|

وقتِ اشاعت :   August 6 – 2015

کوئٹہ: بلوچستان کے مسائل کو بزور طاقت حل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں مذاکرات اور سیاسی طور پر مسائل حل کرنے کی باتیں محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں ہر دور میں طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوششیں کی گئیں جس سے مسائل میں اضافہ ہوا گوادر میگا پروجیکٹ کے تمام تر اختیارات بلوچستان کو دیئے جائیں عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے ساتھ بلوچوں کے حق و اختیار کو تسلیم کیا جائے سیاسی و جمہوری آواز کو بزور طاقت زیر کرنے سے مزید مسائل جنم لیں گے شہید عبدالرحمان دینارزئی مینگل کی جدوجہد رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل و غارت گری ‘ سرچ آپریشن کے نام پر رات کی تاریک میں چادر و چار دیواری کی پامالی جاری ہے موجودہ نام نہاد جمہوری دور میں اب تک ایک لاپتہ بھی بازیاب نہیں ہوا بے گناہ نہتے معصوم انسانوں کے قتل و عام سے نفرتیں جنم لیتی ہیں ماورائے عدالت گرفتاریاں بڑھتی جا رہی ہیں مسخ شدہ لاشیں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی میڈیا سیل کے سربراہ آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ‘ بی ایس او کے مرکزی آرگنائزر جاوید بلوچ ‘ ساجد ترین ایڈووکیٹ ‘ کوئٹہ کے قائمقام صدر یونس بلوچ ‘ غلام نبی مری ‘ میر غلام رسول مینگل ‘ موسی بلوچ ‘ ملک نوید دہوار ‘ آغا خالد شاہ دلسوز ‘ نے خطاب کیا جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ملک محی الدین لہڑی نے سر انجام دیئے اس موقع پر لقمان کاکڑ ‘ اسد سفیر شاہوانی ‘ حاجی یوسف بنگلزئی ‘ احمد نواز بلوچ ‘ ملک ابراہیم شاہوانی ‘ حاجی فاروق شاہوانی‘ سردار رحمت اللہ قیصرانی ‘ رضا جان شاہی زئی ‘ جمال لانگو ‘ حاجی ابراہیم پرکانی ‘ فیض اللہ بلوچ ‘ عبدالخالق ‘ جانان بلوچ ‘ کامریڈ رحمت اللہ بلوچ ‘بی ایس او کے منیر جالب بلوچ و دیگر رہنماء بھی موجود تھے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے وڈھ کے واقعے میں عبدالرحمان دینارزئی کی شہادت اور اس واقعے میں دو افراد کو شدید زخمی کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کیا اور کاہ کہ عبدالرحمان دینارزئی کی خدمات کو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی ان خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے آواران و دیگر علاقوں میں طاقت کے استعمال کیا جا رہا ہے انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے طاقت کے ذریعے بلوچستان کے معاملات کو حل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور بلوچوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے اقدامات دراصل مظالم اور جبر و استعبداد کی نشاندہی کرتی ہے مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں نام نہاد جمہوری دور میں اب تک ایک شخص بھی بازیاب نہیں ہو سکا چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی جا رہی ہے ماورائے قانون چھاپوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے نہتے معصوم بے گناہ بلوچوں کے قتل و عام میں اضافہ ہو رہا ہے مقررین نے کہا کہ بی این پی کے پلیٹ فارم سے عبدالرحمان دینارزئی جدوجہد کر رہے تھے اور جمہوری سوچ سے وابستہ تھے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کے الیکشن کمپین میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ رہے ان کی جدوجہد اور جمہور کی سیاست پر یقین رکھنے کے باوجود انہیں شہید کیا گیا ایسے اقدامات سے بلوچ عوام کو حکمران کیا پیغام دینا چاہتے ہیں پارٹی نے الیکشن میں حصہ لیا لیکن پارٹی کی راہ کو اس لئے روکا گیا کہ بی این پی کے قائد سردار اختر جان مینگل اصولی موقف اور بلوچ جملہ مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں ان کی جدوجہد سے بہت سے لوگ اس لئے خائف ہیں کہ ان کی سیاسی سوچ فکر و فلسفہ اور جدوجہد کو بلوچستان میں پذیرائی حاصل ہے اور آج پارٹی ایک مضبوط منظم متحرک سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے جمہوری اور سیاسی سوچ کو ختم کرنے سے حالات ابتری کی طرف جائیں گے اس سے قبل بھی جنرل مشرف کے دور سے اب تک بی این پی کے رہنماؤں کارکنوں کو شہید کیا گیا شہید حبیب جالب ‘ نور الدین مینگل سمیت سیاسی و نظریاتی دوست تھے ان کے قتل و غارت گری کرکے یہ سوچ روا رکھا گیا کہ بی این پی کو دیوار سے لگانا مقصود ہے بی این پی عملی قومی جمہوری سیاست کے ذریعے بلوچستان کے جملہ مسائل کے حل کیلئے عملی جدوجہد کر رہی ہے اور سازشوں کو ناکام بنانے اپنی قومی بقاء سرزمین کی حفاظت اور اپنی ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ اور قومی تشخص کی حفاظت کیلئے جدوجہد کیلئے تیار ہیں مقررین نے کہا کہ گوادر میگا پروجیکٹس ریکوڈک سمیت دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال سرزمین کے وسائل لوٹنے کیلئے حکمرانوں نے کک بیگز کے ذریعے ریکوڈک کا سودا کرنے سے پیچھے دکھائی نہیں دے رہے اب جبکہ پاک چائنا اقتصادی روٹ کا جو مسئلہ ہے اصل حقیقی مسئلے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے آج بی این پی کے سامنے گوادر کا اصل مسئلہ وہاں کے بلوچ ہیں جو انسانی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں تعلیمی اداروں ‘ سڑکوں کا فقدان ہے لوگ پسماندگی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اب جبکہ حکمران کہتے ہیں کہ گوادر میگا پروجیکٹ بلوچستان کے عوام کا مقدر تبدیل کر دے گا جب تک پورٹ کا اختیار بلوچستان کو نہیں دیا جاتا گوادر پورٹ میں زیادہ تر اولیت بلوچستان کے عوام کو جائے اور بنیادی ضروریات ‘ تعلیمی ادارے کے قیام کی ضرورت ہے بیرونی یلغار سے بچنے کیلئے دوسرے علاقوں سے آنے والے کو ووٹ کا حق دینے پر پابندی عائد ہونی ہے بی این پی کے قائد سردار عطاء اللہ مینگل نے جن خدشات و تحفظات کا اظہار کیا آج تمام قوتیں انہیں تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں بی این پی حقیقی ترقی و خوشحالی کے ہر گز خلاف نہیں لیکن وہ ترقی و خوشحالی نہیں چاہتے جس سے ہماری قومی تشخص مجروح ہو آبادی کا یلغار ہو مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے جملہ مسائل کے حل میں حکمران مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اب انہیں اخلاقی طور پر تسلیم کرنا چاہئے کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے ان کے پاس کوئی اختیار نہیں مقررین نے کہا کہ بی این پی یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو طاقت کے زور پر نہیں بلکہ افہام و تفہیم سے حل کیا جائے بلوچستان میں سرچ آپریشن ‘ بلوچ روایات کی پامالی ‘ مظالم ‘ لاپتہ افراد کی بازیابی اور مسخ شدہ لاشیں گرانے کا سلسلہ بند کیا جائے اور وڈھ واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور بلوچستان میں جتنے بھی ماورائے قانون اقدام کئے جا رہے ہیں انہیں فوری طور پر بند کیا جائے مقررین نے کہا کہ اسی طرح ریکوڈک اور گوادر میگا پروجیکٹس میں بلوچستان کے بلوچ عوام کے حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے بلوچستان میں مذہبی انتہاء پسندی ‘ مذہبی جنونیت ‘ کلاشنکوف کلچر ‘ منشیات افغان مہاجرین کی وجہ سے اضافہ ہوا بلوچستان کے حکمران اب بھی کوشش کر رہے ہیں کہ مہاجرین کی آبادی کار کو یقینی بنایا جائے ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ افغان مہاجرین کی موجودگی میں کوئی بھی مردم شماری قبول نہیں کیونکہ یہ مردم شماری غیر قانونی ہوں گے ساڑھے پانچ لاکھ خاندانوں کو بلوچستان میں جعلی شناختی کارڈز جاری کئے جا چکے ہیں اب مزید صوبائی جعلی حکمران ان کو سرکاری دستاویزات دینے کے تگ و دو میں ہیں مہاجرین کسی بھی نسل ‘ مذہب ‘ فرقے یا زبان سے تعلق رکھے اس بلوچستان میں آباد کاری کا اختیار نہیں مقررین نے کہا کہ مہاجرین کے انخلاء کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے کوئٹہ میں جہاں بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو سریاب کے بلوچ علاقوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے غیر قانونی طور پر چھاپے ‘ چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی جاتی ہے جو قابل مذمت ہے گزشتہ روز جوائنٹ روڈ سے بی این پی کے کارکنوں کی گرفتاری کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ کوئٹہ میں پولیس گردی میں اضافہ ہو رہا ہے بالخصوص ٹریفک پولیس بلوچ عوام کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا رہی ہے ان رکشوں گاڑیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جن پر پارٹی پرچم آویزاں ہو انہیں پریشانی کیا جا رہا ہے جو قابل مذمت ہے ۔ دریں اثنائبلوچستا ن نیشنل پارٹی کے مرکزی کال پر وڈھ کے علاقہ لوپ میں ایف سی کی جانب سے عبدالرحمٰن دینارزئی کے گھر پر چھاپہ مارنے اور ان کو شہید کرنے کیلئے اور ضلع آواران میں فوجی آپریشن کے خلاف بی این پی وڈھ کے زیر اہتمام وڈھ پریس کلب کے سامنے اہتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے مظاہرین صوبائی حکومت کے اور ایف سی کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ، مظاہرین کی قیادت بی این پی وڈھ کے صدر مجاہد عمرانی ، جنرل سیکرٹری عبدالرب بلوچ کررہے تھے ۔مظاہرین سے بی این پی وڈھ کے صدر مجاہد عمرانی نے خطاب کرتے ہوئے قبائلی رہنما ء میر عبدالرحمٰن دینارزئی کے فورسز کی ہاتھوں بے ہیمانہ شہادت او ر چادر و چار دیواری کے پامالی اور خاندان کو پریشان کرنے اور آواران میں بے گناہ لوگوں کی جھگیوں کو جلانے اور آپریشن کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت سیکورٹی اداروں کے سامنے مکمل طور پر بے اختیار اور بے بس ہے اور تمام اختیارات سیکورٹی فورسز کے پاس ہے فورسز چاہے جس وقت اور جس انداز میں لوگوں کو قتل کرے حکومت نام کی کوئی چیز نہیں کوئی ان سے پوچھتا نہیں انہوں نے کہا کہ جہاں دہشت گرد لوگ رہتے ہیں اپنی بادشاہت قائم کررکھی ہے حکومت اور سیکورٹی اداروں کودن کے تارے دکھا چکے ہیں فورسز اور حکومت کو وہاں جانا گوارا نہیں ہوتا جبکہ شریف اور بے گناہ لوگوں کو دہشت گردی کے نام پر شہید کرتے ہیں جو کہ صوبائی حکومت کے لئے باعث شرمندگی ہے ۔بی این پی کے زیراہتمام بلوچستان میں فوجی آپریشن اور عبدالرحمان دینارزئی اور عبدالروف جمالدینی کے قتل کے خلاف میرگل خان نصیر چوک پر احتجاجی مظاہرہ درجنوں کارکنان پارٹی پرچم اٹھارکھے تھے اور شدید نعرہ بازی کی احتجاجی مظاہرے سے بی این پی نوشکی کے نائب صدر صاحب خان مینگل، سابق صدر میر خورشید جمالدینی،اور نصیب مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں غیراعلانیہ طور پر فوجی آپریشن جاری ہے ،بے گناہ بلوچوں کو لاپتہ کرکے قتل کیا جارہاہے، اور انکی مسخ شدہ لاشیں پھینک دی جاتی ہے، بلوچستان میں فورسز ایک خوف کا فضاء قائم کرچکے ہیں ، ایسے اقدامات سے بلوچ قوم کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا، انھوں نے عبدالرحمان دینارزئی اور عبدالروف جمالدینی کے شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بی این پی کے رہنماؤں اور کارکنان کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائی جارہی ہے، ایسے جارہانہ اقدام سے پارٹی کارکنان کے حوصلوں کو پست نہیں کیا جاسکتاہے، انھوں نے کہاکہ بی این پی بلوچستان کا واحد قوم پرست پارٹی ہے، جو بلوچستان کے عوام کا ترجمانی کررہی ہے، اور مظلوموں پرظلم کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرتی رہیگی، انھوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کو ایک سازش کے تحت بلوچستان میں آباد کیا جارہاہے، جن کی وجہ سے بلوچستان کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں، افغان مہاجرین کی قانونی دستاویزات کینسل کیا جائے اور انھیں واپس انکے وطن بھیجا جائے۔بلو چستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام تحصیل چاغی میں احتجاجی ریلی اورمظاہرہ ہوا۔مظاہرین سے بی این پی کے چاغی کے تحصیل صدر ممتاز بلوچ،عبد الرحیم محمد حسنی،ظاہر زیب ویگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا بلوچستان علاقے آوران میں فوجی آپریشن آج بھی جاری ہے بلوچستان میں امن اومان کو قائم کر نے والی صوبائی حکومت نے تمام رکارڈ توڑ دئے انہوں کہا آئے روز ٹارگٹ کلنگ اغوا،بلوچ نسل کشی کے خلاف تمام حربے استعمال کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی حق اور حقوق کے لیے کسی بھی قسم کی سودا بازی قبول نہیں کریگی صوبائی حکومت امن اومان کو قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے بلوچستان میں آج بھی آپریش اغوا کے وارداتیں عام ہے،بلوچستان میں بلوچ قوم پرست کے نام پر حکومت ہورہی ہے مگر بلوچستان میں امن کہیں پر بھی قائم نہیں ہے اگر وزیر اعلیٰ بلوچستان کا تعلق بلوچ پارٹی سے ہے وہ بلوچستان میں فوجی آپریشن اور بلوچ نسل کشی کو فوری طور پر بند کریں آوران میں بلوچ نسل کشی کے خلاف آپریشن ہورہی ہے احتجاجی ریلی میں بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان شریک تھے اور انہوں نے بلوچستان میں آپریشن کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔