کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں پر پابندی اور بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست کی وجہ سے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا کوشش کرونگا کہ دو ، تین ماہ تو گزارے مزید ایک ماہ حکومت کو چلاؤ ماضی کے مقابلے میں امن وامان کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے ۔
افغانستان اور ایران کے ساتھ طویل بارڈر کی وجہ سے بدامنی کے واقعات کی مکمل تدارک ممکن نہیں ہو سکا پاک فوج اور دیگر فورسز کی قربانیوں کی وجہ سے ملک میں وامان کی صورتحال میں زبردست بہتری آئی ہے امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکام ہوئے تا ہم ہماری فوج نے وہ کامیابی حاصل کی جو کسی کے تصورمیں نہیں تھا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے انڈیجویل لینڈ کے زیر اہتمام کوئٹہ میں دہشت گردی اور دیگر واقعات سے متاثرہ صحافیوں کے لئے کونسلنگ سینٹر کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کر تے ہوئے کیا ۔
اس موقع پر انڈیجویل لینڈ کے ڈائریکٹر گل مینہ بلال ، میئر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ ، پریس کلب کے صدر رضا الرحمان ، سینئر صحافی سلیم شاہد نے بھی خیالات کا اظہار کیا ڈائریکٹر گل مینہ بلال نے کہا ہے کہ انڈویجویل لینڈ غیر سرکاری تنظیم ہے جو سیکورٹی فورسز، میڈیا پرسن سمیت مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی نہ صرف تربیت کر تی ہے بلکہ ان کی ذہنی تربیت کے لئے کونسلنگ کے فرائض بھی انجام دے رہی ہے ۔
پشاور اور کراچی کے بعد کوئٹہ میں میڈیا ورکر کونسلنگ سینٹر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے سینٹر تین سال تک کوئٹہ میں اپنی خدمات انجام دے گا جس کے لئے دو سیکاٹریسٹ کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ انڈیجویل لینڈ کی جانب سے کونسلنگ کا جو اقدام اٹھایا گیا وہ ہمارے صوبے اور شہر کے لئے اعزاز کی بات ہے امید ہے کہ میڈیا ورکر ان سے بھر پور استفادہ حاصل کر سکیں گے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی میڈیا نے ہمیشہ مثبت کام کیا ہے یہاں کے روایات اور قبائلی سسٹم کو دے کر رپورٹنگ کی ہے ۔
بہت سے ایسے چیزیں ہے جس سے افرا تفری پھیلنے کا خدشہ ہوں چھپایا ہے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں میڈیا کو زیادہ آزادی دی گئی ہے اب ان پر یہ ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ وہ ملک کی مفاد کے لئے کام کرے اسے خبروں سے اجتناب کرے جو ملک وقوم کے مفادات کے خلاف ہو ہمیں احساس ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں میڈیا نے جو کردا رادا کیا وہ قابل فخر اور ستائش ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ایسے چیزیں دکھائی جاتی ہے خاص کر دہشت گردی کی واقعات جب لاشیں با ر بار دکھائی جا رہی ہوں تو یہ متاثرہ فیملیوں کے لئے انتہائی درناک ثابت ہو تا ہے اس لئے میڈیا کو ایسے چیزوں کو دکھانے سے اجتناب کرناچا ہئے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن وامان کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو چکا ہے اکا دکا واقعات ہو رہے ہیں ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے اور کسی کے باتوں اور پروپیگنڈے میں نہیں آنا چا ہئے یہ جنگ کوئی اکیلا نہیں جیت سکتا جب تک عوام میڈیا ساتھ نہ دیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد ہم ایک دوسرے کیساتھ تعاون کرنا چا ہئے نہ کہ دھرنا دے کر فورسز کو اپنے اصل کام سے دور رکھنا ہے جب ہم دھرنے دینگے تو فورسز دھرنا کی حفاظت پر مامور ہو گی تو دہشت گردوں کے خلاف پھر کون کا رروائی کرے گا ۔
انہوں ںے کہا کہ ہم نے بہت سارے خودکش حملوں، ٹارگٹ کلر کو پکڑے ہیں اور ان کا مقابلہ کیا ہے 2008-09 اور2013 کے مقابلے میں صورتحال کافی بہتر تھی اس وقت تو بدامنی عروج پر تھی سینکڑوں کے حساب سے قیمتوں جانوں کا ضیاع ہو رہا تھا ۔
انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے افغانستان اور ایران کیساتھ ہماری طویل بارڈر اور یہاں پر لو گوں کی زیادہ آمدورفت ہے بارڈر پر باڑ نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گرد باآسانی اپنے واردات میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کامیابی کے لئے بارڈر پر باڑ لگانے کی اشد ضرورت ہے اور اسی وجہ سے ہی ہم دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہم اور ہم پاک فوج میں سے ہے جو جنگ امریکہ اور اس کے اتحادی نہیں جیت سکے ۔
اس میں پاک فوج نے نمایاں کامیابی حاصل کی کراچی ، خیبر پختونخوا میں آئے روز درجنوں لاشیں گر تی تھی جب پاک فوج کو ذمہ داری سونپی گئی تو وہاں کی صورتحال ہم سب کے سامنے ہیں پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف بھر پور مقابلہ کیا اور انہیں اپنے انجام تک پہنچایا ۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھر تیوں پر پابندی اور ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست کے باعث ہماری حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے عام لو گ تو یہ جانتے کہ الیکشن کمیشن یا ہائیکورٹ میں کن وجوہات کی بناء پر کیسز چل رہی ہے وہ تو اپنا کام مانگتے ہیں انہیں سکول ، کالج ، واٹر سپلائی اسکیم اور روڈ کی ضرورت ہے اگر ہم یہ نہیں دسے سکتے تو پھر ہم عوام کو کیا جواب دیں گے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے جس جذبے کیساتھ میں آیا تھا وہ کام نہیں ہو پا رہی انہوں نے کہا کہ سیکرٹری صاحبان بھی ہائیکورٹ میں کیس کی وجہ سے تعاون نہیں کر رہا انہوں کہا کہ ہم نے تو تین مار گزار دی اور کوشش ہے کہ مزید ایک ماہ کا وقت بھی نکال سکوں آنیوالے الیکشن میں یہ عوام پر منحصر ہے کہ وہ کس کو ووٹ دینگے ۔
تا ہم انہیں چا ہئے کہ وہ خدمت سے سر شار لو گوں کو منتخب کرے صحافیوں کے مسائل کے حوالے سے انہوں نے کہاہے کہ ہم نے کافی حد تک ان کے مسائل حل کئے ویلفیئر کے فنڈ کی مد میں20 کروڑ روپے دیئے اسی طرح لیپ ٹاپ بھی تقسیم کئے گئے البتہ ہاؤسنگ اسکیم کا باقی ہے جس پر میں نے چیف سیکرٹری سمیت دوسرے حکام سے بات کی ہے بہت جلد وہ مسئلہ بھی حل ہو جائیگا۔
بدامنی کے واقعات کی مکمل تدارک نا ممکن ہے، بھرتیوں اور ترقیاتی فنڈ کے اجراء پر پابندی سے دھچکا لگا،وزیراعلیٰ
![]()
وقتِ اشاعت : May 3 – 2018