہوں نے حلف برداری کی تقریب کے بعد ان سے ملاقات کی۔

اراکین قومی اسمبلی میر خالد خان مگسی، سردار اسرار خان ترین اور اراکین صوبائی اسمبلی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ صوبائی وزراء نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں کابینہ کا حصہ بنانے پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ صوبے کی تعمیر وترقی کے وژن کو آگے بڑھانے میں وزیراعلیٰ کے دست وبازو بنیں گے۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکومت سے صوبے کے عوام کو بہت سی توقعات وابستہ ہیں جن پر پورا اترنے کے لئے ہمیں دن رات محنت کرنا ہوگی اور اپنی تمام تر توجہ صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب مرکوزکرنا ہوگی انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے کو جن مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لئے ایک ٹیم کے طور پر کام کرنا ہے ہمارے وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں۔ ہمیں سادگی اور کفایت شعاری پر عمل پیرا ہوتے ہوئے دستیاب وسائل کے بہترین مصرف کو یقینی بنانا ہوگا۔

کیونکہ ہم وسائل کے ضیاع کے ہر گز متحمل نہیں ہوسکتے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی کابینہ کا پہلا اجلاس منگل کے روز طلب کیا جائے گا اس حوالے سے انہوں نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ اہم امور کو کابینہ کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے اور کابینہ کے اراکین کو ایجنڈے کی بروقت ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعلیٰ نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کابینہ کے اختیارات میں مزید اضافہ ہوا ہے جو تمام اہم صوبائی امور کے حوالے سے فیصلے کرنے کی مجاز ہے۔ انہوں نے نومنتخب وزرأ کی کامیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔