لسبیلہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبا کے خلاف من گھڑت ایف آئی آردرج کراکے اپنی آمرانہ رویوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ طلبا گزشتہ تین روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں تاحال یونیورسٹی سمیت لسبیلہ انتظامیہ کی طرف سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ خبر نہ تو کسی میڈیا پر آئی ہے اور نہ ہی کسی معروف صحافی نے اسے رپورٹ کرنے کی زحمت کی ہے۔ اگر یوں ہی مسائل کو دباتے رہیں تو انکے نتائج بھیانک شکل میں نکل سکتے ہیں۔ لسبیلہ انتظامیہ اس مسئلے پر بات تک کرنے کو تیار نہیں جیسے ان کے نظر میں یہ ایک معمولی مسئلہ ہے۔ طلبا کی زندگیاں دائو پر لگا کر یونیورسٹی انتظامیہ جس بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے اس پر حکومت وقت کو نوٹس لینا چاہئے لیکن ابھی تک حکومت کو شایداس کا علم ہی نہیں۔ آخر کب تک بلوچ طلبا کے ساتھ ایسا ہوتا رہے گا۔
ولادیمیر لینن کے ہمراہ اکتوبر 1917ء کے بالشویک انقلاب کی قیادت کرنے والے لیون ٹراٹسکی کو آج سے 73 سال قبل، 21 اگست 1940ء کو میکسکو میں جلاوطنی کے دوران قتل کر دیا گیا۔بعد میں منظر عام پر آنے والی دستاویزات سے ثابت ہوا کہ سوویت انٹیلی جنس کے لئے کام کرنے والے کرائے کے قاتل رامن مرکاڈر نے اسٹالن کے حکم پر ٹراٹسکی کوقتل کیا تھا۔ تاریخ کا ستم دیکھیں کہ بالشویک انقلاب کے قائد کے قاتل کو اس کی خدمات کے اعتراف میں سٹالن نے سوویت یونین کے سب سے بڑے انعام’ آرڈر آف لینن‘ سے نوازا۔
خان محمود خان کی وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے محراب خان جانشین کے طور پر مسندِ اقتدار پر براجمان ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر میں انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے بہت سی اقوام کی خود مختاری چھین کر ان کی آزادی ، غلامی میں بدل دی تھی۔ بہت سے علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد 1838ء کو جب انگریز افغانستان پر حملہ کرنا چاہتے تھے تو وہاں پہنچنے کے لیے انھیں بلوچستان کے علاقوں سے گزرنا تھا اور اس سلسلے میں وہ درّہ بولان کے راستے کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔ تاہم انہیں درّہ بولان سے گزرنا اس لیے مشکل پڑ رہا تھا کیوں کہ حاکمِ قلات خان محراب خان افغانستان پر حملہ کرنے کے لیے اپنی سرزمین کی سرحدوں کو استعمال کرنے کے لیے کسی طرح بھی راضی نہیں تھا۔
اورماڑہ شہر سے نکل کر جب ہم اورماڑہ کے دیہی علاقوں میں جارہے تھے تو میرے ذہن میں بار بار یہ سوال آرہا تھا کہ شہر میں تعلیم کا کوئی پرسان حال نہیں تو دیہی علاقوں میں کیا ہوگا؟ مکران کوسٹل ہائی وے سے جب ہم نے تاک لنک روڑ پر سفر شروع کیا تو لنک روڑ کی حالت بہتر دیکھ کر کچھ سکون ملی مگر ہمارا اگلا منزل اورماڑہ کے سکولز تھے جہاں تعلیمی صورتحال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا تھا، کیونکہ ہم نے ماضی قریب میں یہ سنا تھا کہ بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کئی گئی تھی۔
بلوچستان ملک کا پسماندہ صوبہ ہونے کے ساتھ ساتھ علمی میدان میں بھی پستی پر ہے تاہم یہاں اب نوجوانوں میں علمی ماحول کو پروان چڑھانے اور مقابلے کے امتحانات میں شامل ہونے کیلئے کتب بینی کو اولیت دیکر ایک بہترین ماحول کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے نصیرآباد میں چند سال قبل سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کے ترقیاتی منصوبوں میں سے دیگر منصوبوں کے علاوہ خصوصی طور پر ایک لائبریری قائم کی گئی جس کی دیکھ بھال وقتی طور پر سوشل ویلفیئر کے ذمہ لگایا گیا محدود فنڈز کے باوجود لائبریری کو فعال کیا گیا۔
پاکستان کا موجودہ سیاسی بحران جس نے ملک میں ایک بے یقینی کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے جوایک جانب جہاں عام آدمی کے ذہن کو متاثر کررہا ہے، وہیں اس نے ملک کے عام آدمی کے مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے۔ وطن عزیز کے لوگ موجودہ سوشل میڈیا کے دورمیں سیاسی شعور کے بجائے سیاسی عقیدت کاشکار ہوچکے ہیں۔یہ بات شاید بہت سے لوگوں کو بری لگے لیکن یہ حقیقت ہے کہ سیاسی عقیدت سیاسی شعور کی موت ہے۔ بیانیے کی جنگ نے دلیل اور مثبت بحث کو ختم کردیا ہے۔ سیاسی بیانیہ بنانے میں گوبلز کی تھیوری کا کامیاب استعمال ہورہا ہے،یعنی جھوٹ اتنا بولو کہ سچ کا گماں ہونے لگے۔اس کا کامیابی سے استعمال ہورہاہے ،کسی بھی چیز کو بغیر سوچے سمجھے کٹ پیسٹ کرکے اسے سچ ثابت کرنا اور اس پر ڈٹ جانا ہماری فطرت کا جزو بن چکا ہے، ہم اب بحث قائل کرنے کے لیے نہیں بلکہ مخالف پر فتح کی نیت سے کرتے ہیں۔
چند روز سے مختلف سوشل میڈیا ویبسائٹس پر ایک تصویر گردش کر رہی ہے، جس میں بتایا جا رہا ہے کہ دنیا نیوز کے مطابق عمران خان نے جو فنڈ سیلاب زدگان کے نام پر جمع کیا تھا وہ پیسہ لانگ مارچ پر استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ جبکہ دنیا نیوز کے آفیشل اکاونٹ… Read more »
صحت اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور بلاشک جس طرح صحت کسی بھی ریاست کا بہت اہم شعبہ ہے اسی طرح ہر شہری کو صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے۔صحت کی اچھی او رمعیاری سہولیات تک رسائی عوام کی اولین ضرورت ہے تاہم بدقسمتی سے بلوچستان میں صحت کے شعبے کی حالت مکمل اطمینان بخش نہیں مختلف النوع مسائل ہیں اور خاص طور پر غریب خاندانوں کو اپنے مریضوں کے علاج کے لیے کافی مشکلات کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود صحت کے شعبے میں محدود وسائل کے باوجود اچھا اور معیاری کام بھی ہورہا ہے جس کی بین مثال سول ہسپتال کوئٹہ میں امراض قلب کا شعبہ ہے سول ہسپتال کوئٹہ میں کارڈیک سرجری کے کامیاب آپریشن جاری ہیں۔
یوسف مستی خان 16 جولائی 1948 کو کراچی میں واجہ اکبر مستی خان کے گھر میں پیدا ھوئے۔ ان کا تعلق بلوچوں کے مشہور قبیلے ” گورگیچ” سے تھا۔ اس قبیلے کو کسی زمانے میں بلوچ تاریخ کے دراز قد شخصیت، قومی ہیرو اور نامور بلوچی شاعر ” بالاچ ” کی وجہ سے بہت شہرت اور عروج حاصل رہا۔ بالاچ نہ صرف گورگیچ قبیلے کے سردار تھے بلکہ وہ بلوچ قبائل میں ایک اہم کردار کے بھی حامل تھے۔ بالاچ کے وفات کے بعد اس قبیلے کا شیرازہ بھکر گیا اور اس کے بڑی تعداد میں لوگ افغانستان ہجرت کرگئے اور قندھار کے گرد و نواح میں کرز کے علاقے میں آباد ہوگئے۔ ڈھائی سو سال قبل اس قبیلے کے کچھ لوگ افغانستان سے آکر” قلات ” میں آبادہوئے جہاں سے کچھ لوگ بلوچستان کے علاقے ” سبی ” میں آباد ھوئے جبکہ یوسف مستی خان کا خاندان کراچی میں جاکر آبادہوا۔ ان کا شمار کراچی کے حکمران خاندان میں ہوتاتھا ایک طرف ان کے والد واجہ اکبر مستی خان فشری سے متعلق کاروبار اور فیکٹریوں کے مالک رہے تو دوسری ان کے چچا ستار مستی خان انگریزی حکومت میں خان آف قلات کے سفیر رہے۔ یوسف مستی خان نے ابتدائی تعلیم کراچی اور پھر مری میں حاصل کی۔