|

وقتِ اشاعت :   October 22 – 2018

اسلام آباد: وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج(پیر کو) ہوگا اجلاس میں آئی ایم ایف کی شرائط کے پیش نظر عوام پر بجلی بم گرائے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سمری وزارت کو بھجوادی ہے بجلی کے نرخوں میں 3 روپے 81 پیسے فی یونٹ تک اضافے کا فیصلہ کیا جائے گا اضافے پر صارفین کو 406 ارب روپے کا اضافی بوجھ بردادشت کرنا پڑیگا۔

ذرائع کے مطابق ماہانہ 50 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کواضافے سے استثنی دینے کی تجویز جبکہ ماہانہ 100 یونٹ تک کے صارفین کیلئے 87 پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز ہے ماہانہ 200 یونٹ تک کے صارفین کیلئے 1 روپے 22 پیسے فی یونٹ اضافہ کئے جانے کا امکان ہے اسطرح ماہانہ 300 یونٹ تک کیلئے 2 روپے 04 پیسے فی یونٹ اضافے کیا جاسکتا ہے جبکہ بجلی کے نرخوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ 3 روپے 81 پیسے تک تجویز ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ایل این جی ٹرمینل کی رپورٹ کے حوالے سے بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔ دریں ملک میں ڈالر کی اونچی اڑان سے مہنگائی کے طوفان نے گھنٹی بجادی ، ایک رپورٹ کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اٖضافے سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7روپے فی لٹر تک اٖضافہ متوقع ہے۔ 

پٹرول کی قیمت میں 6روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ گھی اور کھانے پکانے کا تیل سمیت چائے کی پتی 15سے 25روپے فی کلو تک مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق چھوٹے بچوں کیلئے دودھ کے ڈبے کھانے پینے کی اشیاء اور ڈائپرزکی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی ۔

درآم د شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں پچاس ہزار روپے سے پانچ لاکھ اور موٹر سائیکل کی قیمت میں تین ہزار روپے تک اضافے کا امکان ہے جبکہ موبائل فنز کی قیمت میں تین فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ 

تین ماہ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے پانچ ارب 41کروڑ ڈالر پاکستان بھجوائے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 4ارب 74کروڑ ڈالر بھیجے تھے جبکہ دوسری جانب پاکستان کی برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کی وجہ سے درآمد ات میں کمی ہوئی ہے لیکن ماہر معاشیات کے مطابق درآمدات میں کمی سے بھی ملکی مسائل بڑھ جائیں گے ۔ 

رپورٹ کے مطابق اگر ڈالر کی قیمتوں مین اضافہ بڑھتا گیا تو مہنگائی کی شرح 6.5فیصد سے بڑھ کر 9فیصد تک پہنچ سکتی ہے جس سے ایک عام بندے کی زندگی پر انتہائی برے اثرات مرتب ہونگے ۔