|

وقتِ اشاعت :   March 31 – 2018

کوئٹہ : وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ بلوچستان کی پسماندگی کا نقصان پاکستان کو ہو گا وفاق بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے فنڈ جاری کر ے، وزیراعظم پلاننگ کمیشن کو پی سی ون پر عمل کی ہدایت کریں، وفاق کا تعاون نہیں ہوگا توبلوچستان پسماندہ رہے گا ۔

ماضی میں بلوچستان کے عوام کو قوم پرستی کے نام پر لڑایا گیا ، بلوچستان کے عوام ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں وزیراعظم کہتے ہیں کہ ہم جیتیں تو ٹھیک ہے کوئی دوسرا جیتے تو وہ غلط ہے ،اگر گریبان میں دیکھنا ہے تو وہ اپنی جماعت کو دیکھیں وہ کہاں سے آئے ہیں ۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کو وزیراعلی سیکرٹریٹ میں کھلی کچہری کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ،اس موقع پر صوبائی وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی،صوبائی وزیر سائنس و ٹیکنا لوجی پرنس احمد علی سمیت دیگر صوبائی وزراء، مشیران بھی موجود تھے،وزیراعلی نے دور دراز علاقوں سے آئے سائلین کے مسائل سنے اور اہم نوعیت کی درخواستوں پر موقع پر احکامات جاری کئے جبکہ درجنوں درخواستیں مسائل کے حل کے لئے متعلقہ محکموں کو ارسال کیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے بے روز گار نو جوانوں کی پریشانی کا احساس ہے اس سلسلے میں مختلف محکموں کی خالی آسامیاں روزانہ کی بنیادوں پر اخبارات میں مشتہر کی جارہی ہیں نو جوان خالی آسامیوں پر درخواستیں جمع کروائیں ما ضی میں اہل امیداروں کے ساتھ نا انصافی ہوئی ، ایک ہفتے کے اندر میرٹ پر آنے والے امیدواروں کو آڈر دئیے جائیں گے ،معذور افراد کو بھی رجسٹر ڈ کر رہے ہیں اور انکے مسائل جلد حل ہونگے ۔

انہوں نے کہا کہ مالی امداد کے لئے بھی بہت سے لوگ آتے ہیں کچھ ان میں حقیقی طور پر ضرورت مند ہیں کچھ نوسر باز بھی آتے ہیں پچھلے کچھ دنوں سے مصروفیات کے باعث صوبے کووقت نہیں دے پارہا تھا لیکن اب ایک ہفتے کے اندر چیزیں ٹھیک ہوتی نظر آئیں گی، میر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی ایسی جماعت ہوگی جو صوبے کے عوام کی حقیقی نمائندگی کریگی ۔

وزیراعظم نے چےئرمین سینیٹ سے متعلق بیان ابتک واپس نہیں لیا اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو بلوچستان کے عوام جلد ہی اسلاآباد کی جانب مارچ کریں گے ،مرکز کے ساتھ تعلقات کی خرابی نہیں چاہتا بلوچستان پاکستان کی شاہرگ ہے ہمارے اختلافات سے ملک کو نقصان ہو سکتا ہے۔

کام میں سست روی کی وجہ سے وزیراعظم سے گلہ کیا ہے ،نواز شریف کی جانب سے اعلان کر دہ پیسے اب تک نہیں ملے ،لیکن ہم نے کام شروع کر دئیے ہیں ٹینڈر ہو رہے ہیں چاہے ادھا لینا پڑے مگر کام جاری رہیں گے امید ہے وفاقی حکومت اس سست روی کا نوٹس لے گی ۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار بلوچستان کو اہم عہدہ ملا ہے چےئر مین سینیٹ صوبے کی بہتری کے لئے کام کریں گے ، وزیراعظم کہتے ہیں کہ ہم جیتیں تو ٹھیک ہے کوئی دوسرا جیتے تو وہ غلط ہے ،اگر گریبان میں دیکھنا ہے تو وہ اپنی جماعت کو دیکھیں وہ کہاں سے آئے ہیں ایسی چیزوں سے بالاتر ہوکر ملکی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہیے ایسی باتیں وزیر اعظم کے عہدے کو زیب نہیں دیتیں ۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی کام میں رکاوٹ نہیں لوگوں کے مسائل زیادہ ہیں انہیں حل کر نے کے لئے وقت درکار ہے ،جو لوگ2015میں حکومت میں تھے آج وہ اپنی حکومت کے دور کے اقدامات پر تحریک التواء پیش کر رہے ہیں کاش وہ حکومت میں بھی اتنے ہی اچھے ہوتے جتنے وہ اپوزیشن میں تھے وہ لوگ خود اپنے دور میں وزراء تھے جواب دیں کہ کیوں نا انصافی ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ ہر کام کاطریقہ کار ہے قانونی معاملات میں وقت لگتا ہے پولیس اپ گریڈیشن کی سمری بھی منظور ہو جائے گی ،اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ میر سرفرازبگٹی نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی کی پانچ لیڈ ی ڈاکٹر فرائض سرانجام دینے کو تیا ر نہیں انکے خلاف محکمانہ کاروائی کی جارہی ہے ۔

ہم نے رحیم یار خان سے ڈاکٹر کو بلوایا ہے جسے عام طور پر دی جانے والی دو لاکھ کی تنخواء کی بجائے پانچ لاکھ روپے دیے جارہے ہیں

سوئی میں آپریشن تھیٹر مو جود ہیں عوام کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ وقت سے پہلے خواتین کا مکمل چیک اپ کروائیں تاکہ کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔