کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ اربوں کھربوں روپے کے معاملات کو درست کرکے عوام کی زندگیوں کیلئے بہتری کیلئے پائیدار کام کرنا ہوگا۔ وزراء ، اور بیورو کریسی کو سہولیات دیں گے مگر کام بھی لیں گے۔بلوچستان کی مالی حالت انتہائی کمزور ہے ، گزشتہ دو ادوار کی غلط منصوبہ بندی سے خسارے کا سامنا ہے۔88 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں 20 ارب روپے بھی موجود نہیں۔
پہلے اپنے گھر کو درست کرکے سالانہ ترقیاتی پروگرام اور اخراجات کو بہتر کریں گے اس کے بعد وفاق سے خصوصی پیکیج کا مطالبہ کریں گے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کوئٹہ میں شجر کاری مہم کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شجرکاری مہم میں تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنر اور اسکولوں کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اس مہم کے تحت مجموعی طور پر پچانوے ہزار پودے لگائے جائیں گے۔
یہ لوگوں کو شجر کاری کی جانب سے راغب کرنے کی کوششیں ہیں۔ ہم شجر کاری کیلئے باقاعدہ اسٹیڈی کرائیں گے اورعلاقوں کی نشاندہی کریں گے اور پھر ہر علاقے کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس قسم کے پودے لگائیں گے۔ بارانی علاقوں میں بھی پودے لگائے جائیں گے اور جہاں پانی کا بندوبست نہیں ہوگا وہاں سولر پینل کے ذریعے ٹیوب ویل سے پانی دینے کا بندوبست کیا جائیگا۔
بلوچستان میں درختوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ہمارا زیادہ تر رقبہ صحرائی اور خشک علاقوں پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے زیارت میں جنگلات کی کٹائی سے متعلق سوال پر کہا کہ بلوچستان پسماندہ صوبہ ہے۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے لوگ لکڑیوں کی کٹائی پر مجبور ہیں۔
جام کمال خان نے کہا کہ جب وہ وفاقی وزیر تھے تو پچیس سے تیس اضلاع کو گیس کی فراہمی کے منصوبہ شروع کیاگیا تھا جس کے ٹینڈر بھی ہوگئے تھے مگر اس میں کچھ تاخیر ہوگئی۔ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں اس معاملے کو اٹھایا جائیگا کہ اس منصوبے کو جلد مکمل کیا جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ گیس کی فراہمی ہماری ترجیح میں شامل ہے ہماری کوشش ہے کہ متبادل بندوبست فراہم کیا جائے اس کے بعد ہم لوگوں پر سختی بھی کرسکتے ہیں۔ ایندھن کا متبادل کرنا ریاست ہی کی ذمہ داری ہے اس کے بغیر جنگلات کی کٹائی نہیں روکی جاسکتی۔
انہوں نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی کو تجارت بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بلوچستان حکومت کی مالی مشکلات اور وفاق سے مدد مانگنے سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ جام کمال نے کہ اکہ ہمارے ہاں گورننس کا بیلنس اسٹرکچر موجود ہے ہم ماضی کی حکومتوں کی طرح نہیں کہنا چاہتے کہ ہماری حالت ٹھیک نہیں بس وفاق ہمیں پیسے دیتا رہے۔ وفاق سے ہمیں مدد ضرور چاہیے مگر ہم نے اپنے معاملات کو خود درست بھی کرنا ہے۔
پچھلے دو ادوار میں جس طرح سالانہ ترقیاتی پروگرام(پی ایس ڈی پی) بنایا گیا اور جس طرح کے گورننس اور اسٹرکچر میں بجٹ بنایا گیا اس کی وجہ سے ہمیں بہت خسارے کا سامنا ہے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کیلئے ہماری پہلی کوشش ہے کہ اپنے گھر کو خود درست کریں۔اپنا پی ایس ڈی پی اور بجٹ ٹھیک کریں۔ اخراجات کو بہتر کریں۔
جب ہم اس پوزیشن میں اآجائے تو پھر ہم وفاق سے بھی کہیں گے کہ اب ہماری مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چیف سیکریٹری بلوچستان کے ذریعے اپنی مالی مشکلات اور ضروریات کی تفصیل تحریری طور پر وزیراعظم خان کو پیش کردی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام ہے تو 88 ارب روپے ہے مگر اس میں بیس ارب روپے بھی موجود نہیں۔ ملک کا چوالیس فیصد رقبے پر مشتمل صوبے میں اگر آپ نے سڑکیں، ڈیم ، اسکول اور پانی کے منصوبے بنانے ہیں تو اس کیلئے بیس بائیس ارب روپے کچھ بھی نہیں اس لئے ہم وفاقی حکومت سے ایک بار خصوصی پیکیج دینے کی بات کریں گے۔
ایسا پائیدار پیکیج ملے جس سے ہمارا پی ایس ڈی پی ٹھیک ہوں۔ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ آپ ہمیں 88 ارب روپے دیں یا 100 ارب روپے دیں۔ ہم ان کو کہیں گے کہ ہم اپنا پی ایس ڈی پی ٹھیک کررہے ہیں ہم کٹوتیاں کررہے ہیں اور اپنے نظام کو صحیح کررہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ہمیں یہ گرانٹس یا فنڈنگ بھی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پہلے اپنے پی ایس ڈی پی کا جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ بلوچستان ہائی کورٹ نے پی ایس ڈی پی کی سولہ سو سے زائد اسکیموں کو نکالنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ اسکیمیں مطلوبہ طریقہ کار پورا کئے بغیر شامل کی گئیں۔ موجودہ پی ایس ڈی پی شعبہ جاتی نہیں بلکہ اسکیم وائز ہے۔ ایک باقاعدہ طریقہ کار کے بغیر کوئی اسکیم پی ایس ڈی پی میں شامل ہونا غلط ہے۔ اسکی وجہ سے ہمارے منصوبے مکمل نہیں ہورہے۔
چھ چھ آٹھ آٹھ سال سے منصوبے التواء کا شکار ہیں ان منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے کہیں دس فیصد اور کہیں بیس فیصد فنڈز کی ضرورت ہیں ہم انہیں مکمل کریں گے اور طریقہ کار کے مطابق شامل کی گئیں منصوبوں کو جاری رکھنے کی کوشش کرینگے۔
نئے منصوبے اپنی پالیسی، اپنے مینو فیسٹو اور اپنے کابینہ کی مشارت سے بنارہے ہیں ہم تعلیم، صحت، امن وامان اور پانی کو ترجیحات میں رکھ رہے ہیں۔بلدیاتی نظام میں اصلاحات سے متعلق انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات میں بلدیاتی نظام سے متعلق بھی گفتگو اور بحث ہوگی باقی تمام صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو بھی بلایا گیا ہیوہ بھی اپنی تجاویز رکھیں گے ہم ان کا بھی جائزہ لیں گے۔ چونکہ یہ صوبائی معاملہ ہیاور صوبوں کو خوداپنا فیصلہ کرنا ہے ۔
اس لئے ہم ہر جگہ سے تجاویز لیں گے اوراپنے موجود ہ اور ماضی کے نظام اور زمینی حقائق کا بھی جائزہ لیں گے اس کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے۔ آئیڈلزم پر ساری چیزیں نہیں چل سکتی کیونکہ جو نظام کوئٹہ میں چل سکے ضروری نہیں کہ وہ آواران، تربت یاموسیٰ خیل بھی بھی درست کام کریں۔
زمینی حقائق کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ہمیں استعداد کار ،انفراسٹرکچر کے مسائل کا سامنا ہے۔ ہمیں بہت سارے علاقوں میں بہت ساری چیزوں کی ضرورت ہے۔ دفاتر، استعداد کار،انفراسٹرکچر اور نظام بنانے کی ضرورت ہے۔ کئی اضلاع میں اب تک بینک بھی نہیں ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سے پوچھا گیا کہ وزیراعظم گاڑیوں کی نیلامی کررہے ہیں اور بلوچستان حکومت نے وزراء کیلئے نئی گاڑیاں خریدی ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ گاڑیاں ابھی نہیں خریدی گئیں گزشتہ حکومت نے خریدی گئیں۔
میرا اپنا خیال ہے کہ سہولت دینے میں کوئی قبانت نہیں لیکن کام ہونا چاہیے۔ اگر بیورو کریسی اور سیاستدان اچھا کام کرتے ہیں تو انہیں اچھی سہولیات دیں مگر کام بھی نہیں ہورہا، کرپشن بھی ہورہی ہے اور پھر اخراجات بھی بڑھائے جائیں تو یہ غلط ہوگا۔ سول سیکریٹریٹ میں کام کرنے کا ماحول ہی نہیں، سہولیات ہی نہیں۔ پولیس اور لیویز کا انفراسکچر دیکھیں۔ اضلاع کی حالت دیکھیں وہاں گاڑیاں ہی نہیں۔
افسران کرایے پر گاڑیاں لیکر دورے کرتے ہیں۔ ہماری پالیسی ہے کہ ایکسٹرا لگڑری میں نہ جائیں مگر بنیادی ضروریات کو پورا کیا جائے۔سہولیات دیں اور کام لیں۔ ہم ،ہمارے وزراء اور ہماری ٹیم ہے ہم کام کرنے آئے ہیں اور کام کرکے دکھائیں گے۔
کام میں کمزوری، کوتاہی ہے اور محنت بھی نہیں پھر اضافی مراعات تو دور سہولیات بھی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میرا اپنا ایک اصول ہے کہ کامسٹیکس آف پولیٹکس کو تبدیل کرنا چاہیے۔
پکوڑے اور سمسوسے نہ کھانے سے ملک نہیں بنائے جاسکتے۔ انگریزی کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اربوں اور کھربوں روپے کی بے ضابطگیوں کو نظر انداز کرکے چھوٹی چیزوں پر وقت ضائع کرنا قوم کے ساتھ مذاق کے سواء کچھ نہیں ہوگا۔
یہ کہنا ہے کہ چائے کی پیالیاں دو تھیں کہ تھیں ان چیزوں پر وقت برباد کرنے سے بہتر ہے کہ بڑے معاملات کو دیکھا جائے جہاں اربوں کھربوں روپے کی بات ہورہی ہے۔ ان دونوں کا آپ جائزہ لیں گے تو یہ چھوٹی چیزیں ایک فیصد بھی نہیں بنتیں اس لئے کامسٹیکس کی سیاست چھوڑنا ہوگی۔
ہمیں پائیدار کام محنت کے ساتھ کرنا چاہیے جس سے لوگوں کی زندگی میں بہتری آئے اور نظام کو تقویت ملے۔انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی اور باقی لوگوں کو تین ماہ کا وقت دیں اور دیکھیں کہ اچھا کام کررہے ہیں تو سراہے اور سہولیات بھی دیں مگر گاڑیوں کی نیلامی جیسی باتوں پر توجہ دینے کی بجائے ہمیں کام اور مقصد کی طرف توجہ دینی چاہیے اور بڑے پیمانے پر ہونیوالے ان معاملات کو درست کرنا ہوگا جو اس صوبے اور ملک کو پستی کی طرف لے جانے کا سبب بنیں۔
ان چیزوں کو درست کریں تو معاملات خود بخود درست ہوں گے۔ دریں اثناء وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ ریکوڈک کا مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کریں گے ورنہ 10ارب ڈالر جرمانہ لگ گیا توادا کرنا بلوچستان اور وفاق کے لیے مشکل ہوگا ریکوڈک کیس میں بلوچستان حکومت نے صرف وکلا کو ساڑھے 3 ارب روپے ادا کردیے ہیں۔
ان خیالات کا اظہا رانہوں نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ ریکوڈک کا مسئلہ بات چیت سے ہی حل ہوجائے واضح رہے کہ بلوچستان میں افغانستان اور ایران کی سرحد کے قریب مشہور علاقے چاغی میں سونے اور تانبے کے ذخائر کونکالنے کے منصوبے کا نام ریکوڈک ہے۔
ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے جولائی 1993میں اس وقت کے وزیراعلی بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک منصوبے کا ٹھیکا آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کودیا تھا۔بلوچستان کے 33 لاکھ 47 ہزار ایکڑ پر واقع اس منصوبے کا معاہد ہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہواتھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کر لیا تھا۔
آسٹریلوی کمپنی نے کوشش کی تھی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو کل آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی طرف سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔
بلوچستان حکومت نے 2010 میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے پرخود کام کرے گی بعد ازاں جنوری 2013 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا ۔
جس کے بعد آسٹریلین کمپنی نے اپنے حصص ٹی سی سی کو فروخت کردیے تھے اور ٹی سی سی نے عالمی ثالثی ٹربیونل میں ریکوڈک منصوبے کے لائسنس میں 40 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کے نقصان کا دعوی کیا تھا۔
ریکوڈک کا مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کرینگے، بلوچستان کو مالی بحران کا سامنا ہے پہلے گھر کو ٹھیک کرلیں پھر وفاق سے مالی معاونت کی درخواست کرینگے جام کمال
![]()
وقتِ اشاعت : September 3 – 2018