ایران سے ملحقہ علاقوں میں اشیائےخورونوش کی قلت نہ ہونےدی جائے، وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایران بارڈر سے ملحقہ اضلاع کی موجودہ صورتحال سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں سرحدی علاقوں میں اشیائے خورد و نوش، ایندھن کی فراہمی کے ساتھ ساتھ زائرین، طالب علموں کی واپسی اور امن و امان کی مجموعی صورتحال کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ زاہد سلیم ، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان، ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند، ڈائریکٹر ایف آئی اے بہرام خان مندوخیل، محکمہ داخلہ کے حکام نے شرکت کی جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری، کمشنر مکران ڈویژن کمشنر رخشان ڈویژن اور ایران سے متصل اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے



پاکستان کو ایٹمی طا قت نبا نے کا فیصلہ شہید بھٹوکا مرہون منت ہے ،سرفرازبگٹی

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے ایشیا اور دنیا کی ایک عظیم اور باوقار رہنما تھیں،



گرینڈالائنس کا احتجاج جاری سرکاری اداروں میں تالہ بندی

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ؛ بلوچستان گرینڈ الائنس کی کال پر کوئٹہ سمیت پورے صوبے میں سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں (ماسوائے ایمرجنسی سروسز) میں تالہ بندی اور احتجاج کا سلسلہ ہفتہ کے روز مسلسل دوسرے دن بھی جاری رہا ۔



منگچر ،دو افراد کی نعشیں برآمد

| وقتِ اشاعت :  


منگچر: منگچرمیں پنیزئی ڈیم کوہک کراس کے قریب سڑک کنارے دو افراد کی نعشیں برآمد لیویز ذرائع کے مطابق آج پینزئی ڈیم کوہک کراس کے نزدیک دو نامعلوم الاسم افراد کی نعشیں برآمد کرلی گئی ہیں



بلوچستان اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث، اپوزیشن کا واک آؤٹ

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں جھالاوان میڈیکل کالج کو بجٹ سے نکالنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا، ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ یہ اقدام خطرناک ہے، مشکلات ہر جگہ ہیں لیکن ایسا کرنا درست نہیں۔ یونس عزیز زہری نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنی کوتاہیوں کا بوجھ دوسروں پر ڈال رہی ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے تجاویز کو شامل نہ کیے جانے پر ایوان سے واک آؤٹ کیا تاہم بعد میں اپوزیشن ایوان میں واپس آگئی۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے جواب دیا کہ حکومت کسی کا نقصان نہیں کرے گی، کسی اسکیم کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا اور خضدار کے لوگوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 2016 کے منصوبے پی ایس ڈی پی سے نکال دیے گئے ہیں، واک آؤٹ جمہوری عمل ہے اور بلوچستان کے حقوق پر مفاہمت نہیں کی جائے گی۔