تجاوزات مافیا کے خلاف سخت ایکشن کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ شہر میں تجاوزات سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے شہرکی خوبصورتی میں بگاڑ پیدا ہوا ہے اور مسائل دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں جب بھی تجاوزات کے خلاف مہم تیز کی جاتی ہے تو کچھ طاقتور لوگ اس میں خلل ڈالنے کیلئے عام لوگوں کو ڈھال بناکر استعمال کرتے ہیں چونکہ یہ عناصر غیر قانونی طریقے سے سرکاری املاک پر قابض ہیں اور تجاوزات قائم کرکے عرصہ دراز سے کاروبار کررہے ہیں اس لیے وہ آسانی سے اپنے تجاوزات کا خاتمہ نہیں ہونے دینگے ۔



کوئٹہ کے لیے گرین بس سروس

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ کے شہریوں خصوصاً مضافات میں رہنے والے لوگوں کے لئے سستی ٹرانسپورٹ کا حصول ایک مشکل امربن گیا ہے۔ اندرون شہر اور تجارتی مراکز میں ٹرانسپورٹ اتنا بڑا مسئلہ نہیں،ایک لاکھ سے زائد قانونی اور غیر قانونی آٹو رکشوں نے یہ مسئلہ حل کررکھا ہے لیکن مضافات میں رہنے والوں کو شہر تک پہنچنے اور واپس اپنے گھر تک جانے کے لیے اچھی خاصی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے ۔



بلوچستان یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی

| وقتِ اشاعت :  


دہائیوں سے وفاقی اورصوبائی ادارے شجر کاری کی مہم بھر پور طریقے سے چلاتے آرہے ہیں۔مگراس شجر کاری کا ملک بھر میں کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا جتنا ہونا چائیے تھا۔ماضی میں یہ دیکھنے کو ملا کہ اخبارات اور میڈیا میں افسران اور حکمرانوں کی پبلسٹی ضرور ہوئی مگر متعلقہ حکام اس مہم کے بعد سب بھول گئے اور شجر شجر نہیں رہے ، دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر درخت سوکھ گئے اور یوں پوری محنت ضائع ہوگئی۔ 



تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں

| وقتِ اشاعت :  


موجودہ صوبائی حکومت نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ان کی بہتری کے لیے ہر ضلع سے ہرسال چار مڈل اور چھ ہائی اسکولز کو تمام سہولیات کی فراہمی کا اعلان کیا ہے جبکہ چار ماڈل ہائی اسکولز کا قیام عمل میں لانے کابھی فیصلہ کیاہے جن میں فرسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر کی کلاسیں ہوں گی۔



بلوچستان کی ترقی، سیاسی مداخلت کے بغیر

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان ایک وسیع وعریض صوبہ ہے جس کی آبادی منتشر ہے یقیناًایسی صورت میں شہریوں کو سہولیات کی فراہمی ایک مشکل امر ہے مگر ناممکن نہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے بڑے شہروں کا جائزہ لیاجائے تو وہاں تمام شہری سہولیات دستیاب ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے وہاں کی آبادی اورجغرافیہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے روڈ میپ تیار کیاجاتا ہے جس میں ماہرین کو شامل کیاجاتا ہے تاکہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوسکیں۔



عوام کے مسائل کب حل ہونگے؟

| وقتِ اشاعت :  


انتخابات سے قبل ملک میں بڑی تبدیلی کے دعوے کئے جارہے تھے ، قرضوں سے نجات، مہنگائی کا خاتمہ، روزگار اور رہائشی گھروں کی فراہمی کا ایک ایسا تصور پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیا گیا کہ پاکستان کچھ عرصہ کے دوران مغرب نہ سہی مگر ایشیاء کے ان چند ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوجائے گا۔



خطے میں ا من کا خواب

| وقتِ اشاعت :  


افغانستان میں امن و استحکام اور طالبان کے ساتھ دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات میں خاصی پیشرفت ہوئی ہے تاہم بعض معاملات کے بارے میں اتفاق رائے کی کوشش کی جارہی ہے ان میں افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کا انخلاء، اس کے لیے ٹائم فریم اور اس دوران عبوری انتظامیہ کے بارے میں اتفاق رائے کے معاملات شامل ہیں، فریقین نے مذاکرات کے دوران بات چیت کے عمل کو خوشگوار قرار دیا اور یہ تسلسل جاری ہے ۔



ناقص معاشی منصوبہ بندی، غریب عوام پر بوجھ

| وقتِ اشاعت :  


پیٹرول، ایل پی جی اور بجلی کے بعد درآمدی ایل این جی کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی( اوگرا) نے اپریل کے لیے درآمدی ایل این جی کی قیمت بھی بڑھا دی۔ سوئی نادرن اور سوئی سدرن کے لیے گیس کی قیمت میں 0.27 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے۔اوگرا کی جانب سے سوئی نادرن کے لیے گیس کی قیمت 10.57 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو جبکہ سوئی سدرن کے لیے گیس کی قیمت 10.52 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔



پی ایس ڈی پر ہنگامہ آرائی

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں حکومت سازی سے لیکر حکمرانی تک انتہائی مشکل کاباعث بنی ہے جس کی ایک وجہ اکثریتی جماعت کی حکومت کانہ بننا ہے،جس کانتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومتی جماعت اور اتحادیوں کو خوش کرنے کیلئے پی ایس ڈی پی بنائی جاتی ہے تاکہ سب کو ساتھ لیکر چلاجاسکے اگر کسی کو ناراض کیا گیا تو پھر خدشات بڑھنے لگتے ہیں کہ کہیں ناراض گروپ عدم اعتماد کی تحریک لائے اور حکومت کو ختم نہ کرے جوکہ کسی طرح بھی ایک اچھا عمل نہیں بلکہ ملک بھر میں جگ ہنسائی کا سبب بنتا ہے جیسا کہ ماضی میں یہ سب کچھ دیکھنے کو ملتا آیا ہے۔ 



تعلیمی ایمرجنسی، طلباء کورسز سے محروم

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی گزشتہ حکومت کے دور میں نافذ کی گئی تھی جس کیلئے اربوں روپے مختص کئے گئے تھے جبکہ موجودہ حکومت نے بھی اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیمی ایمرجنسی لگائی ہے ۔