|

وقتِ اشاعت :   4 دِن پہلے

سندھ کی منتخب حکومت نے بالآخر نیب کو صوبہ بدر کرہی دیا۔ توقع کے مطابق سندھ کے گورنر نے دوسری بار اس قانون پر دستخط کرنے سے انکار کیا جو سندھ کی پارلیمان نے دوسری بار منظور کی تھی ۔اگر گورنر سندھ کو حکومت سندھ اور سندھ کے عوام کی منتخب پارلیمان سے اختلاف ہے تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور کسی نئے اور غیر جانبدار شخص کو گورنر بنایا جائے ۔ 

ہونا تو یہ چائیے کہ سندھ کے عوام اور سندھ کی منتخب حکومت کی مرضی سے گورنر نامز د ہوناچائیے نواز شریف اور ان کی مسلم لیگ کو سندھ کی منتخب حکومت پسند نہیں ہے جبکہ ایم کیو ایم کا نمائندہ بارہ سال تک گورنر رہا ۔ بعد میں مسلم لیگ کے ایک بزرگ کارکن کو جو بستر مرگ پر تھا، گورنر مقرر کردیا گیا ۔

اب نواز شریف نے اپنے خدمت گار کو سندھ کا گورنر بنایا ہے اس شخص نے ملکی اور قومی ادارے فروخت کرنے کی کوشش میں نواز شریف کی زبردست طریقے سے امداد کی خصوصی طورپر نواز شریف آخر تک بضد تھے کہ پاکستان اسٹیل اور پی آئی اے کو ان کے دوستوں کے ہاتھوں فروخت کیا جائے ۔

اب وہ زندگی بھر کے لئے نا اہل قرار دئیے گئے ہیں لہذااب بعض ادارے فروخت نہیں ہوں گے بلکہ ان کو بہتر اندازمیں چلایا جائے گا۔ پی آئی اے کو منافع بخش ادارے میں تبدیل کرنے کیلئے اس کو 100نئے ہوائی جہاز فراہم کیے جائیں ۔بہر حال سندھ کی حکومت گورنر سندھ کے خلاف ایک قرار داد منظور کروائے اور وفاقی پارلیمان میں بھی گورنر کی برطرفی کا مطالبہ کیاجائے کیونکہ وہ سندھ کی صوبائی خودمختاری کے خلاف ہیں اور سندھ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ 

دوسری جانب سندھ کی حکومت نے نیب آرڈیننس منسوخ کرکے نیب کو صوبہ بدر کردیا ہے اب سارے اختیارات صوبائی حکومت کے پاس ہیں اوراب پرانے تمام مقدمات بھی سندھ حکومت کے سپرد کیے جائیں گے۔

وفاقی حکومت کے حکم سے احتساب عدالت قائم کی گئی ہے اس کو نئے قوانین کے مطابق چلایا جائے ۔ ادھر سندھ حکومت نے چیف سیکرٹری کو تاکید کی ہے کہ سندھ کے اداروں کا کوئی ریکارڈ نیب کے اہلکاروں کوفراہم نہ کیے جائیں ۔

اس طرح سے نیب کو سندھ سے بے دخل کردیا گیا ہے۔ اخلاقیات کا تقاضہ ہے کہ نیب کے چئیرمین سندھ کے دفاتر بند کرانے کے احکامات جاری کریں اور اہلکاروں کو دوبارہ وفاقی دارالحکومت میں تعینات کریں تاکہ ان کی سبکی نہ ہو، وہ با عزت طریقے سے واپس چلے جائیں ۔

ادھر بلوچستان اسمبلی میں صوبائی مفادات اور اختیارات کے دفاع کا کوئی شوق نہیں پایاجاتا، نہ ہی کسی رکن کو اس میں دلچسپی ہے کہ بلوچستان اسمبلی زیادہ طاقتور ہو اوراس کے بھی اختیارات قومی اسمبلی کے برابر ہوں۔ 

چونکہ بلوچستان اسمبلی کے زیادہ تر اراکین اپنی ذاتی حیثیت میں منتخب ہوئے ہیں وہ کسی پارٹی کے تابع نہیں ۔ حکومت میں شامل تینوں اتحادی پارٹیوں نے کبھی بھی صوبائی خودمختاری کا مسئلہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں اٹھایا نہ ہی انفرادی طورپر ان لیڈروں کو کوئی دلچسپی ہے کہ سندھ کے طرز پر آئین سازی کی جائے اور نیب کو بلوچستان سے بھی بے دخل کیاجائے ۔ 

احتساب امن عامہ کا ایک حصہ ہے یہ ایک صوبائی مسئلہ ہے جنرل پرویزمشرف نے ذاتی اور سیاسی ایجنڈے پر عمل کرنے کیلئے نیب کا ادارہ بنایا اور اس میں من پسند فوجی افسران کو تعینات کیا تاکہ ان کے سیاسی مخالفین کا صفایاہو سکے ۔

ان افسران کو اس بات سے دلچسپی نہیں تھی کہ ملک میں کرپشن کا خاتمہ ہو بلکہ ان کو اخباری پبلسٹی کا زیادہ شوق تھا کہ انہوں نے اتنے ارب وصول کیے ۔

یہ نہیں بتایا کہ اس عمل میں ان کے افسران نے خود کتنی دولت کمائی ۔افغانستان جیسا ملک جو مکمل تباہی کے دہانے پر ہے وہاں بھی کرپٹ عناصر کو بیس سال جیل کی سزا دی جاتی ہے جبکہ ہمارے ہاں پلی بارگین یعنی لوٹی ہوئی رقم کا ایک حصہ واپس کریں اورباقی رقم سے زندگی بھر عیش کریں ۔ 

نیب کے خلاف یہ شکایات عام ہیں کہ بدنام زمانہ کرپٹ وزراء ‘ افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی اور غیر اہم افراد کے خلاف کارروائی کرتی ہے ۔ ایک چھوٹی سی مسجد کا امام وزیر بننے کے بعد ارب پتی کیسے ہوگیا ایسے مقدمات میں نیب کو قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔