ملکی تاریخ میں کبھی کسی بھی دور میں عوام کو یہ سننے کو نہیں ملا کہ بحرانات ٹل گئے، ملکی معیشت بہتری کی طرف بڑھ رہی ہے، اب غریب عوام بیروزگاری، مہنگائی، لوڈشیڈنگ، پانی اور بجلی کی عدم فراہمی سمیت دیگر سہولیات کیلئے ترسے گی بلکہ عوام پہلے سے بھی زیادہ خوشحال ہوگی۔
ملکی سیاسی ماحول میں اچانک بہت بڑی تبدیلی دیکھنے کومل رہی ہے، پی ٹی آئی حکومت جب اپوزیشن میں تھی تو اس کی قیادت نے پہلے ہی عندیا دیا تھا کہ ملک سے چوروں، ڈاکوؤں کا خاتمہ کیاجائے گا۔
بلوچستان میں تعلیم اور صحت کے شعبے کی بجٹ میں مسلسل اضافہ کیاجارہا ہے، بارہا اس حوالے سے ماضی اور موجودہ حکومت کی توجہ مبذول کروائی گئی ہے کہ ان شعبوں کے لیے خطیر رقم مختص کرنے کے باوجودوہ اہداف حاصل نہیں کئے جارہے جس کی توقع تھی۔اب تک اربوں روپے دونوں شعبوں پر لگائے گئے مگر بدقسمتی سے تعلیم کی صورتحال جوں کی توں ہے۔
گزشتہ دودہائیوں سے ملک میں کرپشن کی شور سنائی دے رہی ہے، یہ پہلی حکومت نہیں کہ جو کرپشن سے پاک نظام کا دعویٰ کررہی ہے بلکہ اس سے قبل بھی اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے جمہوری وغیر جمہوری حکمرانوں نے عوام کو اس خوش فہمی میں مبتلا رکھا کہ کرپٹ لوگوں کا کڑا احتساب ہوگا۔جس کرب سے عوام گزررہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا سابق صدر آصف علی زرداری، حمزہ شہباز کی گرفتاری پر کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پاکستان پر رحم آگیا ہے، جو لوگ پکڑے جارہے ہیں اس سے ہمیں فائدہ ہوگا۔کرپٹ افراد کی آگے بھی گرفتاریاں ہوں گی۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ بات اپنی زیر صدارت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کہی۔
ملک کی سیاسی تاریخ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہمیشہ کشیدہ رہی ہے یہ سلسلہ 70 سالوں سے چلتا آرہا ہے، البتہ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ملک کے اندر جمہوری اور غیر سرمایہ دار سیاسی جماعتوں کے اتحاد بنے جس میں ملک کے نڈر اور ایماندار سیاستدانوں نے اپنا کردار ادا کیا۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے قوم کو عیدالفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے آئندہ ملاقات 27 جون کو اسلام آباد میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل سعودی عرب میں وزیراعظم پاکستان سے ان کی ملاقات مثبت رہی ہے۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی دارالحکومت پشاور کی مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی زیر صدارت علمائے کرام کا اجلاس ہوا جس میں صوبے بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں کا جائزہ لیا گیا۔ جس کے بعد مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے علما ء کرام کی متفقہ رائے سے عید کا اعلان کر دیا۔
صوبائی حکومت نے تعلیم کے حوالے سے اچھے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے صوبہ میں تعلیم میں بہتری کے امکانات روشن ہونگے کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں صرف تعلیم کے لئے خطیر رقم مختص کی جارہی ہے مگر نتائج کچھ برآمد نہیں ہورہے حالانکہ نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت تعلیمی ماحول پیدا کرنے کیلئے مختلف سرگرمیوں میں کردار ادا کررہے ہیں مگر یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی ماحول پیدا کرنے کیلئے مہم چلائے۔