|

وقتِ اشاعت :   August 31 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں زمینداروں نے زرعی فصلات کے کم نرخوں کے خلاف انوکھا احتجاج کیا اور ہزاروں کلو گرام ٹماٹر سڑکوں پر پھینک کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ 

زمینداروں کا کہنا ہے کہ بیرونی ممالک سے درآمد کی وجہ سے ملک میں ٹماٹر کوڑیوں کے دام بھی نہیں بک رہے۔ انہوں نے افغانستان، ایران اور بھارت سے ٹماٹر کی درآمدپر فوری پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعرات کو زمیندار ایکشن کمیٹی قلعہ سیف اللہ اور سبزی کمیشن ایجنٹ ایسوسی ایشن نے قلعہ عبداللہ شہر میں سبزی منڈی سے احتجاجی ریلی نکالی اور جنکشن چوک تک مارچ کیا۔ احتجاج میں سینکڑوں زمیندار اور سبزی منڈی میں پھل اور سبزی کا کاروبار کرنیوالے افراد شریک ہوئے۔ 

انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور زمینداروں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ احتجاج میں شریک زمینداروں نے کوئٹہ قلعہ سیف اللہ قومی شاہراہ پر آٹھ سو سے زائد کریٹ ٹماٹر سڑک پر پھینک کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ 

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے زمیندار ایکشن کمیٹی کے ضلعی چیئرین عبد اللہ جان میرزئی ،چیئرمین میونسپل کمیٹی حاجی دارا خان جوگیزئی ،جمعیت علما اسلام کے ضلعی جنرل سکریٹری مولوی محمد لعل اخونذادہ اوریگر نے زمینداروں کا معاشی قتل عام روکنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی منڈیوں میں زرعی فصلوں کی قیمتیں نہ ہونے کے برابر ہیں جس سے زمینداروں کو اربوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے۔ بلوچستان کے مقامی زمینداروں نے بڑی محنت سے لاکھوں ٹن ٹماٹر کی فصل تیار کی اور اسے پنجاب کے مارکیٹوں میں لے گئے مگر افغانستان، ایران اور بھارت سے ٹماٹر کی درآمد کی وجہ سے فی کریٹ ٹماٹر کی قیمت پچاس روپے سے بھی کم ہوگئی ہے۔ جبکہ لکڑی کے خالی کریٹ کی قیمت 60 روپے ہے۔ 

‘زمینداروں کو فائدہ پہنچنے کی بجائے الٹا نقصان ہورہا ہے۔ ہم سال بھر محنت سے فصلیں تیار کرتے ہیں اور جب منڈی تک لے جانے کا وقت آتا ہے تو ہمسائیہ ممالک سے ٹماٹر کی درآمد شروع ہوجاتی ہے اور ہماری فصل کوڑیوں کے دام بھی نہیں بکتی۔’ 

انہوں نے کہا کہ علاقے میں پہلے تو بارشیں نہیں ہوتیں اور جب ہوتی ہیں تو ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ سینکڑوں ٹیوب ویل خشک سالی کی وجہ سے خشک ہوگئے ہیں۔ پورے ضلع کو صرف چار گھنٹے بجلی روزانہ فراہم کی جاتی ہے۔ زمیندار لاکھوں روپے خرچ کرکے سولر پینل یا پھر جنریٹر سے ٹیوب ویل کے ذریعے پانی نکال کر فصلوں کو پانی دیتے ہیں۔ 

مگر خون پیسنے کی کمائی اور شب و روز کی محنت سے جب فصل تیار ہوتی ہے تو ہمسائیہ ممالک سے بھی سینکڑوں ٹرک ٹماٹر درآمد کرلیے جاتے ہیں اس طرح فصل کی قیمتیں گرجاتی ہیں۔زمینداروں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان، وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ مقامی سیزن کے دوران ہمسائیہ ممالک سے فصلوں کی درآمد پر پابندی لگائی جائے تاکہ زمینداروں کی معاشی مشکلات کم ہوسکیں۔ 

انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبہ تسلیم نہ ہوا تو غیرمعینہ مدت تک کیلئے پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔ زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے جنرل سیکریٹری عبدالرحمان بازئی نے ٹیلیفون پر بتایا کہ بلوچستان میں خشک سالی کی وجہ سے لوگوں نے سیب کی پیدوار چھوڑ کر متبادل کیطور پر انگور، ٹماٹر، گاجر اور مرچ کی فصلیں لگانا شروع کردی ہیں۔ 

صوبے میں پیاز کی پیداوار سالانہ پانچ لاکھ ٹن اور ٹماٹر کی سالانہ پیداوار سالانہ تین لاکھ ٹن ہے۔ ٹماٹر کا سیزن جون سے لیکر ستمبر تک ہوتا ہے مگر اس دوران ہمسائیہ ممالک سے درآمد کی وجہ سے ٹماٹر کی قیمت سبزی منڈیوں میں پانچ سے دس روپے فی کلو تک آجاتی ہے۔ 

اس طرح مقامی زمینداروں کیلئے فصل پر آنیوالی لاگت تک پوری نہیں ہوتی۔عبدالرحمان بازئی نے بتایا کہ قلعہ سیف اللہ سے پنجاب کا قریب ترین شہر ڈیرہ غازی خان ہے یہاں کے زمینداروں نے جب ٹماٹر کی فصل وہاں پہنچائی تو ٹماٹر کی فی کریٹ قیمت خالی کریٹ سے بھی کم ہوگئی ہے۔ 

یہ زمینداروں کا معاشی قتل عام کے مترادف ہے۔ صوبے میں پہلے ہی روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ زرعی شعبہ تباہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں افراد بیروزگار ہورہے ہیں جبکہ حکومت زمینداروں کے مسائل کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ 

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے زمینداروں نے سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں بھی یہ مطالبہ پیش کیا تھا کہ بلوچستان میں سیب ، انگور، ٹماٹر اور پیاز کی فصل تیار ہونے پر ہمسائیہ ممالک سے مذکورہ پھلوں اور سبزیوں کی درآمد پر پابندی لگائی جائے مگر ہمارے مطالبہ پر کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔

انہوں نے بتایا کہ ستمبر سے دسمبر تک پیاز کا سیزن بھی آنیوالا ہے جس کیلئے حکومت کو پیشگی اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ مقامی زمینداروں کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔