|

وقتِ اشاعت :   August 17 – 2018

 اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اب سے کچھ دیر بعد ملک کے 22 ویں وزیراعظم کا انتخاب ہونے والا ہے جس کے لیے عمران خان اور شہباز شریف مدمقابل ہیں۔

قومی اسمبلی آج اپنے نئے قائد ایوان کا انتخاب کرے گی، وزارت عظمیٰ کے لیے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور مسلم لیگ (ن) کے شہباز شریف میدان میں ہیں۔

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس

قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹیوں کے الگ الگ اجلاس ہوئے جس میں کارروائی کے لئے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

انتخاب کا طریقہ

ایوان میں نئے قائد کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے بجائے ڈویژن کے ذریعے ہوگا، اس طریقہ انتخاب میں ارکان خفیہ ووٹنگ کے بجائے الگ الگ حصوں میں بٹ جاتے ہیں یعنی عمران خان اور شہباز شریف کے درمیان مقابلے کے دوران ارکان دائیں اور بائیں دو حصوں میں تقسیم ہوجائیں گے اور ارکان کی اکثریت کی بنیاد پر قائد ایوان کا انتخاب عمل میں آجائے گا۔

وزارت عظمیٰ کے لیے تحریک انصاف کا نمبر گیم

قومی اسمبلی میں تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت ہے جس کے پاس 152 نشستیں ہیں، جب کہ اس کی اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ کی 7، پاکستان مسلم لیگ (ق) کی 3، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کی 5، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کی 4، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی 3، جمہوری وطن پارٹی اور عوامی مسلم لیگ کی ایک ایک نشست شامل ہے۔

ایوان میں مسلم لیگ (ن) کی عددی قوت

مسلم لیگ (ن) کے پاس قومی اسمبلی کی 81 نشستیں ہیں، ایم ایم اے کے منتخب ارکان شہباز شریف کو ووٹ دیں گے تاہم اس میں شامل جماعت اسلامی نے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی بھی مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دے گی۔

پیپلز پارٹی کا ووٹنگ کے عمل سے اظہار لاتعلقی

قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پاس 54 نشستیں موجود ہیں تاہم پیپلز پارٹی نے قائد ایوان کے لیے کسی بھی جماعت کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ایوان میں ووٹنگ کے عمل سے لاتعلق رہے گی۔

موجودہ ایوان میں وزیر اعظم کیلیے 166 ارکان کی حمایت لازمی

واضح رہے کہ 342 کے ایوان میں وزیر اعظم بننے کے لیے 172 ارکان کی حمایت ضروری ہے تاہم اس وقت ایوان میں ارکان کی تعداد 330 ہے جس کے باعث وزیر اعظم بننے کے لیے لازمی ارکان کی حد کم ہوکر 166 ہوچکی ہے۔

اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو اپنے اتحادیوں کی بدولت 176 ارکان کی حمایت  حاصل ہے اگر 4 آزاد ارکان تحریک انصاف کے ساتھ مل گئے تو ان کی عددی برتری 180 تک جاپہنچے گی اگر وہ چار ارکان تحریک انصاف کے ساتھ نہ ملے تب بھی تحریک انصاف اپنا وزیر اعظم بنانے کی پوزیشن میں ہے۔