|

وقتِ اشاعت :   September 7 – 2018

کوئٹہ: آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم انجم نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن کے سفر کو جاری رکھنے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ ملک کا دفاع21 کروڑ عوام کے ہاتھ میں ہے ۔

گزشتہ 16 سالوں سے ملک کی عوام اور سیکورٹی ادارے انسانی تاریخ کی سب سے مشکل اور پیچیدہ جنگ سے نبردآزما ہیں ۔ نوابزادہ میر سراج رئیسانی نے سخت حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک سے محبت کی شمع کو بلوچستان میں روشن کئے رکھا ۔ یوم دفاع پر پاکستان بنانے اوراسکے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کانک یوم دفاع کے موقع پر نوابزادہ سراج خان رئیسانی سمیت شہداء درینگڑھ سے اظہار یکجہتی کیلئے منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ آئی جی ایف سی بلوچستان نے شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کی قبر پرپرچم کشائی کی اور پھولوں کا گلدستہ رکھ کر فاتحہ خوانی کی ایف سی کے چاک وجوبند دستے نے شہید کی قبر کو سلامی دی ۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی ایف سی بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیوں کے مرہون منت آج ہم آزاد فضاء میں سانس لیتے ہوئے اپنی زندگی بسر کررہے۔ 

قربانیوں کی لازوال تاریخ میں ملک کے ہرشہری خصوصاً بلوچستان کے بہادر سپوت اور ہمارے ہیرو سراج رئیسانی شہید کا اپنا ایک مقام اور مرتبہ ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم گزشتہ16 سالوں انسانی تاریخ کی سب سے مشکل اور پیچیدہ جنگ لڑ رہی ہے اس جنگ کو لڑنے میں بہت سارے طاقتور ملک اور سورما سکندراعظم سے لیکر آج تک جن کے پاس اسلحہ اور بارود کے انبار وسائل اوربے شمار دولت تھی وہ یہ جنگ ہار چکے ہیں جنگ کو ہارنے کی بہت سی پیچیدگیاں ہیں۔

ایسی جنگیں محض فوجیں نہ لڑسکتی ہیں نہ جیت سکتی ہیں یہ جنگ ان قوموں نے جیتی جہاں قوم اور فوج نے ملکردشمن کا مقابلہ کیا ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے اور اس ملک کے ہر شخص کو فخر ہے کہ ہم ایک ایسی قوم کے شہری ہیں جنہوں نے تمام تر مشکلات خدشات اورخطرات اوروسائل کی کمی کے باجود نہ صرف جنگ لڑی بلکہ دنیا کو جیت کر بھی دکھایا ہے ۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کے اس جنگ میں پاکستان کا ہر شہری ہمارے لیے سب سے اہم سپاہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جب بلوچستان میں حالات بہت سخت اور خراب تھے ۔

سراج رئیسانی شہید نے انتہائی کٹھن حالات میں پاکستان سے محبت کا بلوچستان سے شمع روشن کیا رکھا اوربہت سے لوگوں کوملک دوستی کی جانب راغب کیا جس سے بلوچستان میں حالات بہتر ہونا شروع ہوئے ۔ پاکستان اور بلوچستان میں حالات کی بہتری ان شہداکے ساتھ ساتھ جو یونیفام میں تھے یا بغیر یونیفارم کے سراج رئیسانی شہید کے سرپر ہے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا دفاع بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے محض اس لیے نہیں کہ پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین فوج اور ایٹمی طاقت ہے بلکہ اس کی دفاع 21 کروڑ عوام نے اپنے ہاتھوں میں لیکر ملک کو ناقابل تسخیر قوت بنایاہے ۔اور ملک کی 95 فیصد سے زیادہ آبادی ملک کے دفاع کیلئے ہر ممکن حدتک قربانی دینے کو تیار ہیں ۔ 

ان کا کہنا تھا کہ آج بلوچستان کا ہر شہری سراج رئیسانی شہید ہے اور ہم اپنے شہداء کو یقین دلاتے ہیں کہ ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کے حوالے سے اپنا فرض اور شہدا کے خون کا قرض ادا کرنے کے اپنے سفر کو جاری رکھتے ہوئے مسائل کے حل تعلیم و ترقی اور امن کا سفر جاری رکھنے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے اور شہیدسراج رئیسانی اور انکے ساتھیوں سمیت جنہوں نے اس پیچیدہ ترین جنگ میں اپنے جانوں کی قربانی دی ہے وہ تاقیامت ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے ۔