کوئٹہ: بلوچستان پیس فورم کے چیئرمین نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ قانون سازاسمبلی کے معاملات میں مداخلت سے گریزادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں ۔
70سالوں سے بننے والی حکومتوں نے عوام کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا۔ ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمت عملی طے کرنا ہوگی ۔گاڑیاں اور بھینسیں بیچ کر ملک میں ترقی کے دعوے مضحکہ خیز ہیں ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں اینٹی کرپشن موومنٹ بلوچستان کے زیر اہتمام( بدعنوانی سے پاک بلوچستان ) کے عنوان سے متعلق مختلف اسکولوں کے طلباء کے مابین منعقدہ تقریری مقابلے کے اختتام پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
نوابزادہ لشکری رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ ملک سے کرپشن کاخاتمہ کئے بغیر خوشحالی اور ترقی کا خواب خواب ہی رہے گا ۔ انہوں نے کہا ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں شریف لوگوں کو ڈھونڈکرایوارڈ سے نواز جاتا ہے جو باعث شرم ہے ۔ جس دن ہم نے اپنے قومی امور سے متعلق خود کو درپیش مسائل کی وجوہات تلاش کرنے کیلئے سنجیدہ ہوکر غور کرنا شروع کیا تو اس دن ہم ایک عظیم اور ترقی یافتہ ملک بن پائیں گے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہرروز ذرائع ابلاغ پر عمران خان سے متعلق سننے کو ملتا ہے کہ خان صاحب نے کے پی کے پولیس ، بیوروکریسی اور انتظامیہ کو سیاست سے پاک کردیا ہے جو سننے کی حد تک اچھی بات ہے وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے دور رکھنے کیلئے بھی اقدامات اٹھائیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ پارلیمنٹ کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرنا چائیے ۔تہذیب یافتہ ممالک میں قومیں حکومت بناتی ہیں اور ان حکومتوں کا کام قوموں کے حقوق کاتحفظ یقینی بنانا ہوتا ہے ۔
پاکستان میں 70سالوں سے بننے والی حکومتوں کی طرز پر حال ہی میں بننے والی حکومت کشکول لیے گاڑیاں اور بھینسیں بیچ کرترقی کے دعوے کررہی ہے جو مضحکہ خیز ہیں ۔ تقریب سے سابق نگران وفاقی وزیر روشن خورشید بروچہ سینئر صحافی سید علی شاہ ، فضل نورزئی ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔تقریب میں طلبا وطالبات نے کرپشن سے متعلق تقریری مقابلوں میں حصہ لیا۔تقریب کے اختتام پر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء وطالبات کو نقد انعامات سے نوازا۔
اسٹیبلشمنٹ اسمبلی کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں،لشکری رئیسانی
![]()
وقتِ اشاعت : September 29 – 2018