ہمارے پیارے شہر کراچی میں موسم کا مسئلہ ایسا ہے کہ جب تک کوئٹہ سے سائبیریائی ٹھنڈی ہوائیں نہیں پہنچتی ہیں یہاں کا موسم اور ہمارا مزاج “گرم” ہی رہتا ہے۔ اس مرتبہ جب ہمارے ہاں کے سرد مزاج دانشور اور اردو زبان کے بااسلوب شاعر عیسیٰ بلوچ نے ماہ نومبر میں کوئٹہ کی “سرد شاموں ” کو آزمانا چاہا تو “گرماگرمی” میں ہم بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ پلٹ کر دیکھا تو بلوچی زبان کے نوجوان شاعر و ادیب اصغر لعل کو بھی کمر باندھے تیار پایا۔
لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز اوتھل اس وقت میدان جنگ میں تبدیل ہوگئی جب پولیس نے یونیورسٹی میں بلوچ طلبا کے احتجاجی کیمپ پر دھاوا بول دیا۔ 16 نومبر 2023 کی رات کو طلبا پر بدترین تشدد کیا گیا۔
پاکستان سے جیسے ہی افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوا ہے، مسلح افواج پر حملوں میں شدت دیکھی گئی ہے جس سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان حکومت کسی دباؤ میں آنے کے بجائے دباؤ میں رکھنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔
نامور صحافی، مصنف ،بانی رکن بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) اور سابق رہنما نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) لطیف بلوچ بارہ نومبر 2023 کو لندن میں انتقال کرگئے۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور علم و فراست اور سیاسی تدبرکا ایک زمانہ معترف تھا۔ مطالعے کی وسعت کی بنا پر ان کا شمار اہل علم میں ہوتا تھا۔ اس کے انتقال سے نہ صرف کراچی بلکہ بلوچستان ایک نڈر اور علم دوست ہستی سے محروم ہوگیا۔ انہوں نے آخری دم تک اصولوں کی پاسداری کی۔ وہ ایک نڈر صحافی اور مصنف تھے۔ ان کی کئی کتابیں ہیں۔ انہوں نے کھل کر صحافت کی اور بلوچستان سمیت کراچی کے بلوچ پسماندہ علاقوں کی نمائندگی کی۔ انہوں نے صحافت میں کوئی کنجوسی نہیں کی۔
بلوچستان میں حب الوطنی کی سوچ رکھنے والے بلوچ طلباء بھی جبری گمشدگی کا شکار ہیں ۔ ان کی حب الوطنی پر شک کرنا بلوچ معاشرے میں کئی سوالات چھوڑگیا ہے ۔ شاید ان سوالات کا جواب لاپتہ کرنے والوں کے پاس نہیں ہے ۔ اگر وہ کسی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں تو انہیں… Read more »
دانشور لوگ ( درباری اور پالشیئے نہیں) کہتے ہیں کہ بات اگر سچ ہو تو اْس میں رسوائی کا پہلو شامل ہونے کا خوف کیوں ہو ؟ لوگ چاہے سچ پسند کریں یا ناپسندیدگی کااظہار کریں ، اتفاق کریں یا شدید ترین اختلاف رکھیں لیکن بقول ایڈورڈ سعید سچ بولنا اور جھوٹ کو آشکار وافشاں کرنا دانشوروں کی اولین ذمہ داری ہے۔
فلسطین کا مسئلہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ اب تو تقریباً ہر سال یہ ظلم و ستم دوہرایا جاتا ہے۔ایک طرف تو 1948 کے وہ دن ہیں جب یورپ کے بے شرم نو آبادیاتی آقا زبردستی یہودیوں کو سر زمین فلسطین پر لا کر آباد کرتے ہیں۔ اور سر زمین فلسطین کو تین ٹکڑوں میں بانٹ دیا جاتا ہے: مغربی کنارہ، غزہ کی پٹی اور اسرائیل۔
سپریم کورٹ نے انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے ایک طرف غیر یقینی اور ابہام کا خاتمہ کیا ہے تو دوسری جانب میاں نواز شریف اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے لیے بھی سیٹی بجا دی ہے کہ وقت کم ہے۔
پنجاب بھر میں بلوچ طلباء غیر محفوظ ہوچکے ہیں ان کو کسی بھی وقت لاپتہ کیا جاتا ہے، ان کی نسلی پروفائلنگ کی جاتی ہے، انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ بلوچ طلباء کے لئے پنجاب نوگو ایریا بن چکا ہے، انہیں ہاسٹلز سے لاپتہ کردیا جاتا ہے
جب آپ دو مرتبہ بم دھماکے میں زخمی ہوں توذہنی صحت کیسے متاثر نہیں ہوگی۔ دہائیوں سے شورش زدہ رہنے والے صوبہ بلوچستان میں صحافی نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے لگے۔ کیا صحافیوں کو بروقت طبی امداد مل پائیں؟