بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع “ہامونِ مشکیل” ایک موسمی نمکین جھیل ہے، جو تحصیل نوکنڈی، شہر نوکنڈی سے جنوب مشرق کی جانب تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلے جو کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ جھیل پاکستان کی سب سے بڑی خشک جھیل تصور کی جاتی ہے، جس کی لمبائی تقریباً 85 کلومیٹر اور چوڑائی 35 کلومیٹر ہے۔
دنیا بھر میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (MSMEs) ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتیہیں۔ یہی کاروبار روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کرتے ہیں، مقامی پیداوار کو فروغ دیتے ہیں، اور معاشی استحکام کی بنیاد بنتے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں ایک جانب بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے اور دوسری جانب معیشت مسلسل دباؤ کا شکار ہے، تو ایسے حالات میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
بلوچستان میں ’’غیرت کے نام پر قتل‘‘قتل ایک انسان نہیں ہو رہا، پورا سماج لاش بنتا جا رہا ہے ہر سال درجنوں عورتیں اور نوجوان صرف اس لئے مار دیئے جاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی جسارت کی لیکن اس قتل میں صرف کسی فرد کا ہاتھ نہیں ہوتا، یہ قتل ایک نظام کرتا ہے ،اس میں قبائلی، پدرشاہی، ظالمانہ اور ریاستی نظام شامل ہیں،
میرا بھائی، علی نواز بلوچ، 45 برس کی عمر میں انتقال کر گیا۔ وہ ایک ایسے کینسر سے ہارا جس سے بچا جا سکتا تھا۔ ابتدائی طور پر وہ منہ کے کینسر سے صحت یاب ہو چکا تھا، لیکن بعد میں یہ کینسر پھیل گیا۔ علی نوازپاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے سینئر کارکن تھے، اور… Read more »
لیاری کی تنگ گلیوں میں چار جولائی کی صبح ایک ایسا المناک واقعہ پیش آیا جس نے ہر دل کو دہلا دیا۔ ایک بوسیدہ عمارت کے اچانک زمین بوس ہونے سے 27 قیمتی جانیں ملبے تلے دب گئیں ،جن میں مائیں، معصوم بچے، محنت کش باپ اور خوابوں سے بھرے نوجوان شامل تھے۔ چیخوں، آہوں اور آسمان کو چھوتی فریادوں نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ لیاری میں یہ صرف ایک عمارت نہیں گری بلکہ کئی گھرانے، کئی خواب اور کئی امیدیں مٹی میں دفن ہو گئیں۔ لیاری آج صرف ایک حادثہ نہیں، ایک صدمہ جھیل رہا ہے، جو برسوں تک اس کے باسیوں کے دلوں پر تازہ رہے گا۔ یہ سانحہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ غفلت اور ناانصافی کا انجام کتنا ہولناک ہو سکتا ہے۔
بی ایس او کے سابق چیئرمین محترم واحد رحیم نے اپنے فیس بک بلاگ میں’’ آدرش ‘‘ کے عنوان سے جو بیانیہ قلم بند کیا ہے وہ کوئی نیا نہیں بلکہ وہی بیانیہ ہے جو پاکستانی کمیونسٹ کم لبرلز کا رہا ہے گوکہ بلاگ کی زبان اور روانی خوبصورت ہے لیکن خیالات اور حقائق میں ربط موجود نہیں ہے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ ایک ہفتے سے جاری کشیدگی اب ایک کھلی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس دوران دونوں جانب شدید بمباری، میزائل حملے اور ڈرون کارروائیاں دیکھی گئی ہیں، جن میں اب تک سیکڑوں افراد جاںبحق اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں پناہ گزین نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
تعلیم کی حقیقی ترقی کا راز تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ میں پوشیدہ ہے۔ بدقسمتی سے، بلوچستان میں قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ہمارا تعلیمی نظام رٹنے ( learning rote) پر مبنی رہا ہے۔
بلوچستان کی تاریخ میں قدرتی آفات نئے نہیں، مگر ان کا تسلسل اور شدت پچھلے کچھ برسوں میں جس انداز سے بڑھاہے، اْس نے نہ صرف انسانی زندگی کو متاثر کیا بلکہ ترقی کے بنیادی نظام کو بھی بار بار پچھاڑ کر رکھ دیا۔
وادی کیچ کا ہر گاؤں اور قَصبہ ایک نہ ایک شخصیت کی وجہ سے مشہور ہے چاہے وہ بہادری و جْرات ہو،مہمان نوازی و سخاوت ہو،خوش الہانی و موسیقی ہو، جْرات وغیرت ہوشعرو شاعری ہو یا علم و ادب ہو ،کسی نہ کسی نسبت مشہور ہونگے کیچ کا قصبہ کلاتک سے کچھ مْسافت کے فاصلے پر ایک ایسا گاؤں واقع ہے، چو زمانہء ماضی میں دریائے کیچ کے بالکل عقب میں واقع ہونے کی وجہ سیاب میرانی ڈیم کی زَد میں آچکاہے(اب ساری آبادی زبیدہ جلال مین روڈ کے نزدیک شمالی جانب منتقل ہوچکی ہے) اسی سولبند نامی چھوٹے سے گاؤں میں شیراں دادکریم گوڑی جیسے سپوت،مْعالج وادیب ڈاکٹر موسی خان قلم دوست،ڈاکٹرمنیر احمد شورش،اطلاعات و نشریات اور ادیب وتِحقیق کے لازوال شخصیات مْحترم بشیر احمد بلوچ نے آنکھیں کْھولی ہیں، اِسی طرح اِسی خاندان کے ایک اور چَشم وچِراغ اور ثقافتی مَْہم جْو جناب عبداللہ بلْوچ بھی اسی گاؤں میں سال 1957ء کو پیدا ہْوئے