|

وقتِ اشاعت :   January 2 – 2016

بھارت میں پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے سنیچر کو پٹھان کوٹ کے ایئر بیس پر حملہ کیا جس میں چار حملہ آوروں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق پاکستانی سرحد کے قریب بھارتی ایئر بیس پر سنیچر کی صبح ہونے والے حملے کے بعد پھر سے فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ اس سے قبل بھارتی حکام نے کہا تھا کہ سنیچر کو بھارتی ایئر بیس پر ہونے والے حملے میں چار حملہ آور سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ پاکستان کی سرحد کے قریب پٹھان کوٹ کے علاقے میں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے تین بجے ہوا۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ چار حملہ آوروں کے ساتھ اس حملے میں دو سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے ہیں حکام کا کہنا ہے کہ اس میں چاروں حملہ آور مارے گئے جو ایک ہائی جیک کی ہوئي کار کے ذریعے ایئر بیس میں داخل ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ اس حملے میں دو سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ دریں اثنا پاکستانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں پٹھان کوٹ کے ایئر بیس پر حملے کی مذمت کی ہے۔ دفترِ خارجہ کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق بھارتی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے اس واقعے پر اظہار افسوس بھی کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ چار حملہ آور سمیت سات افراد ہلاک ہوئے ہیں
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حال ہی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور پاکستان خطے میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھارت اور دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ بھارتی فضائیہ کا یہ ایئر بیس بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کو جانے والی شاہراہ پر دہلی سے 430 کلو میٹر شمال میں واقع ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کی فضا دوبارہ ساز گار ہوئی ہے اور بھارتی وزیرِ اعظم نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے لیے پاکستان کا مختصر دورہ کیا تھا۔
مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ فوج کے کمانڈو یونٹ کو بھی طلب کر لیا گیا ہے
دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجوئے مجمدار کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہے لیکن پاکستان میں موجود کمشمیری جنگجوؤں پر اس بارے میں شبہہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ میرا خیال ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق جیش محمد سے ہے۔‘ خیال رہے کہ شدت پسند گروپ جیش محمد بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی حکومت کی مخالفت کرتا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ جیشِ محمد کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے جس کی پاکستان تردید کرتا ہے۔ اس سے قبل ڈسٹرکٹ پولیس آفسر نے کہا تھا کہ مسلح افراد کے حملے میں لڑاکا فوجی طیاروں کو نقصا نہیں پہنچا اور سکیورٹی فورسز حملہ آوروں کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بھارت کی ریاست پنجاب میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے
انھوں نے بتایا کہ مسلح افراد کا یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے تین بجے ہوا ۔ اس سے قبل اگست میں گرداس پور کے ایک پولیس سٹیشن پر ہونے والے اسی قسم کے حملے میں دس افراد مارے گئے تھے۔