|

وقتِ اشاعت :   December 29 – 2018

اسلام آباد : پاکستان میں تعینات قائم مقام چینی سفیر چاولی چیان نے کہا ہے کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں سماجی شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے گی،پا کستان میں توانائی کے 7 اہم منصوبے مکمل کئے جاچکے ہیں۔

اگلے5سال کے دوران سی پیک کے تحت چھوٹے منصوبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی، چھوٹے پیمانے پر بجلی کے پیداواری منصوبے تعمیر کئے جائیں گے،22 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ چین میں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں، سی پیک قومی اتفاقِ رائے کے تحت تعمیر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں میں سیاسی اختلاف کے باوجود سی پیک اور پاک چین تعلقات پر مکمل اتفاقِ ہے، عوام کو منفی پروپیگنڈہ کے بنیادی مقاصد سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، منفی رپورٹس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کو انٹرویو میں پاکستان میں تعینات قائم مقام چینی سفیر چاولی چیان نے کہا ہے کہ سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور توانائی کے منصوبوں پر توجہ دی گئی، جن میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شاہراہوں کی تعمیر کے تحت شاہراہ قراقرم پر حویلیاں سے تھاہ کوٹ اور موٹر وے کے منصوبے ایم فائیو پر ملتان سے سکھر تک سڑک کی تعمیر کا کام تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہے۔ 

قائم مقام چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے 7 اہم منصوبے مکمل کئے جاچکے ہیں، جن میں شمسی توانائی، پن بجلی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شامل ہیں، جن کے باعث ملک میں توانائی کے مسائل میں نمایاں حد تک کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ مزید منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔

سی پیک کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے قائم مقام چینی سفیر نے کہا کہ 2019 میں سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت سماجی شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے5سال کے دوران سی پیک کے تحت چھوٹے منصوبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جن میں اسکولوں کی تزئین و آرائش، ہسپتالوں کے نظام میں جدت، غربت میں کمی، ماڈل ولیج کا قیام اور عوام کیلئے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے شامل ہیں۔ 

اسکے علاوہ دور دراز علاقوں میں چھوٹے پیمانے پر بجلی کے پیداواری منصوبے تعمیر کئے جائیں گے۔ چاولی چیان نے بتایا کہ اس وقت 22 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ چین میں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں، جبکہ مزید پاکستانی طلبہ کو تعلیم کے حصول کیلئے چین بھیجا جائے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف منصوبوں پر کام کرنیوالے چینی اداروں کو ہنرمند افرادی قوت کی فراہمی کیلئے زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو چین اور پاکستان میں تربیت فراہم کی جائے گی۔مقامی اور مغربی ذرائع ابلاغ پر سی پیک سے متعلق منفی رپورٹس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے قائم مقام چینی سفیر نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری قومی اتفاقِ رائے کے تحت تعمیر کی جارہی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے مابین سیاسی معاملات میں اختلاف کے باوجود سی پیک اور پاک چین تعلقات کے حوالے سے مکمل اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ چینی سفیر نے کہا کہ اس حوالے سے شائع ہونیوالی منفی رپورٹس کے جواب میں عوامی سطح پر آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ 

چاولی چیان نے کہا کہ عوام کو منفی پروپیگنڈہ کے بنیادی مقاصد سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ منفی رپورٹس میں عمومی طور پر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سی پیک پاکستان کی معیشت پر ایک بوجھ ہے جس پر شرح سود انتہائی زیادہ ہے، تاہم ان باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔