کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی کے متعلق تحریک پیش ہونے پر حکومتی اراکین اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے اراکین کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی ، گالم گلوچ اور تحریک کی کا پیاں پھاڑ دی گئی پشتونخوامیپ کے اراکین اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے تا ہم حکومتی اراکین نے پشتونخوامیپ کے اراکین کو منانے سے انکار کر دیا ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی کے رولنگ کے باوجود حکومتی اراکین پشتونخوامیپ کے اراکین کو منانے نہیں گئے بلوچستان کے نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن ، ریگولریشن سے متعلق مسودہ تحریک منظور کر لی گئی جبکہ نا بالغ بچوں کے امتناع شادی ، میرچاکر خان رند یونیورسٹی سے متعلق تحریک ، جعلی ڈومیسائل کی روک سے متعلق تحریک کو مذکورہ کمیٹی کے حوالے کر دیا ۔
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدار ت میں ڈیڑھ گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا اجلاس میں واقفہ سوالات وجوابات کے بعد صوبائی وزیر تعلیم طاہر محمود نے میر چاکر خان رند یونیورسٹی سے متعلق تحریک پیش کی جس پر پشتونخواملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ مذکورہ یونیورسٹی سے متعلق تبدیلی طریقہ کار وفاقی کا بینہ کو حاصل ہے ۔
صوبائی کا بینہ اس میں تبدیلی نہیں کر سکتے لہٰذا یہ وفاقی پی ایس ڈی پی کا مسئلہ ہے ان کو نہ چیڑا جائے اس کے علاوہ باقی تین یونیورسٹیاں بھی بنی ہے اس کو کوئی نام نہیں دیا گیا ۔
اپوزیشن رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا ہے کہ میر چاکر خان یونیورسٹی کے نام سے ہی منسوخ کیا جائے جس پر پشتونخوامیپ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے تحریک کی کاپیاں پھاڑ دی جس کے باعث ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی اور ایک دوسرے کے درمیان گالم گلوچ ہوا جس کے بعد پشتونخوامیپ کے اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے تا ہم اسپیکر نے مذکورہ تحریک کو کمیٹی کے حوالے کر دیا ۔
سابق وزیرعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ جمہوری ادارہ ہے اور یہاں پر ہر کوئی جمہوری حق دار سے باتیں کر سکتے ہیں پارلیمنٹ کے وقار کو مجروح نہ کیا جائے اور سب کو تحمل کا مظاہرہ کر نا چا ہئے اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی ارکان تحمل کا مظاہرہ کرے تحفظات دونوں طرف سے ہے ۔
صبر کرنا چا ہئے اسیر رکن میر خالد خان لانگو نے کہا کہ ہم سب بھائی ہے مگر جس طرح دوستوں نے تنگ نظری کا مظاہرہ کیا اس کو ہم کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے میر چاکر خان کے نام پر اگر ہم خاموش رہے تو پھر کوئی بھی اس مسئلے پر نہیں بولے گا اور چا کر خان رند کے نام پر کوئی بھی سودا بازی نہیں کرینگے ۔
اسپیکر راحیلہ حمید درانی نے کہا ہے کہ ہم سب بلوچستان ہے اور یہ تمام اقوام کا مشترکہ گھر ہے رکن صوبائی اسمبلی جان جمالی نے کہا کہ آج محسوس ہوا ہے کہ پشتون بلوچ الگ الگ ہے ہم سب بھائی ہے اور بھائی کی طرح رہنا چا ہتے ہیں ۔
مفتی گلاب کاکڑ نے کہا ہے کہ ہم اپوزیشن میں ہے اور ماضی میں بھی جس طرح بل آئے ہم جمہوری طریقے سے ان کے ساتھ تعاون کر تے رہے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے پشتونخوامیپ کے اراکین کومنانے کے لئے پرنس احمد علی، محمد خان لہڑی اور میر ماجد ابڑو کو ہدایت کی وہ اراکین کو منا کر لے لئے تاہم انہوں نے انکار کر دیا ۔
بعد میں اسپیکر نے بھی رولنگ دی کہ پشتونخوامیپ کے اراکین کو منائے جائے تا ہم کوئی بھی ان کو منانے نہیں گئے میر چا کر خان رند یونیورسٹی سبی سے متعلق تحریک بھی قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے سماجی بہبود وترقی نسواں عشر حج اوقاف ، اقلیتی امور، امور نوجوانان ڈاکٹر شمع اسحاق نے نابالغ بچہ کا امتناع شادی کا مسودہ سے متعلق تحریک پیش کر دی ۔
تا ہم اراکین کے اعتراضات کے بعد تحریک کو مذکورہ کمیٹی کے حوالے کر دیا جبکہ مجلس قائمہ بر محکمہ ملازمتہائے وععمومی نظم ونسق کی تحریک قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کی عدم موجودگی اور اراکین کے اعتراض کے بعد مذکورہ کمیٹی کے حوالے کر دیا ۔
اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے ، محکمہ تعلیم خواندگی وغیر رسمی تعلیم کوالٹی ایجو کیشن صدارتی پروگرام کے چیئر پرنس شاہدہ روف نے بلوچستان کے نجی تعلیمی اداروں کے رجسٹریشن، ریگولریشن اور فروغ کی تحریک پرائمری میڈل سکولز کے بورڈ کے امتحانات اور شیڈول کے طریقہ کار سے متعلق تحریک پیش کی ایوان نے تحریک کو منظور کیا بعد میں اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
بلوچستان اسمبلی اجلاس چاکر خان یونیورسٹی سے متعلق تحریک پیش ہونے پر اراکین میں ہنگامہ
![]()
وقتِ اشاعت : February 28 – 2018