|

وقتِ اشاعت :   February 24 – 2018

پشین: وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے اداروں کو ٹارگٹ کرنا افسوسناک عمل ہے کل تک پیپلزپارٹی کے وزیراعظم کیخلاف عدالتی فیصلوں کو درست قراردینے والے آج کیوں عدالتی فیصلوں پر سراپا احتجاج ہیں ۔

پشین میں ایک روزہ دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ ملک میں اگر جمہوریت کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار یہی لوگ ہونگے جو آج عدلیہ اور اداروں کو حدف تنقید بنارہے ہیں ۔

ان کا کہنا تھاکہ افسوسناک صورتحال ہے کہ کل تک پیپلزپارٹی کے وزیراعظم کیخلاف فیصلوں کو درست قرار دینے والے آج خود اداروں پر کیچڑ اچھال رہے ہیں عدلیہ سمیت تمام اداروں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔

اگر کوئی حکومت عوام کی خدمت میں ناکام رہی تو اس کی ذمہ داری اداروں پر نہ ڈالی جائے تبدیلی ایک جمہوری حمل اور بلوچستان میں بھی تبدیلی پارلیمنٹ کے ذریعے لائے گئی ہے ہم پر اسمبلی توڑ نے اور سینیٹ انتخابات کو رکوانے الزامات والوں کو منہ کی کھانے پڑے گی بلوچستان حکومت اپنی آئینی مدت پوری کریگی ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سابقہ حکومت نے عوامی مسائل پر توجہ نہیں دی یہی وجہ ہے کہ صوبے کے اپنے منتخب نمائندوں نے جمہوری انداز سے حکومت کو تبدیل کیا بلوچستان میں تبدیلی کسی کے اشارے پر نہیں ہوئی اس سے قبل دورہ پشین کے موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے قبائلی و سیاسی عمائدین سے بھی ملاقاتیں بھی کیے اور پشین کے مسائل بھی سننے پشین میں پارک کا افتتاح بھی کیا ۔

وزیراعلیٰ قدوس بزنجو پشین فٹبال گراؤنڈ میں اچانک پہنچے شائقین نے فٹبال نے انہیں اپنے درمیان دیکھ کر حیران رہ گئے وزیراعلیٰ نے فٹبال میچ دیکھا اس موقع پر انہوں نے کھلاڑیوں اور انتظامیہ کیلئے 6لاکھ روپے کا اعلان کیا ۔

وزیراعلیٰ نے ڈسٹرکٹ ہسپتال پشین کا اچانک دورہ کیا اور وہاں پر ادویات کی عدم فراہمی اور گندگی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایم ایس ہسپتال اور متعلقہ عملہ کیخلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ۔دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے جمعہ کے روز پشین گیسٹ ہاؤس میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔

کھلی کچہری میں علاقے کے عمائدین، مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور عام عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور وزیراعلیٰ کو ضلع پشین میں درپیش اہم مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے پشین ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی، آب نوشی کے مسائل، اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، امن وامان اور دیگر مسائل کے فوری حل کے لئے استدعا کی اور اپنی درخواستیں پیش کیں۔

کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہمارے پاس وقت کم ہے اور کام زیادہ کرنے ہیں، عوام کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام پر کوئی احسان نہیں۔ عوام کے درمیان رہنا میرا مقصد ہے اور میری خواہش ہے کہ محدود وقت میں زیادہ سے زیادہ کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر علاقے کی بات کی جائے تو پورا بلوچستان ہمارا علاقہ ہے۔ ہم بلوچستانی ہیں اور ہمارے ملک پاکستان ہے۔ ہمارا مقصد مضبوط بلوچستا ن اور مستحکم پاکستان ہے۔ ہمیں کسی جماعت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہم نے کام کرنا ہے اور عوام کے مسائل حل کرنے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ شناختی کارڈ کے حصول میں لوگوں کو درپیش مسئلے کو نادرا حکام سے اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ این ٹی ایس میں جن لوگوں کے ساتھ ناانصافیاں ہوئی ہیں ان کو ان کا حق دلائیں گے۔ ہم ہفتہ وار کابینہ کے اجلاس منعقد کرتے ہیں تاکہ لوگوں کے مسائل فوری حل ہوسکیں، پشین کے لوگوں کو پولیس اور ایف سی کی چیک پوسٹوں پر ناجائز تنگ کرنے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو ہدایت کہ ایف سی حکام کے ساتھ اس مسئلے کو اٹھایا جائے۔ ہماری سیکیورٹی فورسز کی بے شمار قربانیاں ہیں لیکن عوام کو تنگ کرنا کسی صورت قبول نہیں۔

کسٹم کو بارڈر ایریا تک محدود رکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس مرتبہ کھلی کچہری کاانعقاد پشین ضلع میں کیا جارہاہے ہین تاکہ ہم خود لوگوں کے پاس جائیں آج پشین کے لوگوں کے مسائل سن کر اور عوام کے درمیان موجود رہ کر ان کے مسائل حل کرنے سے بہت اطمینان محسوس ہورہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس چند مہینے ہیں او رگزشتہ حکومت نے پورا عرصہ ضائع کردیا ۔ہماری حکومت کی کوشش ہوگی کہ حکومتی مشنری کو فعال بناکر ترقیاتی عمل میں تیزی لائی جائے۔ واٹر اسکیموں کو فعال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں طبی سہولتوں میں اضافہ، تعلیمی اداروں کی بہتری کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کمشنر کو ہدایت کہ منشیات کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات اٹھائے اور اس کاروبار میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔