بلوچستان میں گیس کے بڑے ذخائر،لیکن اہل بلوچستان محروم وپسماندگی کا شکارکیوں؟

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں گیس کے بڑے ذخائر،لیکن اہل بلوچستان محروم وپسماندگی کا شکارکیوں؟
21اکتوبر 2021ء کو بلوچستان کے ضلع کوہلو سے گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈکے ترجمان کے مطابق گیس ذخائر جندران ویسٹ ایکس ویل سے دریافت ہوئے ہیں جس سے یومیہ 24 لاکھ ایم ایم سی ایف ڈی گیس نکلے گی۔ترجمان کا کہنا ہے کہ 1627 میٹر گہرائی کے بعد گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔او جی ڈی سی ایل کے مطابق ملک میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں، جندران ویسٹ ایکس-1 کنواں کی دریافت ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔واضح رہے کہ گزشتہ سال 2020فروری میں بھی گیس کے بہت بڑے ذخائر ضلع قلات سے دریافت ہوئے تھے۔تیل اور گیس کی تلاش کرنے والی سرکاری کمپنی پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کی زیر ملکیت بلوچستان میں مارگینڈ بلاک سے دس کھرب مکعب فٹ گیس کے ذخائر دریافت ہونے کا امکان ظاہرکیاگیاتھا۔پی پی ایل پہلے ہی اعلان کرچکی ہے کہ بلوچستان کے ضلع قلات میں مارگینڈ ایکس ون بلاک سے ہائیڈرو کاربن دریافت ہوئی ہے تاہم کمپنی نے ان ذخائر کے اصل سائز کا اعلان نہیں کیا۔مارگینڈ ایکس ون میں 30 جون 2019 کو کھدائی کا آغاز کیا گیا تھا اور 4،500 میٹر کی گہرائی میں ماڈیولر ڈائنامکس ٹیسٹنگ (ایم ڈی ٹی) سے ہائیڈروکاربن کی موجودگی کے شواہد ملے۔کنویں کے ڈرل اسٹیم ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ ایک دن کی پیداوار 10.7 ملین مکعب فٹ گیس اور 132 بیرل مائع ہو سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گیس کے ذخائر سے متعلق حتمی اعدادوشمار کنویں کی کھدائی مکمل ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکیں گے۔کمپنی کی جانب سے جاری ابتدائی بیان میں کہا گیا مارگینڈ بلاک کی ساخت پر مبنی ابتدائی تخمینے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس بلاک میں ایک کھرب مکعب فٹ ذخائر موجود ہیں تاہم مزید کنویں کھودنے سے اس اندازے کی تائید ہو سکے گی۔گزشتہ15 سال میں دریافت ہونے والے یہ گیس کے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔ اس سے ایل این جی کم درآمد کرنی پڑے گی اور ملک کو 900 ملین ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے۔پاکستان میں گھریلو گیس کی پیداوار سال2000 سے چار بلین مکعب فٹ یومیہ پر برقرار ہے جبکہ اس کے استعمال میں کئی گنا اضافہ ہوا اور ذخائر میں ہر سال سات فیصد کے حساب سے کمی آ رہی ہے۔ملک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے پاکستان گیس درآمد بھی کرتا ہے۔ حکومت ملک میں پیدا ہونے والی گیس کی لاگت میں 100 فیصد اضافے کے ساتھ عوام کو فروخت کر رہی ہے۔بلوچستان میں دہائیوں سے گیس ویسے ہی نکل رہی ہے مگر اس کافائدہ کبھی بلوچستان کے عوام کو نہیں ملا ،ظلم کی طویل داستان ہے گیس کی مد میںملنے والے محاصل اور منافع سے بھی بلوچستان کے عوام محروم ہیں حالانکہ اگر انہی وسائل کی رقم بلوچستان پر خرچ کی جاتی تو آج حقیقی معنوں میں یہ خطہ تبدیل ہوچکاہوتا ، یہاں روزگار سمیت تمام تر بنیادی سہولیات لوگوں کو دہلیز پر فراہم ہوتیں مگر ان تمام وسائل سے حکمرانوں نے ہی فائدہ اٹھایا ہے۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ بلوچستان اپنے ہی گیس سے اس قدر محروم ہے کہ سرد علاقوں میں شدید سردی کے دوران گیس نایاب ہوجاتی ہے ،گیس پریشر میں کمی کی جاتی ہے جبکہ بلوچستان کے چند علاقوں کو چھوڑ اکثرعلاقوں میں گیس کی سہولت سرے سے دستیاب ہی نہیں۔ بلوچستان کا وہ علاقہ جہاں سے گیس دریافت ہوا ہے وہاں کے مکین لکڑیاں جلاکر اپنا گزارا کرتے ہیں ۔بہرحال دہائیوں پر محیط یہ ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے جس کے ازالے کے دعوے تو کئے گئے مگر اہل بلوچستان کے حصے میں محرومی وپسماندگی کے سواکچھ نہیں آیا۔



بلوچستان میں سیاسی تبدیلی مذاق بن گیا

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں سیاسی تبدیلی اب مذاق بن چکا ہے کس کے پاس کتنی اکثریت ہے واضح نہیں ہو رہا ،دعوے تو اب بھی باپ جماعت کے حکومتی اورناراض اراکین کی جانب سے اکثریت کے کئے جارہے ہیں، بظاہر تو ناراض اراکین نے ایک پاور شو کردیا ہے جس پر وزیراعلیٰ بلوچستان اور ان کے اتحادی اتنے پُرامید ہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کرنے والے بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں صرف تحریک جمع کروانے تک چند ارکان کے ساتھ دکھاوے کے طور پر نظرآرہے ہیں مگر ووٹنگ کے روز وہ اپنے وعدے کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے حق میں ووٹ دینگے ۔



آئی ایم ایف شرائط کی منظوری، عوام معاشی پالیسی سے مایوس

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان پر آئی ایم ایف کے بڑھتے دباؤ اور اور شرائط ایک نئے مہنگائی کے طوفان کی نوید سنارہے ہیں چونکہ مسلسل حکومت آئی ایم ایف سے مزید نئے قرض کی بحالی کے حوالے سے رابطے میں ہے تاکہ قرض کی بحالی کے بعد معاشی معاملات کو چلایاجاسکے مگر آئی ایم ایف نے قرض بحالی کے حوالے سے مزید سخت شرائط سامنے رکھے ہیں اس لئے یہ مسئلہ طول پکڑتاجارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ کوشش کی جارہی تھی کہ شرائط میں نرمی کی جائے تاکہ مزید ٹیکسز اور مہنگائی کامسئلہ سرنہ اٹھائے جس کا بوجھ پہلے سے عوام پر لادھ دیا گیا ہے ۔مگر کوئی بھی ادارہ قرض اپنی شرائط کی بنیاد پر دیتا ہے چونکہ اسے اپنے منافع اور سود سے ہی سروکار ہوتاہے جس کے لیے وہ اپنا معاشی روڈ میپ حکومت کے ہاتھوں تھماتا ہے ۔



اپوزیشن کی احتجاجی تحریک، عوام سڑکوں پر،لیڈران غائب!

| وقتِ اشاعت :  


اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد پی ڈی ایم نے ملک بھرمیں بدترین مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہروں کا آغاز کردیا ہے ۔لاہور اور کراچی سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی ریلی ومظاہرے کئے گئے۔ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے قائدین اور کارکن مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں میں شرکت کریں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پی ڈی ایم کے زیر اہتمام مری روڈ راولپنڈی میں مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا اوراحتجاجی دھرنا بھی دیا گیا۔



بلوچستان میں سیاسی تبدیلی، باپ میں دھڑے بندی، مستقبل کی نوید

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کی سیاست روز ایک نئی رخ اختیار کرتی جارہی ہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر اکثریت کس کے ساتھ ہوگی یہ ابھی ابہام میں ہے، دونوں طرف سے اکثریت کے دعوے کئے جارہے ہیں مگر ساتھ ہی سنگین نوعیت کے الزامات کا سلسلہ بھی چل پڑا ہے۔ گزشتہ روز پانچ اراکین اسمبلی کی اجلاس میں عدم شرکت کے بعد حکومتی ناراض اراکین کی جانب سے الزام لگایاگیا کہ ان اراکین کو اغواء کیا گیا ہے جس کے بعد لالارشید اسمبلی پہنچے، بشریٰ رند نے ٹوئٹرپر بیان جاری کرتے ہوئے اغواء کی تردید کی جبکہ ماہ جبیں کا بھی بیان سامنے آگیا۔



پی ڈی ایم تحریک، حکومت کو درپیش چیلنجز، پیپلزپارٹی کی نئی پیشکش

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے راولپنڈی سے احتجاجی تحریک کا آغاز کردیا۔اپوزیشن اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ن) کی جانب سے راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہرگزشتہ روز مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرے میں متعدد افرادنے شرکت کی جنہوں نے مہنگائی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔اس دوران مظاہرین نے حکومت کے خلاف لیاقت باغ سے کمیٹی چوک تک ریلی بھی نکالی۔واضح رہے کہ پی ڈی ایم نے ملک گیر احتجاج کیلئے ریلیوں، جلسوں اور مظاہروں کے پروگرام کو حتمی شکل دے دی ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم نے جعلی حکمرانوں کو گھر بھیجنے کیلئے فیصلہ کن تحریک شروع کردی، پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھاکر مہنگائی کا ایٹم بم چلایا گیا، ریاست مدینہ کا مذہبی کارڈ تنقید سے بچنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔



ہوشاب واقعہ، متاثرہ خاندان انصاف کا منتظر

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان ہائی کورٹ میں ہوشاب واقعے کے حوالے سے سینئر وکیل و سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست پر چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشمل بینچ نے سماعت کی۔عدالت نے غفلت برتنے پر ڈپٹی کمشنرکیچ، اسسٹنٹ کمشنر تربت اور نائب تحصیلدار ہوشاب کو معطل کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے ہوشاب واقعے میں جاں بحق بچوں کو شہید کا درجہ دینے کا بھی حکم دیا۔عدالت نے حکومت بلوچستان کو یہ بھی حکم دیا کہ واقعے میں زخمی بچی کو سرکاری خرچ پر طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائے، اس کے علاوہ ہوشاب واقعے کی ایف آئی آر کرائم برانچ کے تھانے میں درج کی جائے جبکہ واقعے کی لیویز کی جانب سے درج ایف آئی آر خارج کی جائے۔



بلوچستان میں حکومتوں کے خاتمے کی وجوہات

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں سیاسی ماحول کبھی بھی خوشگوار نہیں رہا ہے اس لیے بلوچستان میں بہت ہی کم حکومتوں نے اپنی مدت پوری کی ہے۔ سیاسی اتحادیوں کے اپنے اختلافات ہی حکومتوں کے خاتمے کاسبب بنتی رہی ہیں جس کی بنیادی وجوہات بہت سی ہیں مگر اس پر حاوی عناصرانا و مفادات ہی رہے ہیں، نظریاتی، گورننس، انتظامی امورکو محض ایک جواز کے طور پر ہی پیش کیا گیا ہے۔ تاریخی تناظر میں اس کا جائزہ لیاجائے تو بلوچستان میںحکومتی تبدیلیوں کے اسباب واضح طور پر نظرآئینگے، بلوچستان میں بننے والی پہلی نیپ کی منتخب حکومت مضبوط تھی اندرون خانہ اس اتحاد کو کسی طرح کے بھی خطرات کا سامنا نہیں رہا مگر اس میں ایک مسئلہ وفاق کے ساتھ انتظامی اختیارات کے معاملات تھے جو ذوالفقار علی بھٹو اور نیپ کے رہنماؤں کے درمیان اس قدر شدت اختیار کرگئے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ حکومت کے خاتمے کا ٹھان لیا۔



سیاسی کھینچاتانی، معاشی بحران، تبدیلی سرکار کی گورننس؟

| وقتِ اشاعت :  


ہمارے یہاں نظام کبھی بھی شفاف اور اصولوں کے مطابق نہیں چلا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں کے آپسی جنگ اور عناد نے اس ملک کو کبھی بھی مستحکم نہیں ہونے دیا، مخالفین کی درگت بنانے کے لیے اتنی توجہ دی گئی کہ کسی بھی طرح انہیں زیر عتاب لایاجائے، ان کی سیاست کو بندگلی میں داخل کیاجائے تاکہ ان کی سیاسی ساکھ بری طرح متاثر ہوجائے اور عوام کی مکمل توجہ اسی سیاسی تماشاپر مرکوز رہے۔ ملک کے حالات کس رخ جارہے ہیں اندرون خانہ درپیش مسائل کیا ہیں دنیاکے ساتھ ہمارے تعلقات کس نوعیت کے ہیں اور ہماری اہمیت ان کی نظر میں کیا ہے جس کی بیسیوئوںمثالیںموجود ہیں ۔



غیرضروری منصوبوں کی منطق، حکومتی سطح پرمہنگائی کا نیاطوفان، عوام بے بس

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں مہنگائی تاریخی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے، روز مرہ کی تمام تر اشیاء کی قیمتوں کو پَر لگ گئے ہیں، عوام کی قوت خرید مکمل جواب دینے لگی ہے کوئی بھی ایسا طبقہ نہیں کہ جو اس سے براہ راست متاثر نہ ہواہو۔ اندازہ یہی ہے کہ آنے والے چند دنوں میں مزید مہنگائی بڑھے گی افسوس کہ جس تبدیلی کی توقع عوام کررہی تھی اس تبدیلی نے واقعی ایسے نظام کی تبدیلی لائی کہ سارا بوجھ عوام پر لادھ دیا گیا۔ہمارے وزراء اب بھی یہی بات دہرارہے ہیںکہ ماضی کی حکومتوں کے غیر ضروری منصوبوں کی وجہ سے مالی حوالے سے بوجھ عوام اور حکومت کو اٹھانا پڑرہا ہے ۔