|

وقتِ اشاعت :   January 28 – 2022

پی ٹی آئی کی حکومت کا بڑا سلوگن تبدیلی، کرپشن کا خاتمہ، بدعنوانی میںملوث شخصیات کو قانون کی گرفت میں لانا ہے اور تین سال سے زائد عرصے کے دوران مختلف سیاسی شخصیات کو اس دوران گرفتار بھی کیا گیا اور جیل بھی بھیجا گیا مگربیشتر سیاسی شخصیات دوبارہ آزاد ہوئے اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں صرف میاں محمد نواز شریف ملک سے باہر چلے گئے جس کی وجہ ان کی بیماری بتائی گئی اور شہباز شریف ان کے ضامن بنے مگر کافی عرصہ گزرگیا میاں محمد نواز شریف واپس نہیںآئے اور بیرون ملک جاکر انہوں نے فوری سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں، درمیان میں بریک لینے کے بعد پھر سرگرم ہوئے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ نواز شریف کو وطن واپس لایاجائے مگراب تک کامیابی نہیں ملی ہے جبکہ اسی طرح قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور کرپشن کے ذریعے بیرون ملک رقم کو واپس وطن لانے میں بھی حکومت ناکام رہی۔ اب شہزاد اکبر کے مستعفی ہوجانے کے بعد نئی بحث چھڑ چکی ہے کہ انہوں نے خود استعفیٰ دیا ، یہ خبریں بھی سامنے آرہی تھیں کہ وزیراعظم عمران خان شہزاد اکبر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے اس لیے ان سے استعفیٰ طلب کیا گیا ۔ بہرحال اس معمہ کو کسی اور نے نہیں حکومت میںموجود اہم وزیر شیخ رشید نے حل کردیا ۔

گزشتہ روز غیرملکی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور شہزاد اکبر کے درمیان ناراضگی کی وجہ نواز شریف اور بیرون ملک بھیجے گئے پیسے واپس نہ لانا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک کا فائدہ اسی میں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک صفحے پر ہوں، وزیراعظم عمران خان اور فوجی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور فوجی قیادت کا فیصلہ ہے کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی سوچ میں فرق ہو سکتا ہے مگر ایسا نہیں کہ وہ ایک صفحے پر نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نظر آتا ہے کہ عدالتوں میں مقدمات لے جاتے وقت شاید درست تیاری نہیں کی گئی، چوروں، ڈاکوئوں، کرپٹ اور بددیانت لوگوں کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے عمران خان کو ووٹ ملے، احتساب عمران خان کا سب سے بڑا نعرہ تھا مگر ہمیں وہ کامیابی نہیں ملی جو ملنی چاہیے تھی۔

برطانیہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں مقیم ملزمان اور مجرموں کو واپس لانے کے لیے معاہدے کی کوشش کی جا رہی ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ نواز شریف واپس آ جائیں، نواز شریف کو ہم نے خود بھیجا یہ ہماری ہی غلطی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سب کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہوئے اور باہر چلے گئے، حکومت کی کوشش ہے کہ ان افراد کو واپس لایا جائے جو عدالتوں اور حکومت کو مطلوب ہیں، بہت سی کوششوں کے باوجود تاحال اسحاق ڈار کی واپسی ممکن نہیں بنا سکے۔انہوں نے کہا کہ اربوں کی کرپشن ہوئی، ایک ایک ملازم کے اکاؤنٹ سے 4، 4 ارب روپے برآمد ہو رہے ہیں، شہباز شریف پر 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے لیکن ہم ان کے پیسے بھی نہ لا سکے۔ احتساب کے عمل میں ہر جگہ ہی بہتری کی گنجائش ہے، ہمیں کیسز اچھے تیار کرنے کی ضرورت ہے، اچھے وکیل ہوں۔شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان میں ارادے کی کمی نہیں ہے، وہ کہتے ہیں کہ این آر او دینا غداری ہو گی۔بہرحال اس میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کودرمیان میں لایا جارہا ہے یقینا فوج ملک کا اہم ادارہ ہے اور اس کے تعلقات تمام حکومتوں کے ساتھ بہتر ہی ہونگے اور یہی بات خود پاک فوج کے ترجمان متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ہمارے تعلقات تمام حکومتوں کے ساتھ ایک بہترین ادارے کی حیثیت سے ہوتے ہیں ،پسندوناپسند کی باتیں محض گمراہ کن ہیں اس لیے موجودہ حکومت کے ذمہ داران بھی اداروں کوسیاست میں لانے کی بجائے گورننس پر خاص توجہ دیں اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر بحرانات کے حل کے حوالے سے کردار ادا کریں سب کا ایک صف میں شامل ہونا ہی ملک اور عوام کے وسیع ترمفاد میں ہے۔