|

وقتِ اشاعت :   April 5 – 2018

کوئٹہ: صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ بلوچستان کی صورتحال بگاڑنے میں بعض مفاد پرست عناصر کے ساتھ ہمارے کھلے اور چھپے دشمنوں نے اہم کردار ادا کیا،بلوچستان کے عوام سازشوں کو ناکام بناکر اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنائیں،بلوچستان کی آزمائش کا دور بیت چکا ،

اب خوشحالی کا دروازہ کھلے گا ،گوادر پورٹ ،اقتصادی راہداری اور قدرتی وسائل کی بدولت بلوچستان تاریخ کادھارا بدل دے گا۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کوئٹہ کے نویں کانوووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے گورنربلوچستان محمدخان اچکزئی ،وائس چانسلر وومن یونیورسٹی ڈاکٹررخسانہ جبین اوردیگر نے بھی خطاب کیا۔ صدر مملکت نے جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والی طالبات کو ڈگریاں اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی طالبات میں اعزازات تقسیم کیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت ممنون حسین نے جامعہ سے فارغ التحصیل طالبات اور ان کی اہل خانہ کو مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک وقوم کی ترقی میں کلیدی کرداراداکریں گی۔انہوں نے کہا کہ حقیر مفادات سے بلند ہو کر قومی ترقی کے لیے کام کیا جائے اور ماضی کی تلخیوں کو فراموش کر کے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے آگے بڑھا جائے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستانی بچیاں تعلیم کے لیے دنیا بھر میں جائیں لیکن اجنبی تہذیبوں کی اندھی تقلید سے بچیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سو فیصد امن بحال کردیا گیا ، دہشت گردی کے بچے کھچے اثرات کا بھی جلد خاتمہ کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں نے امن کے لیے بہت قربانیاں دیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کوئٹہ،کے کانووکیشن میں شرکت میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔

تعلیمی ادارے، خاص طور پر بچیوں کے تعلیمی ادارے میرے دل سے بہت قریب ہیں لیکن سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی ان سب میں ممتاز ہے کیونکہ اس ادارے کی طالبات اور اساتذہ نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر دہشت گردی کا رخ موڑا ہے۔

اس جامعہ کے شہدا ہمارے محسن ہیں، ہم انہیں ہمیشہ محبت سے یاد کرتے رہیں گے۔صدر ممنون حسین نے کہا کہ میں وطنِ عزیز کی اس بہترین جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والی طالبات، ان کے والدین اور اساتذہ کرام کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آج ان کی محنت اور قربانیاں رنگ لائیں ۔

کامیابی کی خوشی سے اپنی بیٹیوں کے تمتماتے ہوئے چہرے اور جوشِ عمل سے چمکتی ہوئی پیشانیاں دیکھ کر مجھے قائدِ اعظم محمد علی جناح یاد آگئے جوفرمایا کرتے تھے کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے اور اس کے نوجوان اس کے معمار ہوں گے۔

میں اللہ بزرگ و برتر کا شکرادا کرتا ہوں کہ بابائے قوم کی اس پیشین گوئی کی تکمیل کا وقت آپہنچا ہے کیونکہ پاک چین اقتصادی راہداری کی فعالی کے بعد وطنِ عزیز اور خاص طور پر بلوچستان کے لیے ترقی اور خوشحالی کے جو دروازے کھلنے والے ہیں، وہ تاریخ کا دھارابدل ڈالیں گے۔

مجھے بلوچستان کامستقبل انتہائی شاندار ، تابناک اور تابندہ دکھائی دیتاہے جہاں روزگار کے لاکھوں مواقع لوگوں کو ان کے گھر کی دہلیز پرمیسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری جیسے عظیم الشان منصوبوں کے تناظر میں بلوچستان کے نوجوانوں اور خاص طور پر بچیوں کو اپنے علم وہنر کے بل پر کلیدی کردار ادا کرنا ہے ۔

اقتصادی راہداری کی شکل میں جو مواقع پیدا ہونے جا رہے ہیں ، ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے ماضی سے کہیں بڑ ھ کر علم، اہلیت اور کارکردگی کی ضرورت ہوگی۔ مجھے خوشی ہے کہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کر رہی ہے ۔

حالیہ برسوں کے دوران مختلف قومی اداروں،خاص طور پر پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں اس جامعہ کی طالبات نے نہایت شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جس پر میں انھیںِ مبارک باد دیتا ہوں ۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان بری، بحری اور فضائی راستوں سے پوری دنیا کے ساتھ منسلک ہونے جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کاروبار جدید شکل میں منظم ہوں گے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور تجارت و سیاحت کے لیے بڑی تعداد میں غیر ملکی یہاں آئیں گے، انھیں وطن عزیز اور خاص طور پر بلوچستان کی تاریخ، ثقافت، ورثے اور کاروباری مواقع سے آگاہ کرنے کے لیے بہترین منصوبہ بندی اور افرادی قوت تیارکرنے کی ضرورت ہے۔

اس لیے میں چاہوں گا کہ بلوچستان کے تعلیمی ادارے، خاص طور پر آپ کی جامعہ سیاحت، ہوٹلنگ، خوردونوش کے مقامی رجحانات اور ثقافت کو پیشہ ورانہ طریقے سے ترقی دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری کی فعالی کے بعدپیدا ہونے والے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

یہی وجہ تھی کہ میں نے ایوانِ صدر کے اخراجات میں بچت کر کے ایک خطیر رقم نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) کے حوالے کی تاکہ گوادر میں کیمپس قا ئم کر کے بلوچستان کے بچوں کو چینی زبان سکھائی جا سکے۔ اقتصادی راہداری کی فعالی کے بعد مقامی آبادی کو اس کے ثمرات پہنچانے کے لیے اس طرح کے اقدامات مسلسل کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے خوشی ہو گی کہ سردار بہادر خان یونیورسٹی سمیت بلوچستان کے دیگر تعلیمی ادارے بھی اس جانب توجہ دیں۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ وطن عزیز کے مختلف حصے ، خاص طور پر بلوچستان گزشتہ چند برسوں کے دوران میں بہت مشکلات کا شکار رہا ہے جس کا ایک سبب یقیناًسیاسی مسائل رہے ہیں۔ یہ ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں ۔ قومی سیاسی قیادت اور دیگر قومی ادارے ان مسائل پر قابو پانے کے لیے تندہی سے کام کر رہے ہیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔

بلوچستان میں اس بہتری کے آثار خاص طور پر نظر آتے ہیں ۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت، علما، دانشوروں ،ماہرین تعلیم اور خاص طور پر نوجوانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حقیر مفادات سے بلند ہو کرقومی اور بین الاقوامی معاملات پر گہری نظر رکھیں۔

خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے محرکات کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ ملک و قوم کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے علاوہ آئندہ کے لیے اس طرح کے مسائل کا راستہ بھی روکا جاسکے کیونکہ اس طرح کے حالات معاشرے کے مختلف طبقوں کے درمیان دوری اور بد مزگی پیدا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں لیکن جو قومیں ایسی مشکلات اور تلخیوں سے اوپر اٹھ کر جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوششیں کرتی ہیں، کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔

ضروری ہے کہ آنے والی نسلوں کے بہترین مستقبل کے لیے ایسا ہی کیا جائے۔صدر ممنون نے کہا کہ اپنے طویل سیاسی مشاہدے کی بنا پر میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ بلوچستان کا سیاسی شعور بہت بلند ہے ۔ اس صوبے کے سیاست دان ، دانشور ، صحافی اور نوجوان حتی کہ عام آدمی بھی سیاسی حالات اور بین الااقوامی سازشوں کو خوب اچھی طرح سمجھتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ قومی تاریخ میں باربار آنے والے بحرانوں کے دوران میں بلوچستان کے عوام نے انتہائی دانشمندانہ کردار ادا کر کے وطن عزیز کے استحکام اور صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے ضمن میں شاندار کردار ادا کیا ۔ مجھے خوشی ہوگی کہ قومی تاریخ کے اس مرحلے پر بھی بلوچستان انتہائی مثبت اور تاریخی کردارادا کرتے ہوئے ملک و ملت کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال کے پسِ پشت چند مفاد پرست عناصر ہی کارفرما نہیں رہے ہیں بلکہ اس میں ہمارے کھلے اور چھپے دشمنوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے تاکہ اس صوبے اور پاکستان کو اللہ تعالی نے جن انعامات سے نوازا ہے ، ان سے بھرپور استفادہ نہ کیا جاسکے۔

بلوچستان کے غیرت مند عوام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان سازشوں کو ناکام بنا کر اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کریں۔ اس کے ساتھ ہی میں پاکستان کے کھلے اور چھپے دشمنوں پر بھی واضح کرتا ہوں کہ اپنے داخلی، سیاسی وغیر سیاسی اختلافات کے باوجود پاکستانی قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے جس سے ٹکرانے والی ہر قوت پاش پاش ہو جائے گی۔ دریں اثناء گورنربلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ علم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ۔

تعلیم کا اولین مقصد کردار سازی ہے جو ایک مہذب ، تعلیم یافتہ ، بردبار اور پر امن معاشرے کی نوید ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ مختلف فکر اور عقید ے پر اختلاف رائے کو برداشت کرنا آزادی اور جمہوری کی جمہوریت کا بنیادی جوہر ہے۔

ان خیالات کاا ظہار انہو ں نے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی نویں کانووکیشن کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ایس کے بی وویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن 2018کے مہمان خصوصی صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان ممنون حسین تھے ۔

گورنر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے گزشتہ چار سال کے دوران صوبے کی تعلیمی سرگرمیوں کو مستحکم کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کررکھی ہے اس لیئے صوبے کی سات یونیورسٹیوں میں باقاعدگی سے سالانہ کانووکیشن منعقد ہورہے ہین جن میں وویمن یونیورسٹی شامل ہے ۔

گورنر بلوچستان نے وائس چانسلر ڈاکٹر رخسانہ جبیں اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ویمن یونیورسٹی اپنے قیام کے چودہ برس کے بعد اپنا نواں کانووکیشن منعقد کررہی ہے جبکہ فی الوقت اس یونیورسٹی میں دس ہزار سے زائد طالبات زیرتعلیم ہیں۔ مجموعی طور پر صرف کوئٹہ کی تین سرکاری یونیورسٹیوں میں طلباء و طالبات کی تعداد چونتیس ( 34)ہزار ہے جن میں خواتین کی تعداد تقریباً سترہ (17) ہزار ہے جو ایک خوش آئند عمل ہے ۔

انہو ں نے کہا کہ بطور چانسلر میں تعلیم کے فروغ کیلئے بہتر ماحول فراہم کرنے اور قابل اور اہل وائس چانسلر ز کے انتخاب کی ذمہ داری انجام دیتا ہوں ۔ اساتذہ اور طلبہ کیلئے یکساں طور پر نظم و ضبط کو نافذ کرنے ، سینیٹ اور سینڈیکٹ کے فرائض کو PARTICIPATORY بنیادوں پر فعال کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں ۔

گورنر نے یونیورسٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اپنی اور فیکلٹی کی کارکردگی کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کی مسلسل کوشش جاری رکھیں ۔ اپنی لائبریریوں میں بین الاقومی معیار کی تمام مصنوعات پر کتابیں ذخیرہ کریں تاکہ طالبات کو اپنے ذہنوں کو جدید علم و تحقیق سے منور کرنے میں آسانی ہو ۔

عالمی شہرت یافتہ ماہر ریاضی مریم مرزا خانی کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ان کو اپنی اعلیٰ ذہانت کی وجہ سے نوبل پرائز کے مساوی فیلڈ میڈل دیا گیا تھا۔ یہ وہ معیار ہے جنہیں حاصل کرنے کی آپ سب کو بھی کوشش کرنی چاہیئے اور یہ قابل حصول اورممکن ہے گورنر بلوچستان نے طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنی تمام تر صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ۔

آج جو ڈگری دی جارہی ہے وہ آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ آپ زندگی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہی ہیں اور وقت بڑی تیزی سے تبدیل ہورہا ہے لہٰذا آپ کیلئے ضروری ہے کہ اپنے کام اور جدید تحقیق و تخلیق سے ہر وقت متعلق رہیں اور اپنے لیپ ٹاپ پر موجود تمام علم و دانش سے استفادہ کریں اپنے فارغ اوقات میں پرانے اور نئے فلسفے کا مطالعہ کریں جو فہرست کے لمحات کا بہترین استعمال ہے ۔

گورنر نے کہا کہ ہمارا ملک ، یہ خطہ بلکہ پوری دنیا اقتصادی ترقی کے نئے دورمیں داخل ہورہی ہے جو پرائیوٹ اور سرکاری شعبے میں آپ کی ذہانت کے استعمال پر منحصر ہے۔

چائنا پاکستان اقتصادی راہدرای( سی پیک) اس تبدیلی کا صرف ایک اشارہ ہے اس ضمن میں پاکستان اور بلوچستان اس غیر معمولی اقتصادی ترقی کا اہم حصہ بن ر ہے ہیں ۔

انہو ں نے طالبات کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تبدیل ہوتے ہوئے اس وقت کے اہم نمائندے ہیں۔ اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنے آپ سے اور اپنے خدا سے وفاداری کا مظاہرہ کریں ۔ موجودہ تمام چیزوں کے بارے میں سوالات اٹھائیں اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں کیوں کہ یہ مصنوعی ذہانت کا عہد ہے ۔

انہوں نے اس یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر عزم کرچکے ہیں کہ پڑھا لکھا پاکستان اور بلوچستان تعمیر کرکے رہیں گے اس موقع پر ہائرایجو کیشن کے تعاون اور رہنمائی کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پروگرام میں مزید لچک کا مظاہرہ کریں خاص طور سے ضلعی سطح پر یونیورسٹی کے قیام کے مسئلے پر کیونکہ بلوچستان رقبہ و سیع اور آبادی قلیل و منتشر ہے۔

سردار بہادر خان یونیورسٹی کی فارغ التحصیل طالبات اور والدین کو اسی یادگار دن کے موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ عملی زندگی میں آپ سب کو مزید کامیاب اور سرخرو کرے اور دنیا میں ہونے والی ایجادات اور جدت کاری میں اضافہ کرنے کی توفیق دیں ۔

بعد ازاں صدرمملکت ممنون حسین ، گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی اور رکن صوبائی اسمبلی نواب محمد خان شاہوانی نے فارغ التحصیل طالبات میں گولڈ میڈل اور تعلیمی اسناد تقسیم کئے۔ کانووکیشن میں صوبائی وزراء اراکین اسمبلی وائس چانسلرز اعلیٰ سرکاری آفیسران ، والدین اور طالبات کی ایک بڑی تعداد بھی شریک تھے ۔