پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید 27 افراد جاں بحق ہو گئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار 219 ہو گئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 7 ہزار 963 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔
اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظوری کے بعد اپوزیشن کے مارچ کی کیا اہمیت رہتی ہے اس نکتے پر زیادہ توجہ دینا ضروری ہوگیا ہے کیونکہ جو اپوزیشن مارچ کرکے حکومت کو گھر بھیجنے کی تیاری میں لگی ہوئی ہے جبکہ دوسری اپوزیشن گروپ عدم اعتماد کے ڈھول پیٹ کر روز یہ دباؤ بڑھاتے دکھائی دیتی ہے کہ حکومت کو چلتا کردینگے مگر سینیٹ میں جوکچھ ہوا، یہ اپوزیشن کی واضح ہار ہے، نمائندگان کی غیر حاضری اپنی سیاسی جماعتوں کے ساتھ موجودہ حالات میں چلنے کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ وہ کسی طوربھی حکومت کے خلاف بڑا محاذ کے لیے تیار نہیں ہیں ۔
ملک میں ایک طرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تنائو بہت زیادہ زیر بحث موضوع بن چکا ہے تو دوسری جانب سندھ لوکل گورنمنٹ بل ایک نئی سیاسی صف بندی کے حوالے سے تبصروں کا حصہ بن چکا ہے ،یہ دونوں معاملات اپنی جگہ اہمیت ضرور رکھتے ہیں اور اس کی وجوہات بھی ہیں۔
پی ٹی آئی کی حکومت کا بڑا سلوگن تبدیلی، کرپشن کا خاتمہ، بدعنوانی میںملوث شخصیات کو قانون کی گرفت میں لانا ہے اور تین سال سے زائد عرصے کے دوران مختلف سیاسی شخصیات کو اس دوران گرفتار بھی کیا گیا اور جیل بھی بھیجا گیا مگربیشتر سیاسی شخصیات دوبارہ آزاد ہوئے اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں صرف میاں محمد نواز شریف ملک سے باہر چلے گئے جس کی وجہ ان کی بیماری بتائی گئی اور شہباز شریف ان کے ضامن بنے مگر کافی عرصہ گزرگیا میاں محمد نواز شریف واپس نہیںآئے اور بیرون ملک جاکر انہوں نے فوری سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں، درمیان میں بریک لینے کے بعد پھر سرگرم ہوئے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ نواز شریف کو وطن واپس لایاجائے مگراب تک کامیابی نہیں ملی ہے۔
سندھ لوکل گورنمنٹ بل کی منظوری کے بعد کراچی کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا ہوگئی ہے، ایک طرف جماعت اسلامی احتجاجی دھرنے پر بیٹھ گئی ہے جبکہ ایم کیوایم پاکستان، ایم کیوایم حقیقی بھی اس پر سراپااحتجاج ہے محسوس ایسے ہورہا ہے کہ کراچی کی سیاست ایک بار پھر لسانی بنیاد پر تقسیم ہونے جارہی ہے یہ تاثر پیدا کیاجارہا ہے کہ سندھ پر صرف ایک جماعت یعنی پاکستان پیپلزپارٹی اپنی اجارہ داری چاہتی ہے اور تمام تر انتظامی امور کو کنٹرول کرنے کاارادہ رکھتی ہے۔
پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی کا بڑا مسئلہ ہے جس پر تاحال قابو نہیں پایاجاسکا ہے جتنے بھی دور گزرے ان میں محض دعوے ہی کئے گئے کیونکہ بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملک کی اہم شخصیات ملوث ہیں جو کسی نہ کسی سرپرستی کے ذریعے کرپشن اور بدعنوانیاں کررہے ہیں جب ان پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو تمام تر مشینری کو حرکت میںلانے کے لیے پورا زور اداروں پر ڈالا جاتا ہے ۔پھر ایک اور المیہ یہ بھی ہے کہ جن اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کرپشن کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائیں بغیر کسی دباؤ کے کام کریں۔
استحکام وعدم استحکام کامعاملہ خطے میں موجود ہے مگر اس کا مقابلہ اس وقت کیا جاسکتا ہے کہ جب اندرون خانہ ملک میں سیاسی استحکام موجود ہو مگر گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ دیکھاگیا ہے کہ حکومت اوراپوزیشن کے درمیان سیاسی جنگ جاری ہے اب تو اس میں مزید شدت آرہی ہے اس قدر معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں اور الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے اس کا فائدہ یقینا ملک اورعوام کو نہیں ہے بحرانات مزید سنگین شکل اختیار کرینگے حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جن پر کرپشن کے کیسز ہیں ان کے خلاف کارروائی کرے اور پھر فیصلہ عدلیہ پر چھوڑدیاجائے جبکہ اپوزیشن کیسز کاسامنا کرے اگر وہ مقدمات کو الزامات سمجھتی ہے تو قانونی طریقہ اختیار کرے البتہ جنگی ماحول جیسی صورتحال کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے عوام کی لائیوکال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف کو میں اپوزیشن لیڈر نہیں قوم کا مجرم سمجھتا ہوں۔
عوام کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست کی ہے اور ریاست کے اندر موجود قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ایمانداری کے ساتھ نبھاتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کا معاشرے سے خاتمہ کریں اوران تمام منفی سرگرمیوں جو مہذب معاشرے کے لیے زہرقاتل ہیں ان کا قلع قمع کرنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے مگر افسوس کہ کئی دہائیوں سے ملک میں پولیس کے اندر بڑے پیمانے پر اصلاحات نہیں ہوئیں اور نہ ہی کسی قسم کا چیک اینڈ بیلنس رکھا گیا کہ پولیس محکمے کے اندر موجود جرائم کی سرپرستی اور براہ راست ملوث ہونے والے آفیسران و اہلکاروں کو عبرت کا نشان بناتے ہوئے محکمے کے اندر موجود کالی بھیڑوںکو نکالاجاسکے ۔
ملک اوربلوچستان کی ترقی کا جھومر گوادر سے اول روز سے بہت سی امیدیں لگی ہوئی ہیں کہ گوادر سی پیک سے شروع ہونے والے منصوبوں سے بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی کے نئے سفر کا آغاز ہوگا اور بلوچستان میں موجود بحرانات، مسائل محرومیوں سب کا ازالہ ہو گا۔ دہائیوں سے پسماندگی کا شکار صوبہ اپنے محاصل کے ذریعے نئے منصوبوں کے ذریعے صنعتیں، بجلی گھرسمیت دیگر پروجیکٹ شروع کرتے ہوئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا مگر کچھ عرصہ سے سی پیک منصوبہ انتہائی تعطل کا شکار دکھائی دے رہا ہے جبکہ گوادر ڈیپ سی پورٹ بھی اس طرح فعال نہیں کہ جلد ہی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہوسکے مگر اس جانب توجہ دینا اشد ضروری ہے ۔
بلوچستان خوبصورتی کے لحاظ سے اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے کوئٹہ سمیت دیگر اضلاع میںباہر کے شہروں کے لوگ سیاحت کیلئے بھی آتے ہیں مگر گزشتہ چند برسوں کے دوران اس رجحان میں بہت کمی آئی ہے جس کی بڑی وجہ اپنے صوبے کو خوبصورت بنانے کے ساتھ انفراسٹرکچر پر توجہ نہ دینا ہے۔ ہر وقت اس اہم مسئلے کی جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ میٹروبس، گرین لائن بس اور بی آر ٹی جیسے بڑے منصوبے لاہور، کراچی اور پشاور میں بنائے گئے ہیں مگر کوئٹہ شہر میں گرین لائن بس سروس کا وعدہ آج تک وفا نہ ہوسکا المیہ تو یہ ہے کہ بنیادی مسائل تک حل نہیں کئے گئے جس میں سڑکیں، پل، انڈر پاسز، پانی فراہمی، سیوریج سمیت دیگر مسائل کا سامنا شہریوں کو ہے اور یہ تمام منصوبے کوئٹہ پیکج میں موجود ہیں اس پیکج پر اول روز سے ہی توجہ دی جاتی تو آج کوئٹہ شہر کا نقشہ ہی بدل جاتا ،آبادی کا بڑھتا تناسب روز بہ روز مسائل کی وجہ بھی ہے کیونکہ اسی تناسب کو مد نظر رکھ شہر کی تعمیر کی پلاننگ کی جاتی ہے۔