| صد یق بلوچ

وقتِ اشاعت :   June 9 – 2017

کوئٹہ : آئندہ وفاقی بجٹ میں بلوچستان کو حسب روایت کم سے کم وسائل دینے کی کوشش کی گئی ہے سڑکوں اور ہائی ویزکی تعمیر میں بلوچستان کا حصہ صرف تین فی صد مقرر کیا گیا ہے یعنی این ایچ اے کے 320ارب روپے کے بجٹ میں بلوچستان کا حصہ صرف 15ارب روپے ہوگا اگلے مالی سال کے بجٹ پر عملدرآمد یکم جولائی سے ہوگا ۔

امسال این ایچ اے کو 320ارب روپے سڑکوں اور ہائی وے کی تعمیرات کیلئے دیئے گئے ہیں اس میں بلوچستان کا حصہ کم وبیش 15ارب روپے ہوگا حالانکہ بلوچستان کا رقبہ نصف پاکستان کے برابر ہے اور نصف پاکستان کیلئے صرف 15ارب روپے سڑکوں اور ہائی وے کی تعمیر پر خرچ ہونگے، باقی نصف حصے پر 305ارب روپے خرچ ہونگے۔

گوادر، خضدار، رتو ڈیرو ہائی وے سب سے زیادہ نظر انداز ہائی وے ہیں یہ منصوبہ جنرل پرویز مشرف کے دورمیں 1999ء میں بنایا گیا تھا جس کا مقصد گوادر کی بندرگاہ کو شمالی پاکستان کے علاقوں خصوصاً انڈس ہائی وے کے ذریعے ملایا جائے 18سالوں بعد بھی گوادر، خضدار، رتو ڈیرو ہائی وے ابھی تک نامکمل ہے ۔

اس کے مشکل ترین علاقہ اور مشکل گزار علاقے کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا صرف یہ حصہ کا کام دو سال میں مکمل ہوگا اگلے مالی سال میں اس سڑک پر ڈیڑھ ارب روپے خرچ ہونگے دل چسپ بات یہ ہے کہ اس ہائی وے پر لاگت کا تخمینہ 23اربے روپے لگایا گیا تھا اب تک اس پر 31ارب سے زائد خرچ ہوچکے ہیں یعنی لاگت سے 8ارب روپے زیادہ خرچ ہوچکے ہیں ۔

دوسرا اہم ترین ہائی وے پروجیکٹ خضدار، کوئٹہ اور چمن کو دو رویہ بنایا جارہا ہے اس منصوبہ پر لاگت کا اندازہ 90ارب روپے سے زیادہ لگایا گیا لیکن اگلے مالی سال کے بجٹ میں اس منصوبے کیلئے صرف 2ارب روپے رکھے گئے ہیں یعنی منصوبہ یہ ہے کہ یہ ہائی وے کو بھی اگلی نصف صدی میں مکمل کریں یعنی ہر سال صرف دو ارب روپے خرچ کرنے کی صورت میں، بلوچستان میں ایک بالکل نیا ہائی وے پروجیکٹ ہے۔

اس کو وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے وفاقی حکومت کے سامنے پیش کیا اور اس کو منظور کرلیا گیا یہ یک مچھ، خاران، بسیمہ، کراچی ہائی وے ہے یہ آر سی ڈی ہائی وے کا متبادل ہے اس میں وقت سفر چار گھنٹے کم اور کم سے کم 400کلو میٹر کم ہوگا۔ یہ کراچی اور زاہدان کے درمیان ایک متبادل ہائی وے ہوگا جو نزدیک ترین اور خاران بسیمہ سے گزرے گی کوئٹہ کو بائی پاس کریگا اس پر لاگت کا تخمینہ 13ارب روپے لگایا گیا ہے ۔

اگلے مالی سال میں اس پر 3ارب روپے خرچ ہونگے جس سے یک مچ اور خاران کے درمیان سڑک پکی بنائی جائیگی، بسمیہ، خضدار ایک اور اہم ترین شاہراہ ہے یہ وسطی بلوچستان کے شہروں کو ملائے گی اس پر مجموعی طور پر 19ارب روپے لاگت آئے گی اگلے سال اس منصوبہ پر ڈیڑھ ارب روپے خرچ ہونگے۔

آر سی ڈی ہائی وے کے بعد سب سے اہم تجارتی شاہراہ مکران ہائی وے ہے این ایچ اے کے پاس اس کا نام بیلہ، آواران، ہوشاپ ہائی وے ہے اس پر لاگت کا اندازہ 20ارب روپے ہے اور اگلے سال اس پر 4ارب روپے خرچ ہونگے یہ ایک اہم ترین شاہراہ ہوگی جو کراچی کو تربت اور مند سے ملائے گی یہ بلوچستان کی ایک اہم ترین معاشی شہ رگ ثابت ہوگی ۔

اس سے مکران کے تمام حصوں اور خطوں کو اس سڑک کے ذریعے ملا دیا جائیگا۔ لک پاس سے تفتان تک آر سی ڈی تباہ حال ہے ساری سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اس کی بحالی اور مرمت کیلئے حکومت نے صرف 50کروڑ روپے رکھے ہیں جس سے نوشکی سے لیکردالبندین تک سڑک کی مرمت کی جائے گی۔

بجٹ میں دالبندین سے تفتان تک سڑک کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا اس پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 20ارب روپے لگایا گیا ہے اس طرح کوئٹہ اور ڈھاڈر کے درمیان سڑک کی مرمت کے لئے صرف 10کروڑ رکھے گئے جبکہ اس پر لاگت کا تخمیہ ساڑھے سات ارب روپے لگایا گیا۔