وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ سی پیک کا منصوبہ نہ صرف گوادر اور بلوچستان بلکہ پاکستان کے تمام صوبوں کے لیے ترقی و خوشحالی کے عظیم دور کی نوید لے کر آیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ سی پیک کا منصوبہ نہ صرف گوادر اور بلوچستان بلکہ پاکستان کے تمام صوبوں کے لیے ترقی و خوشحالی کے عظیم دور کی نوید لے کر آیا ہے۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں سی پیک کی ساتویں مشترکہ تعاون کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ وزارت مالیات اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چین کا گوادر فری زون میں چینی کرنسی استعمال کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل گوادر کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے دور رس نتائج برآمد ہونگے، ان خیالات کا اظہاروزیراعلیٰ نے گزشتہ روز چین کے قونصل جنرل وانگ یو سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے صوبائی حکومت کی جانب سے مختلف محکموں میں اعلان کردہ خالی اسامیوں پر بھرتی کے عمل میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کر تے ہوئے متعلقہ محکموں سے اس حوالے سے رپورٹ طلب کی ہے۔
انسانی اسمگلنگ کامسئلہ نیا نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے یہ سلسلہ جاری ہے مگر جس طرح تربت میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا یقیناًیہ نوجوان اس سے بالکل ہی بے خبر تھے کہ ان کیلئے سب سے بڑا مسئلہ منزل میں آنے والی وہ رکاوٹیں تھیں جو سفر کے دوران انہیں پیش آنے تھے۔
پاک ایران تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ دونوں ملکوں کی طویل سرحد ایک دوسرے سے ملتی ہے،اس طرح ایک ملک کے حالات دوسرے پراثر انداز ہوتے ہیں ، دونوں طرف امن ہوگا تو ترقی کے سفر میں تیزی آئے گی جس کی ضرورت دونوں ملکوں کے عوام کو ہے ۔
بلوچستان کے بعض اضلاع میں چند عرصہ قبل حالات انتہائی مخدوش تھے ،ٹارگٹ کلنگ،بم دھماکے،خود کش حملے، اغواء برائے تاوان جیسے واقعات روز کا معمول بن چکے تھے، امن وامان کی صورتحال کا عالم یہ تھا کہ لوگ بدامنی کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے ساتھ مل کر مؤثر انداز میں آگے بڑھے گی۔
وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے بلوچستان کے لیے 10سالہ ترقیاتی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے تمام علاقوں کو ملک کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جائیگا ،اور اس ترقیاتی پیکج کے تحت صوبے کے تمام شہروں ودیہی پسماندہ علاقوں میں ترقی کا یکساں عمل شروع کرکے عوام کو تعلیم ،صحت ، پینے کا صاف پانی اور تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے تصدیق کی ہے کہ ان کی جماعت اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان سیاسی اتحاد کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ تھا۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آج میں پورے پاکستان کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ نے بلا کر فاروق ستار سے ملایا اور جب ہم وہاں پہنچے تو فاروق ستار پہلے سے موجود تھے۔