|

وقتِ اشاعت :   December 21 – 2018

بیجنگ :  سی پیک مشترکہ تعاون کمیٹی(جے سی سی ) میں پاکستان اور چین نے سی پیک کے جاری منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے عظیم منصوبے میں وسعت لانے پر اتفاق کیاہے اور فیصلہ کیاہے کہ گودار سمیت دیگر منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائیگی ،جے سی سی میکانزم کے تحت وفود کے تبادلے میں اضافہ کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

جے سی سی کے موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون کے حوالے سے ایم اویو ،صنعتی ترقی کیلئے ٹیکسٹائل ، پٹرو کیمیکل، آئرن و سٹیل، اور مائنگ کے شعبوں میں تعاون ، سماجی و معاشی شعبے میں قائم نئے جائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں ایکشن پلان پر اتفاق کیا گیا ور کہاگیا کہ پاکستان و چین کے مابین تعلیم، زراعت، غربت کے خاتمے، فنی تربیت، صحت، آبنوشی اور تکنیکی مہارت کے شعبوں میں تعاون جاری رہے گا۔

ملک کے طول و عرض میں غربت مکانے کیلئے پائلٹ پراجیکٹ شروع کئے جائیں گے،اجلاس میں زراعت کے شعبے میں قائم جائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیاگیا جو آئندہ سال کے آغاز میں منعقد ہوگا ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار نے کہاکہکہ سی پیک پاک چین اقتصادی تعلقات کا دل اور روح ہے،سی پیک کے اگلے مرحلے میں تعاون تجارت، صنعتی ترقی، سماجی و معاشی میدان میں داخل ہورہی ہے ۔

پاک چین تعاون کے بدولت اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری آئے گی،وائس چیئرمین این ڈی آر سی ننگ جائژانے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کے کامیاب دورے کے بعد پاک چین تعلقات مزید بلندی کی طرف گامزن ہے۔

جمعرات کو یہاں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار کی مشترکہ صدارت میں سی پیک مشترکہ تعاون کمیٹی(جے سی سی) کا اجلاس ہواجس میں چین کے جانب سے صدارت نائب چیئرمین نیشنل ڈیویلپمنٹ ریفارمز کمیشن ننگ جائژا نے کی۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، صوبائی قائدین، اور دونوں ممالک کے اعلی حکام نے شرکت کی ۔ 

اس دورا ن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار کہاکہ سی پیک پاک چین اقتصادی تعلقات کا دل اور روح ہے،سی پیک کے اگلے مرحلے میں تعاون تجارت، صنعتی ترقی، سماجی و معاشی میدان میں داخل ہورہی ہے، قیادت کے وژن کو مدنظر رکھتے ہوئے سی پیک کا دائرہ زراعت، سماجی شعبے اور عوامی رابطوں و تعلیم و تربیت کے شعبے تک بڑھایا گیا۔ 

خسرو بختیار نے کہاکہ صنعتی شعبے میں پاک چین تعاون کے بدولت اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری آئے گی، پاک چین صنعتی تعاون کے بدولت چینی صنعتوں کی پاکستان منتقل ممکن ہوگی ، گوادر کو سی پیک میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔انہوں نے کہاکہ گوادر کے منصوبوں پر کام کی رفتار میں اصافہ کرکے اسے معاشی و ٹرانسشپمنٹ کا مرکز بنایا جائے گا۔

وائس چیئرمین این ڈی آر سی نے اپنے خطاب میں کہاکہسی پیک پاکستان اور چینی حکومت اور عوام کا مشترکہ منصوبہ ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے کامیاب دورے کے بعد پاک چین تعلقات مزید بلندی کی طرف گامزن ہے جبکہ جے سی سی کے موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون کے حوالے سے ایم ایو پر اتفاق کیاگیا اور کہاگیاکہ پاکستان اور چین کے مابین صنعتی ترقی کیلئے ٹیکسٹائل ، پٹرو کیمیکل، آئرن و سٹیل، اور مائنگ کے شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔

جے سی سی کے اجلاس میں سماجی و معاشی شعبے میں قائم نئے جائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں ایکشن پلان پر اتفاق کرتے ہوئے کہاگیا کہ پاکستان و چین کے مابین تعلیم، زراعت، غربت کے خاتمے، فنی تربیت، صحت، آبنوشی اور تکنیکی مہارت کے شعبوں میں تعاون جاری رہے گا۔ملک کے طول و عرض میں غربت مکانے کیلئے پائلٹ پراجیکٹ شروع کئے جائیں گے۔

اجلاس میں زراعت کے شعبے میں قائم جائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیاگیا ۔زرعی ترقی کیلئے قائم گروپ کا اجلاس اگلے سال کے شروعات میں منعقد ہوگا۔فریقین نے سی پیک میں وسعت لانے پر اتفاق کرتے ہوئے جے سی سی میکانزم کے تحت وفود کے تبادلے میں اضافہ کا بھی فیصلہ کیا اورسی پیک کے جاری منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے گودار سمیت دیگر منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے پر اتفاق کیاگیا ۔ 

دریں اثناء جے سی سی کے کامیاب انعقاد کے بعد چیئرمین این ڈی آر سی ہا لی فنگ کی جانب سے پاکستانی وفد کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا گیا ۔اس موقع پر وفاقی وزیر خسرو بختیار و چیئرمین این ڈی آر سی ہا لی فنگ کی موجودگی میں صنعتی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے،چیئرمین بورڈ آف انوسٹمنٹ ہارون شریف اور وائس چیئرمین این ڈی آر سی ننگ جائژا نے ایم او یو پر دستخط کئے۔

تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر اطلاعات بلوچستان ظہور بلیدی، پاکستانی سفیر مسعود خالد، سیکرٹری پلاننگ ظفر حسن و دیگر نے شرکت کی۔