|

وقتِ اشاعت :   November 6 – 2018

ماہی گیری کاکام انتہائی جانفشانی اور کھٹن کاموں میں شمار ہوتا ہے۔ ماہی گیر اپنے گھروں کے چولہے جلانے کے لیے سخت سے سخت موسمی حالات میں بھی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سمندری موجوں کا مقابلہ کر کے دو وقت کی روزی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں۔ 

بعض اوقات ماہی گیر ناگہانی آفات آنے کی صورت میں اپنی جانیں بھی گنوا دیتے ہیں۔آج دنیا چاند پر کمند ڈال چکی ہے۔ دنیا بھر میں محنت کشوں کے روزگار کے شعبہ کو نئی تکنیک سے ہمکنار کرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ بالخصوص محنت کشوں کو دورانِ کام سیفٹی فراہم کرنے کے لیے ضروری آلات کی فراہمی میں بھی فراوانی کردی گئی ہے اور مراعات بھی دی جاتی ہیں۔ 

لیکن ہمارے ہاں محنت کشوں کی حالتِ زار جوں کی توں ہے۔ماہی گیری کا شعبہ بھی محنت کشوں کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ دیگر محنت کش طبقہ کی طرح ماہی گیروں کا بھی روزگار پْرخطر سمجھا جاتا ہے لیکن شومئی قسمت ماہی گیروں کو اس درجہ میں تاحال شمار نہیں کیا گیا۔

بلوچستان میں سونمیانی سے لے کر جیونی تک لاکھوں ماہی گیر گھرانے آباد ہیں اور ساحلی پٹی پر آباد لوگوں کے ذریعہ معاش کا زیادہ تر انحصار ماہی گیری کے شعبہ سے وابستہ ہے۔اس کی مثال ہم گوادر سے یوں لے سکتے ہیں کہ گوادر میں محکمہ فشریز کے اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ کشتیوں کی تعداد 1863 ہے۔ 

اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ فی کشتی میں 5 افراد کام کرتے ہیں تو اس حساب سے ان کشتیوں پر ماہی گیری کا کام کرنے والے افراد کی تعداد 9315 بنتی ہے۔ پھر اگر فرضی طور پر یہ سمجھا جائے کہ فی کشتی پر کام کرنے والا ماہی گیر 5 افراد پر مشتمل اپنے کنبہ کا کفیل ہے تو 9315 ماہی گیروں کی زیر کفالت افراد کی تعداد 46575 بنتی ہے۔

شکار کے بعد مچھلی کو ہاربر پر اتارا جاتا ہے تو وہاں مچھلی کی نیلامی سے لے کر مچھلی کو صاف کرنے، فریز کرنے، مچھلی کو مقامی مارکیٹ یا سمندر کنارے سے دیگر مقامات تک سپلائی کرنے اور کمپنیوں میں کام کرنے والے مزدور وغیرہ کے گھرانوں کی تعداد ان ماہی گیر گھرانوں سے ملا کر 70 سے 80 ہزار ضرور بنے گی۔ 

یوں ماہی گیری کا شعبہ ساحلی شہر کے مکینوں کے اکثریت کا روزگار ٹھہرتا ہے۔ساحلی شہروں کی بنیادی معیشت رواں دواں رکھنے اور ملکی زرِ مبادلہ میں خوش گوار اضافہ کرنے والے جفا کش ماہی گیروں کے دن اب تک نہیں بدلے ہیں۔ صدیاں بیت چکی ہیں، ماہی گیر شکار کے لیے روایتی اور فرسودہ طریقے استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور ان کے زیر کفالت افراد گوں نا گوں مسائل سے دوچار ہیں۔ 

اس کی وجہ لیبر قوانین کا عدم نفاذ ہے۔حکومتی سطح پر ماہی گیروں کی حالتِ زار کو تبدیل کرنے کے بلند و بانگ دعوؤں کی فقط گونج ہی سنائی دیتی ہے عملی اقدامات ہوتے نظر نہیں آتے۔محکمہ ماہی پروری یعنی فشریز تواتر کے ساتھ ماہی گیروں کے لیے تربیتی ورکشاپ منعقد کرتی رہتی ہے مگر ماہی گیروں کے بنیادی حقوق کے تحفظ، روزگار کو پائیدار بنانے اور ان کو مراعات کی فراہمی کے لیے بنیادی کام پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے جو صرف اور صرف لیبر قوانین کے استعمال سے ہی ممکن ہے۔

ماہی گیری کے آلات وغیرہ کی تقسیم بھی سیاسی تعلق داری کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔سب مانتے ہیں کہ ماہی گیروں کا شمار محنت کش طبقہ میں ہوتا ہے لیکن لیبر قوانین کے تحت ماہی گیروں کو محنت کش تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ مروجہ لیبر پالیسی اس ضمن میں کیا کہتی ہے؟
150 مزدور کی حادثاتی موت کی صورت میں ڈیتھ گرانٹ کی فراہمی
150 بچیوں کی شادی کرانے کے لیے میریج گرانٹ کی فراہمی
150 علاج و معالجہ کے لیے اسپتالوں اور تعلیم و تربیت کے لیے اسکولز کا قیام
150 پینے کے صاف پانی کی فراہمی
150 بچوں کے لیے اسکالرشپ کی فراہمی
150 رہائش کے لیے کالونیوں کی تعمیر
150 ہنر سکھانے کے لیے مراکز کا قیام
150 پائیدار اور محفوظ شکار کے لیے ضروری آلات و مشنری کی فراہمی

لیکن اس مروجہ لیبر پالیسی کا ماہی گیر اس وقت تک بینفیشری نہیں بن سکتے جب تک ان کو محنت کش طبقہ تسلیم نہیں کیا جاتا۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ماہی گیروں کا شمار بھی محنت کش طبقہ میں کی جائے جس کے بعد ان کے معیارِ زندگی کو بلند کیا جا سکتا ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے اقدامات بھی دیرپا ثابت ہو سکتے ہیں۔

جیسا کہ اب گوادر میں ترقیاتی منصوبوں سے ماہی گیروں کا روزگار متاثر ہونے جا رہا ہے، اس صورت میں لیبر قوانین کے تحت ہی ماہی گیروں کو ریلیف بہم پہنچایا جا سکتا ہے۔بصورت دیگر ماہی گیروں کے شب و روز کبھی نہیں بدلیں گے۔ ان کو مراعات کی فراہمی اور ان کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے تمام وعدے سراب ثابت ہوتے رہیں گے، اس کے سوا کچھ نہیں۔