نوشکی: زند اکیڈمی بلوچستان کے زیر اہتمام ممتاز دانشور،سینئر صحافی وایڈیٹر لالا صدیق بلوچ کے یاد میں ڈسٹرکٹ ہال میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیاگیا۔
تعزیتی ریفرنس کی صدارت ممتاز صحافی شہزادہ زوالفقار بلوچ تھے جبکہ مہمان خاص صدر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس خلیل احمد واعزازی مہمان عرفان سعید تھے،ریفرنس سے شہزادہ زوالفقار بلوچ،خلیل احمد،عرفان سعید ،زند اکیڈمی کے بانی یارجان بادینی،صدر پریس کلب طیب یلانزئی،نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر میر ظاہر بلوچ،صحافی حاجی سعید بلوچ،بی این پی کے نذیر بلوچ،لطیف الملک بلوچ،عبدالباری بادینی،صادق سمیع بلوچ،عالم عجیب ،مولانا رشید ہمدم ودیگر نے خطاب کیا۔
تعزیتی ریفرنس میں لالا صدیق بلوچ کو انکی بلوچستان میں صحافتی خدمات پر بھرپور اندازمیں خراج تحسین پیش کیاگیا،مقررین نے کہاکہ لالا صدیق بلوچ کی بلوچستان میں صحافت کے فروغ،بلوچستان کے مسائل کو اجاگر کرنے اور بلوچستان کے حوالے سے ہمیشہ ایک جدوجہد رہی ہے ۔
انکی اہل بلوچستان کے لئے خدمات ناقابل فراموش رہی ہیں ،انکی تمام زندگی بلوچستان اور بلوچستان کے عوام کے لئے وقف تھی انہوں نے ہمیشہ ہر پلیٹ فارم میں ،ہر قسم کے نامساعد حالات میں بلوچستان کے موقف کاڈٹ کر اجاگر کیا۔
ملک میں آزاد صحافت کے فروغ کے لئے قربانیاں ،جیل قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کی ،جس کی پاداش میں انہیں نقصانات بھی ہوئے مگر انکے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،وہ بلوچستان کے حقیقی معنوں میں ایک نڈر،بے باک صحافی تھے ،جبکہ اسی طرح فصیح اقبال اور انورساجدی کے خدمات بھی اہل بلوچستان کے لئے گرانقدر ہیں جنہوں نے بلوچستان کی پسماندگی،غربت اور مسائل کو اجاگر کیا۔
بلوچستان میں صحافت کے فروغ کے لئے ان شخصیات کی جدوجہد ہمارا سرمایہ ہے ،نوجوان نسل اور نوجوان صحافی اپنے اکابر کے فلسفہ حیات کو سامنے رکھتے ہوئے آزاد صحافت کے فروغ کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں ۔
مقررین نے کہاکہ لالا صدیق بلوچ اپنی زات میں ایک درس گاہ کی حیثیت رکھتے تھے انکی وفات سے بلوچستان کے صحافت میں ایک خلا پید ہواہے اور بلوچستان ایک توانا آواز سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوگئے ہیں ،
لالاصدیق بلوچ کی علمی وصحافتی خدمات سے انکارممکن نہیں ،وہ ایک باصلاحیت شخصیت کے مالک تھے جو ہر فن پر کمال دسترس رکھتے تھے ،ایسے شخصیت صدیوں میں بھی پیدا نہیں ہوتے ہیں ۔
بلوچستان کے صحافی صدیق بلوچ کے زندگی پر عمل پیراہوکر بلوچستان میں صحافت کے لئے اپنا کردار اداکریں ،مقررین نے کہاکہ بلوچستان کی تاریخ صدیق بلوچ،فصیح اقبال اور انورساجدی کے جدوجہد کے بغیر نامکمل ہے،
جبکہ صدیق بلوچ نے ان حالات میں قلم اٹھایا جب ملک میں صحافت شجر ممنوعہ سمجھا جاتاتھا بلوچستان کے سیاسی کارکنوں اور صحافیوں نے اپنے قلم اور خون کے آبیاری سے بلوچستان میں جبر،ناانصافیوں اور مظالم کے خلاف جدوجہد جاری رکھا،جبکہ سینکڑوں گمنام صحافیوں اور سیاسی کارکنوں نے بلوچستان کے لئے جدوجہد کرکے سرزمین کا حق ادا کردیاہے ۔
مقررین نے کہاکہ بلوچستان بالخصوص پاکستان صحافیوں کے لئے خطرناک خطہ سمجھا جاتاہے بلوچستان میں صحافیوں نے آزاد صحافت کے لئے اپنے جانوں کے نذرانے بھی پیش کئے ہیں ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں آزاد صحافت کو فروغ دیں اور زرد صحافت کے خاتمے کے لئے اپنا کردار اداکریں ۔