|

وقتِ اشاعت :   September 21 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ نے وزیراعظم کا غیر ملکیوں کو شہریت دینے کے فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ افغان مہا جرین کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائیگا ۔

اگر حکومت نے ایسا فیصلہ کیا تو ہم اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات چیت کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان پہلے ہی تبا ہی وبربادی سے دوچار ہے ہم مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتے ۔

ماضی میں امن وامان کی گھمبیر صورتحال نے یہاں کی معیشت کو تباہ کر دیا اب حالات کو مزید تباہی سے دوچار نہیں ہونے دینگے انہوں نے کہا ہے کہ اس کو غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیتے ہیں اس کا جو سماجی اور معاشی دبا ہے وہ صوبوں پر پڑنا ہے کسی صوبے سے مشاورت نہیں کی گئی۔

اسمبلی میں زیر بحث نہیں لایا گیا، یہ دو یا چار افراد کی شہریت کا معاملہ نہیں ہے یہ ایک سے ڈیڑھ کروڑ افراد کی شہریت کا معاملہ ہے ، اس کو صوبائی اسمبلیوں، مشترکہ مفادات کانسل اور بین الصوبائی کی وزارات میں لانا چاہیے تھا۔

ہم نے جو چھ نکات پیش کیے تھے اس میں ایک نکتہ افغان پناہ گزین کی واپسی ہے، جن کی وجہ سے بلوچستان کی ڈیمو گرافی اور اس کی آبادی کا جو تناسب ہے وہ متاثر ہو رہا ہے، بلوچستان میں سہولیات پر بڑا دبا ہے جس نے معیشت اور ملازمتوں کے سیکٹر کو متاثر کیا ہے۔