کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کااجلاس اسپیکر راحیلہ حمیددرانی کی زیرصدارت شروع تو مسلم لیگ (ن) کی رکن ثمینہ خان نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ شہر میں قائم نجی ہسپتالوں اور کلینکس کے اوقات کار ، فیس اور چارجز کے لئے کوئی قواعدضوابظ تاحال مرتب نہیں کئے گئے اس لئے ان ہسپتالوں اور کلینکس کی انتظامیہ اپنی مرضی کی فیس و دیگر چارجز مریضوں سے وصول کرتے ہیں جوکہ نہ صرف ایک لمحہ فکریہ ہے بلکہ حکومت کی توجہ کا متقاضہ بھی ہے ۔
قرار داد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ صوبہ بالخصوص کوئٹہ شہر میں قائم نجی ہسپتالوں اور کلینکس کے اوقات کار فیس اور چارجز کی بابت قوانین وضع کرے تاکہ صوبے کے عوام کو سستی اور فوری علاج کی سہولیات بہم پہنچائی جاسکیں ۔
انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ کلینکس میں فیسیں بہت زیادہ ہیں اور ان فیسوں کی وجہ سے صوبے کے غریب عوام کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے اس حوالے سے تاحال قواعدضوابط مرتب نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ ہسپتالوں اور نجی کلینکس کی انتظامیہ من چاہی فیسیں وصول کرتی ہے اس حوالے سے قانون سازی کی بھی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے عوام کا اہم مسئلہ حل ہوسکے ۔
نیشنل پارٹی کی ڈاکٹر شمع اسحاق نے کہا کہ صرف یہ نہیں کہ فیسیں زیادہ ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے ڈاکٹروں پر مریضوں کی بھی کوئی حد نہیں ایک ایک ڈاکٹر سو سو مریض چیک کررہا ہوتا اس مسئلے پر ہم سب نے مل بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہوگا یہ صوبے کے غریب عوام کا مسئلہ ہے انہیں پرائیویٹ ہسپتالوں ہی نہیں نجی میڈیکل سٹورز پر بھی لوٹا جاتا ہے ہم نے فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایک ڈاکٹر نے دس سے زیادہ مریض نہیں دیکھنے اور اس کی فیس ہزار روپے سے زیادہ نہ ہو ۔
اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ پرائیویٹ ہسپتالوں او رنجی کلینکس کی فیسیں بہت زیادہ ہیں ہمیں صحت کے شعبے میں لوگوں کی سہولت آسانی اور مشکلات کے حل کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے پالیسی بنانی ہوگی ۔
صوبائی وزیر صحت میر ماجد ابڑو نے کہا کہ حکومت صحت پالیسی پر کام کررہی ہے اس مسئلے کو جلد ازجلد حل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور میں یہ بھی کوشش کروں گا کہ آئندہ کابینہ اجلاس میں ہیلتھ پالیسی کو منظور کرالیا جائے ۔
سپیکر نے وزیر صحت ماجد ابڑو کو ہدایت کی کہ پالیسی بنانے کے عمل کو تیز کرتے ہوئے زیادہ محنت کریں اور کوشش کریں کہ 21اپریل کے اجلاس میں وہ پالیسی بنا کر لے آئیں ۔ حکومت قلیل مدت میں اچھا کام کررہی ہے عوام کی امیدیں حکومت سے وابستہ ہیں فوری اقدامات سے عوام کو ریلیف ملے گا۔
بعدازاں ایوان نے مشترکہ قرار داد کی متفقہ طو رپر منظوری دے دی ۔اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کی کشور احمد جتک نے مشترکہ قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پاسپورٹ آفس کا قیام تو عمل میں لایا گیا ہے لیکن وزیرے کی کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی جس کے باعث صوبے کے وہ لوگ جو بیرونی ممالک جانے کے خواہش مند ہوتے ہیں ویزے کے حصول کی غرض سے کراچی لاہور اور اسلام آباد جانا پڑتا ہے ۔
صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ تمام ممالک کے سفارتی مشنز کے تعاون سے صوبے کے عوام کوویزے کے حصول میں درپیش مشکلات کے ازالے کے لئے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ شہر میں موجود Gerrysاور FEDEXکوریئر سروسز کو مختلف ممالک کے ویزوں کے اجراء کے لئے بائیومیٹرک کا اختیار سونپا جائے ۔
قرا رداد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ صوبے کا دارلحکومت ہے شہریوں کو یہاں سے ویزے کے حصول کے لئے کراچی اسلام آباد اور لاہور جانا پڑتا ہے جس سے انہیں مشکلات کا سامنا رہتا ہے بائیومیٹرک کی سہولت یہاں کوئٹہ میں بھی مہیا کی جاسکتی ہے اس لئے یہ قرار داد منظ46ر کی جائے ۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے آغا سید لیاقت نے قرار داد کو اہمیت کی حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جتنے بھی سفارتخانے ہیں وہ تمام فیڈیکس کے ذریعے ہمیں ویزہ یتے ہیں اس سے پہلے چند سال قبل یہاں کوئٹہ میں FEDEXکا آفس تھا اور یہاں ہم فارم جمع کرتے تھے تو ویزہ آجاتا تھا بعد میں بائیو میٹرک سسٹم شروع ہوا یہ سسٹم بھی اسلام آباد ، لاہور اور کراچی میں FEDEXہی دیتا ہے ۔
ان شہروں میں صرف بائیو میٹرک کے لئے جانے پر 20سے25ہزار خرچ ہوجاتے ہیں میری گزارش ہے کہ یہ ایوان وفاقی حکومت سے یہ کہے کہ جتنے بھی ممالک ہیں جن کے ہاں بائیومیٹرک لازمی ہے وہ FEDEXکو یہاں کوئٹہ میں دفتر کھولنے کا کہیں تاکہ غریب عوام کے اضافی اخراجات نہ ہوں اور یہ سہولت انہیں اپنے شہر میں میسر آئے ۔
عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کوئٹہ میں پہلے بھی FEDEXکا دفتر موجود تھا مگر اب وہ بند پڑا ہے سپیکر یہ رولنگ دیں کہ جو بھی متعلقہ محکمہ ہے وہ اس حوالے سے معلومات لے اور جو بند دفاتر ہیں انہیں کھلوانے کے اقدامات کئے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ قونصلیٹ اور سفارتخانوں کے ساتھ بھی رابطہ کرکے ایسے مراکز بنانے کی تجویز دی جائے جس سے صوبے کے عوام کو ریلیف مل سکے ۔ ڈاکٹر شمع اسحاق نے کہا کہ صوبے کے لوگوں کو بائیومیٹرک کروانے کے لئے بھاری رقم خرچ کرکے دوسرے شہروں میں جانا پڑتا ہے اگر بلوچستان میں ہی یہ مراکز بن جائیں تو عوام کو ریلیف ملے گا۔
وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ انتہائی اہم نوعیت کی قرار داد ہے میں اس حوالے سے معلومات لوں گا کہ آیا یہ صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے یا پھر وفاقی معاملہ ہے ۔ا گر یہ معاملہ وفاق کا بھی ہے تو ہم وفاق سے بھی بات کرنے کے لئے تیار ہیں اور معلومات لینے کے بعد اراکین اسمبلی کو اس حوالے سے آگاہ کروں گا جس کے بعد سپیکر نے رولنگ دی کہ قرار داد میں پاسپورٹ آفس کے قیام کا جملہ نکال کر ویزے کی سہولیات فراہم کرنے کا جملہ شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ FEDEXاورGERRYSکے متعلقہ حکام کو بھی چیمبر میں بلاؤں گی ساتھ ہی سفارتخانوں کو بھی خطوط لکھے جائیں گے کہ وہ بائیو میٹرک کے لئے بلوچستان میں مراکز قائم کریں انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے سرمایہ کاروں سمیت بہت سے لوگ بلوچستان آئیں گے اگر یہاں سہولیات نہیں ہوں گی تو اس سے مشکلات میں اضافہ ہوگا ۔
بعدازاں انہوں نے ایوان کی مشاورت سے قرار داد کو ترمیم کے ساتھ منظور کرنے کی رولنگ دی ۔اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ ضلع موسیٰ خیل میں مختلف اقسام کے اونٹ پائے جاتے ہیں جس کی بناء یہاں کیمل ملک پراجیکٹ کی منظ46ری اور قیام کے لئے غڑیاسہ کے مقام پر12ایکڑ اراضی بھی دی جاچکی ہے ۔
مذکورہ پراجیکٹ کے قیام سے صوبہ بھر میں نہایت ہی معیاری اور شفا بخش دودھ فراہم کیا جانا ممکن ہوسکے گا لیکن قانون سازی نہ ہونے کی بناء پر مذکورہ پراجیکٹ کے کام میں تاخیر ہورہی ہے اس لئے صوبائی حکومت ضلع موسیٰ خیل میں کیمل ملک پروجیکٹ کے سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی کرے تاکہ عوام کو نہایت معیاری اور شفابخش دودھ کی فراہمی ممکن ہو ۔
مسلم لیگ کے محمدخان لہڑی نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پٹ فیڈر کینال میں صوبے کے لئے پانی کا حصہ آٹھ ہزار کیوسک مقرر /مختص ہے جب سال2014ء میں این ایل سی کے ذریعے اس کی صفائی کاکام کروایا گیا تو اس میں3500کیوسک پانی آنا شروع ہوا لیکن2014ء کے بعد مذکورہ کینال کی صفائی کاکام تاحال شروع نہیں کیا گیا ہے ۔
اس لئے اس میں صرف5000کیوسک پانی آرہا ہے جس کی وجہ سے اکثر قبائلی جھگڑے رونما ہورہے ہیں جن کے نتیجے میں اب تک بیس کے قریب افراد مارے جاچکے ہیں نیز کچھی کینال کا فیزون جو مکمل ہوگیا ہے اس کا ایک ہزار کیوسک پانی آرڈی418میر حسن سے پٹ فیڈر کینال یا ربیع کینال میں چھوڑا جائے ۔
اس لئے صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ پٹ فیڈر کینال کی صفائی و کچھی کینال کا ایک ہزار کیوسک پانی آرڈی418میرحسن سے پٹ فیڈر کینال یا ربیع کینال میں چھوڑنے کے لئے فوری عملی اقدامات اٹھائے تاکہ پانی وافر مقدار میں آنا شروع ہوسکے اور قبائلی جھگڑوں کی روک تھام ممکن ہو ۔
انہوں نے قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں کینال پر غیر قانونی طریقے سے تجاوزات قائم کئے گئے ہیں دوسری جانب 2012ء کے سیلاب میں نقل مکانی کرنے والوں نے کینال کے پشتے پر آبادیاں بنا لی ہیں سندھ میں آرڈی صفر سے 109تک تجاوزات ختم کرائے جائیں کینال کی صفائی کے ساتھ اسے پختہ کیا جائے ۔
پانی کی قلت کی وجہ سے اکثر اوقات عوام میں تنازعات بھی جنم لیتے ہیں پانی کی کمی کی وجہ سے ہمارے علاقے میں 2لاکھ ایکڑ اراضی پر گندم کی فصل تباہ ہوگئی ہے کچھی کینال کا فیز ون مکمل ہوچکا ہے وہاں سے عارضی طور پر ایک ہزار کیوسک پانی آرڈی 418میں چھوڑا جائے ۔
سابق صوبائی وزیر اظہار حسین کھوسہ نے کہا کہ 1965ء میں پٹ فیڈر کینال کا کام مکمل ہوا جس سے مختلف شاخیں نکالی گئیں اس وقت نصیرآباد ڈویژن کی آبادی12لاکھ سے زیادہ ہے یہاں پر کاشت ہونے والی چاول دنیا کے مختلف ممالک کو ایکسپورٹ کرکے بھاری زر مبادلہ کمایا جاتا ہے جبکہ کچھی کینال کے فیزون کاکام بھی مکمل ہوگیا ہے وہاں سے 1ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جائے کچھی کینال کی تکمیل سے 7لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی ۔
انہوں نے زور دیا کہ پٹ فیڈر کینال کو مکمل طور پر پختہ کیا جائے نیشنل پارٹی کی یاسمین لہڑی نے کہا کہ پٹ فیڈر کینال کو کرپشن کا ذریعہ بنالیا گیا ہے اکثر افسران وہاں اپنی تقرری کے لئے کوششیں کرتے ہیں ۔
سٹینڈنگ کمیٹی نے پورے علاقے اور کینال کا دورہ کیا تھا اور اپنی رپورٹ بھی دی تھی اس کو سنجیدگی سے لیا جائے پٹ فیڈر کینال کو پختہ کیا جائے اس سے اس کے کمانڈ ایریا میں اضافہ بھی ہوجائے گا ۔
انہوں نے زور دیا کہ پٹ فیڈرل کینال کے حوالے سے جن افراد کے خلاف کیسز ہوئے ہیں ان کے کیسز پر تیزی سے کارروائی کی جائے ۔وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پٹ فیڈر کینال کا برا حال ہے میرا خیال ہے کہ یہ مناسب نہیں ہوگا کہ پٹ فیڈر کینال کو کچھی کینال سے پانی دیا جائے یہ دو الگ الگ منصوبے ہیں ایسا کرنے سے ہمیں کچھی کینال کی پوری الائنمنٹ تبدیل کرنی ہوگی ۔
ہمارے علاقے پہلے ہی سیم زدہ ہیں کچھی کینال کے پانی کا پہلا حق ڈیرہ بگٹی کے لوگوں کا ہے ہم اپنے پانی سے ایک بوند بھی نہیں دے سکتے جس پر قرار داد کے محرک محمدخان لہڑی نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی کا صرف80ہزار ایکڑ اس پانی سے مستفید ہوگا جبکہ نصیرآباد کے 2لاکھ اورجھل مگسی سمیت دیگر علاقوں کے ایک لاکھ ایکڑ اراضی کو فائدہ ہوسکتا ہے ۔
اگر پانی عارضی طور پر بھی چھوڑ دیا جائے تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے جس پر میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہمارے پانی کے خلاف سندھ حکومت نے پہلے بھی سازش کی تھی ہم نے ان کی بھی مخالفت کی تھی میرا خیال ہے کہ پٹ فیڈرکا فیز ٹو جلدا زجلد مکمل ہونا چاہئے جو پہلے سے ہی مردہ گھوڑا ہے اس میں کچھی کینال کو شامل کرکے اس کے بھی مرد ہ ہونے کے خدشہ ہے ۔
صوبائی وزیر آئی ٹی پرنس احمد علی نے کہا کہ امریکی پروفیسرز نے ایسا کیمیکل بنایا ہے جس سے سیم سمیت پانی کو دیگر طریقوں سے ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے میرا خیال ہے کہ اس فارمولے کو ہمارے پانی کے نظام میں شامل ہونا چاہئے اس سلسلے میں میرے پاس دستاویزات موجود ہیں اگر اراکین چاہیں تو انہیں بھی بھیج سکتا ہوں۔
سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پٹ فیڈر بدانتظامی کا شکار ہوا ہے یہاں بہت زیادہ سیاسی مداخلت ہے جب میں نے منصوبہ این ایل سی کے حوالے کیا تھا تب اس کی بہت مخالفت کی گئی مگر اس کے بعد 2ہزار کیوسک پانی کا اضافہ ہوا پہلے بھی جب پٹ فیڈر پر اقدامات کئے تو 12ایم پی ایز میرے پاس آئے اس منصوبے میں جو زورآور ہے وہ پانی لے جاتا ہے ۔
وزیراعلیٰ سے گزارش ہے کہ اس منصوبے کو انتظامی طور ٹھیک کیا جائے اور اس منصوبے کا حل دس بیس کروڑ نہیں بلکہ اربوں روپے سے ہوگا وفاقی حکومت سے بات کی جائے کہ ہمیں زراعت کی مد میں کوئی منصوبہ نہ دیں بلکہ پٹ فیڈر کو ٹھیک کردیں ۔
وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ اس معاملے کو ہم مشترکہ مفادات کونسل میں بھی لے کر گئے ہیں وہاں اس پر بات ہوئی ہے اہم مسئلے ہے اور اہم قرار داد ہے اس مسئلے پر سندھ حکومت سے بھی بات کررہے ہیں سندھ اور وفاق کے ذمے ہمارے بقایہ جات ہیں محرک اس قرار داد پر زور نہ دیں ہم اس مسئلے کو حل کرائیں گے ۔
انہو ں نے یقین دہانی کرائی کہ پٹ فیڈر کی پختگی کے پراجیکٹ کو وفاقی پی ایس ڈی پی میں بھی ڈالیں گے۔بعدازاں قرار داد کے متن میں ترمیم کرتے ہوئے اس میں سفارش کی گئی کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کرے تاکہ پٹ فیڈر کینال کی صفائی ، اس کی پختگی ، فیز ٹو کی تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے ۔جس کی ایوان نے منظوری دے دی ۔
اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے اقلیتی رکن ولیم جان برکت نے توجہ دلاؤ نوٹس دیتے ہوئے کہا کہ 17دسمبر2017ء کو میتھو ڈسٹ چرچ کوئٹہ میں دعائیہ تقریب کے دوران رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعے جس میں مسیحی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے اور دیگر 10افراد جاں بحق اور60کے قریب زخمی ہوئے تھے ۔
2اپریل 2018ء کو مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے چار افراد شاہ زمان روڈ کوئٹہ میں فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے حکومت نے اب تک جاں بحق افراد کی مالی امداد اور زخمیوں کے علاج معالجے اور اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں اس کی تفصیل دی جائے ۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعے میں میتھو ڈسٹ چرچ کی عمارت کو بھی نقصان پہنچاجس کے بعد ضروری کام کردیا گیا چار مہینے گزرنے کے بعد بھی مرمت و تعمیر کاکام سرکاری سطح پر شروع نہیں ہوسکا۔
صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور میر سرفراز بگٹی نے مسئلے کے حل کے لئے اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 60ہزار سے زائدپاکستانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوئے ہیں میں معزز رکن کے ساتھ خود جا کر چرچ دورہ کروں گا ۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کی تحقیقات بھی کی جارہی ہیں ۔
ہم اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں جہاں جو بھی مسئلہ ہو میں حاضر ہوں اکثر اوقات دہشت گردی کے واقعات میں معاوضے کی ادائیگی میں اس لئے تاخیر ہوتی ہے کیونکہ ورثاء کے پاس جانشینی سرٹیفکیٹ نہیں ہوتے حکومت کی معاوضے کی ادائیگی کے حوالے سے واضح پالیسی ہے اس میں کبھی بھی تاخیر نہیں ہوتی پھر بھی معزز رکن اجلاس کے ساتھ چیمبر میں آئیں اس مسئلے پر تفصیلی معلومات محکمے سے لوں گا۔
بعدازاں مثبت حکومتی یقین دہانی پر توجہ دلاؤ نوٹس نمٹادیا گیا ۔اجلاس میں عوامی مفاد کے نکتے پر بات کرتے ہوئے پشتونخوا میپ کی عارفہ صدیق نے کہا کہ اس ایوان نے صوبے کی قومی اور بین الصوبائی شاہراہوں سے متعلق قرار داد متفقہ طور پر منظور کی تھی کہ این ایچ اے ان تمام شاہراہوں کو اپنی تحویل میں لے تاہم اب تک صرف ایک شاہراہ کو این ایچ اے نے اپنی تحویل میں لیا ہے ۔
انہو ں نے زوردیا کہ این ایچ اے سے رابطہ کرکے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صوبے کی تمام قومی و بین الصوبائی شاہراہوں کوا ین ایچ اے اپنی تحویل میں لے ۔صوبائی حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے انہیں یقین دلایا کہ اس مسئلے کو این ایچ اے کے ساتھ اٹھایاجائے گا اور قرار داد پر عملدرآمد کرایا جائے گا۔
اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران انجینئر زمرک خان کے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ جب ہم حکومت میں نہیں تھے تب بھی ہم یہ بات کرتے تھے کہ کسی سے ناانصافی نہیں ہونی چاہئے ہم کسی علاقے کی ترقی کے مخالف نہیں مگر ہماراموقف ہے کہ کسی کو کسی صورت نظر انداز نہیں ہونا چاہئے ۔
ان تحفظات کا ہم نے ماضی میں بھی اظہار کیا تھا ہم وفاق سے بھی یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم پنجاب کی ترقی پر کوئی اعتراض نہیں اسے جتنے چاہیں فنڈز دیں مگر دوسرے صوبوں کو بھی نظرا نداز نہ کیا جائے اس سے صوبوں میں نفرت پھیلتی ہے پنجاب کو زیادہ فنڈز دیئے جانے اور دوسرے صوبوں کو کم ملنے کی وجہ سے پنجاب کے خلاف باتیں کی جاتی ہیں ۔
انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت صوبے کے تمام حلقوں کو یکساں اہمیت دیتی ہے اور کسی علاقے کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں عوامی مفاد کے نکتے پر بات کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ کچھ دنوں سے چند ٹی وی چینلز پر کچھ لوگ بیٹھ کر پشتون قوم کے خلاف زہر اگل رہے ہیں ۔
اس ملک میں کروڑوں پشتون وسیع و عریض سرزمین پر آباد ہیں پشتون سرزمین مختلف وسائل سے مالامال ہے جس سے تمام صوبے اور اقوام مستفید ہورہے ہیں قبائلی علاقوں کے پشتونوں نے موجودہ آزاد کشمیر کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا آج وہ اپنے حق کے لئے آواز بلند کررہے ہیں ۔
منظور پشتون نے اسلام آباد میں دھرنا دیا وزیراعظم نے ان سے مذاکرات کئے مگر اب ان پر عملدرآمد کی بجائے پشتونوں کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اس موقع پر سپیکر نے انہیں متعدد بار تنبیہ کی کہ آپ کا موقف آچکا ہے عوامی مفاد کے نکتے پر تقاریر نہیں ہوسکتیں تاہم نصراللہ زیرئے مسلسل بولتے رہے جس پر سپیکر نے ان کا مائیک بند کرادیا تاہم وہ مسلسل بولتے رہے ۔
اس موقع میر سرفراز بگٹی نے نصراللہ زیرئے کے نکتے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ منظور پشتون نے جو مطالبات کئے تھے وہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے سامنے رکھے ہیں انہوں نے نصراللہ زیرئے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آپ کے اتحادی ہیں دن رات آپ ان کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں ان سے منظور پشتون کے مطالبات منظور کرالیں ۔
قبائلی عوام قومی دھارے میں آنا چاہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ایف سی آر کا خاتمہ ہو اور قبائلی علاقوں میں بھی باقی ملک کی قوانین نافذ ہوں مگر اس کی راہ میں بھی آپ لوگ حائل ہوں اور اس کی مخالفت کررہے ہیں یہ دوغلا پن نہیں چل سکتا لوگ دوغلے پن کو سمجھ چکے ہیں ابھی سرفر از بگٹی بول ہی رہے تھے کہ نصراللہ زیرئے اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے عبیداللہ بابت نے بھی اس موقع پر بولنا شروع کردیا ۔
سپیکر نے کہا کہ آپ کے پاس مائیک نہیں آپ بیٹھ جائیں تاہم وہ بھی مسلسل بولتے رہے اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بھی بولنا شروع کردیا جس پر ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہ دی ۔
سپیکر اراکین کو بار بار بیٹھنے کی ہدایت کرتی رہی اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ایوان کو قواعد کے مطابق چلانا چاہئے تمام اراکین کو اپنی بات رکھنی چاہئے اور اپنی بات رکھنی چاہئے ۔
اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ میڈیا پشتونوں کے خلاف زہر اگل رہا ہے ہم نے صرف اس بات کی نشاندہی کی ہے تو اس میں غصہ ہونے کی کیا بات ہے ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ایف سی آر کا خاتمہ ہو اور پورے آئین کا اطلاق قبائلی علاقہ جات پر ہو پاک فوج ہماری بھی فوج ہے ہم ملک کے شہری ہیں ۔
اگر ہم نے احتجاج کیا ہے یا کوئی مطالبہ کیا ہے تو یہ ہمارا حق ہے اگر کوئی ہمارا کچھ بگاڑنا چاہتا ہے تو سنوارنے والی ذات بھی موجود ہے میڈیا کو کوئی حق نہیں کہ وہ کسی کو غدار کہے پاکستان پشتونوں کی قربانی سے بنا ہے ہمیں تشخص اور وحدت چاہئے ہمیں اپنے وسائل پر بولنے کا حق ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی ڈیکورم کا خیال رکھنا ہم سب پر فرض ہے آج تک جو بات میزان چوک کے جلسے میں کی ہے وہی بات پارلیمنٹ میں بھی کی ہم دوغلے لوگ نہیں ۔جس کے جواب میں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم سب کو اپنا موقف دینے کا حق حاصل ہے مجھے پشتون یا پختون تمام اپنے بھائیوں کی طرح عزیز ہیں ۔
میں نے کسی کی توہین نہیں کی فوج جتنی میری ہے اتنی بھی آپ کی بھی ہے لیکن ہمارے جلسوں میں یہ بات نہیں ہوئی کہ دہشت گردی کے پیچھے وردی ہے ۔سیکورٹی فورسز کے افسران نے قیام امن کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہیں انہیں فراموش نہ کیا جائے آئین میں بھی لکھا ہے کہ ہم فوج پر نکتہ چینی نہیں کرسکتے ہمارے اور آپ کے بزرگوں نے اس آئین پر دستخط کئے ہیں ۔
اگر میری بات سے کسی بھی رکن کی دل آزاری ہوئی ہو تو اس پر معافی مانگتا ہوں اور یہ بھی کہتا ہوں کہ سیاسی ہو یا کوئی اور فورم میں سیاسی گفتگو کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ جس طرح کارویہ آج اراکین نے اپنایا ہے وہ ہماری روایات کے منافی ہے ہمیں ایوان کا تقدس بحال رکھنا چاہئے لوگ ہمیں دیکھ کر سبق سیکھتے ہیں ۔
ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا چاہئے یہ بات واضح ہے کہ میڈیا ریٹنگ پر چلتا ہے میڈیا بلوچستان کو کوریج نہیں دیتا مجھے بھی اس بات پر اعتراض ہے انہوں نے کہا کہ جب ملک دہشت گردی کا شکار تھا آئے دن لوگ مارے جارہے تھے ۔
خودکش حملے ہورہے تھے تب انہی فوجی جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ہمارے لئے امن قائم کیا ہمیں معلوم ہے کہ کراچی وانا پشاور کا کیا حال تھا ۔ روزانہ سینکڑوں لوگ مرتے تھے کئی علاقوں میں حکومت کی رٹ نہیں تھی لیکن فورسز نے جان کی پروا کئے بغیر امن قائم کیا ہے اور آج ملک ترقی کی طرف جارہا ہے ۔
انہو ں نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ دہشت گردی کے پیچھے وردی ہے ہمیں فورسز کی قربانیوں کی قدر کرنی چاہئے نہ کہ قومیت میں تقسیم ہونا چاہئے فوج میں بہت سے پشتون ہیں بلکہ بلوچوں سے فوج میں پشتون خدمات سرانجام دے رہے ہیں ہم سب پاکستانی ہیں ان باتوں سے باہر نکل آئیں اور پاکستان اور بلوچستان کی ترقی میں کردار ادا کریں ۔
انہوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ وہ واحد سپیکر ہیں جو اپنے اراکین کے ساتھ اس قدر شائستگی سے پیش آتی ہیں اور انہیں ہر دفعہ بات کرنے کی اجازت دیتی ہیں آپ کو چاہئے کہ فیصلہ نہ ماننے والے اراکین کے خلاف سخت اقدام کریں اور اگر کوئی بات نہ مانے تو آپ کے پاس یہ بھی اختیار ہے کہ سارجنٹ کو بلا کر انہیں ایوان سے باہر نکال دیں ۔
سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی نے کہا کہ دنیا بھر میں جب سپیکر منع کردیں تو وزیراعظم بھی بات نہیں کرتا لیکن کچھ دنوں سے دیکھ رہی ہوں کہ ہمارے اراکین روایات کی پابندی نہیں کررہے مجھے کسی کا مائیک بند کرنے کا شوق نہیں کیونکہ اسمبلی وہ واحد جگہ ہے جہاں اراکین اپنی بات تمام متعلقہ اداروں اورحکام تک پہنچا سکتے ہیں ۔
انہوں نے ایوان میں متعدد قوانین پڑھ کر سنائے اور کہا کہ ہم سب روایتی لوگ ہیں ہمیں روایات کا خیال رکھنا چاہئے میں نہیں چاہتی کہ اختیارات کا سخت استعمال کروں اراکین احترام کو برقرا ر رکھیں ۔
اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے ایوان کی توجہ سبی ہرنائی ریلوے لائن کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ریلوے لائن تقریباً مکمل ہوچکی ہے تاہم اب کہا جارہا ہے کہ سڑک کی تعمیر کے بغیر ریلوے لائن کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتے جبکہ اس سے پہلے مارچ میں ریل سروس شروع کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی ۔
انہوں نے کہا کہ سڑک کے لئے فنڈز منظور ہیں منصوبہ پی ایس ڈی پی میں موجودہے انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کو دیکھا جائے اور منصوبے کو سیکورٹی فراہم اور سڑک پر کام شروع کیا جائے تاکہ عوام کو سہولت میسر آئے ۔
وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سبی ہرنائی ریلوے کا منصوبہ اہم ہے مستقبل میں کوئلے کا تمام کاروبار اسی ریلوے لائن سے ہوگا آئی جی ایف سی سے بات کریں گے اور سڑک منصوبے کے لئے فنڈز موجود اور منصوبہ پی ایس ڈی پی میں ہے اس پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔
جمعیت العلماء اسلام کی حسن بانو رخشانی نے کہا کہ پی ٹی سی ایل کی ڈسپنسری میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے سے خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے وہاں لیڈی ڈاکٹر تعینات کی جائے ۔ صوبائی وزیر صحت میر عبدالماجد ابڑو نے انہیں یقین دلایا کہ وہاں پر جلد لیڈی ڈاکٹر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی ۔ نیشنل پارٹی کی یاسمین لہڑی نے کہا کہ کمیونٹی سکولز کے اساتذہ گزشتہ کئی روز سے احتجاجی کیمپ میں بیٹھے ہیں ۔
ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں مستقل کیا جائے صوبائی وزیر تعلیم طاہر محمودخان نے کہا کہ یہ چار پانچ سال پرانا مسئلہ ہے تاہم رکن رکن اسمبلی یاسمین لہڑی اس سلسلے میں مجھ سے مل لیں اگرچہ وقت کم رہ گیا ہے مگر جہاں تک ہوا مسئلے کے حل کے لئے کوشش کریں گے۔
اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے ایوان کی توجہ وائی ڈی اے اور پیرا میڈیکس کے احتجاج کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ہم احتجاجی کیمپ میں گئے تھے اور ان سے یہ بات کی تھی کہ وزیراعلیٰ کی واپسی پر ان کے مطالبات پر عملدرآمد ہوگا ان کے مطالبات کی سمری وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں موجود ہے اور وزیراعلیٰ بھی کوئٹہ آگئے ہیں لہٰذا اس مسئلے کو حل کیا جائے ۔
وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ بات درست ہے ہم ان کے کیمپ میں گئے تھے اور ان سے بات کی تھی اب سپریم کورٹ نے بھی اس حوالے سے احکامات جاری کئے ہیں انہوں نے یقین دلایا کہ پیر تک یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سید لیاقت آغا نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ترقیاتی منصوبے اور ملازمتوں پر پابندی سے متعلق خط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ واضح احکامات کے باوجود اب شنید میں ہے کہ بعض محکموں میں پرانی تاریخوں میں یہ کام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اگر ایسا ہورہا ہے تو اس کو روکا جائے اور کسی بھی غلط اقدام سے گریز کیا جائے ۔
صوبائی وزیر میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جو محکمے یکم اپریل سے پہلے ملازمتوں کے لئے ٹیسٹ انٹرویو لے چکے ہیں ا س عمل کو نہیں روکا گیا ہے بلکہ صرف تقرر نامے جاری کرنے سے روکا گیا ہے ہم الیکشن کمیشن کے لیٹر پر قانون کے مطابق عملدرآمد یقینی بنائیں گے تاہم ہم عدالت میں پٹیشن دائر کرچکے ہیں کہ ہم انتخابات میں جارہے ہیں جن کے پرامن انعقاد کے لئے فورسز میں تعیناتیوں کی اجازت دی جائے جہاں تک ترقیاتی منصوبوں کا تعلق ہے تو جو منظور ہوچکے ہیں ۔
ان پر عملدرآمد کی کوشش کریں گے لیکن سیاسی رشوت کے طور پر اب کوئی نئے منصوبے جاری کرنے کے میں بھی خلاف ہوں اور ایسا کچھ نہیں ہوگا سپیکر نے کہا کہ اس حوالے سے وزیراعلیٰ سے بات چیت کرکے صورتحال واضح کی جائے ۔
وزیر سی اینڈ ڈبلیو میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے سبی ہرنائی روڈ پر کام رک جانے کے حوالے سے نکتہ اٹھایا تھا میں نے اس معاملے پر اجلاس بلایا اور واقعی میں کام رکا ہوا تھا اب ہدایت دی ہے کہ جلد کام شروع کیا جائے اس سکیم کے فنڈز بھی پی ایس ڈی پی میں مختص ہیں ۔
جمعیت العلماء اسلام کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے تجویز دی کہ الیکشن کمیشن کے نوٹفیکیشن کے خلاف عدالت میں جانے سے گریز کیا جائے اس سے ترقیاتی سکیمیں رک جائیں گی میری تجویز دہے کہ وزیراعلیٰ آرڈر جاری کردیں پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو تب عدالت سے رجوع کرنے پر غور کیا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ جن بھرتیوں کا عمل یکم اپریل سے پہلے شروع ہوا ہے اسے مکمل ہونا چاہئے دیگر آسامیاں اگلی حکومت خود پرکرلے گی ۔ بعدازاں اجلاس سوموار16اپریل سہ پہر چار بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا ۔
بلوچستان اسمبلی اجلاس،نجی ہسپتالوں کی فیس و قوائد و ضوابط بارے قوانین وضع کرنیکی سفارش
![]()
وقتِ اشاعت : April 14 – 2018