اسلام آباد : سینیٹ قائمہ کمیٹی میری ٹائم افیرزنے گوادر میں منظور شدہ 300میگا واٹ کے کول پلانٹ کو جلد سے جلد قائم کرنے اور گوادر کو ٹیکس فری زون قرار دینے کی سفارش کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک کے دیگر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اور سپیشل اکنامک زونز کی طرح سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کی جائیں ۔
کمیٹی نے گوادر ائیرپورٹ پر فراہم کی جانے والی سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے دیگر بڑے ائیرپورٹس کی طرح سہولیات فراہم کی ہدایت کی ہے۔کمیٹی کاجلاس چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نزہت صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایسٹ بے ایکسپریس وے کے ڈیزائن اور ماہی گیروں کو گوادر میں درپیش مسائل کے حوالے سے تشکیل دی گئی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
ذیلی کمیٹی کے کنوینئیر سینیٹر کہدہ بابر نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ، گوادر میں بسنے والے عوام، ماہی گیروں کی درپیش مسائل، پاکستان نیوی، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد ذیلی کمیٹی نے سفارشات تیار کی ہیں جن کا قائمہ کمیٹی جائزہ لے کر فیصلہ کر سکتی ہے۔
ذیلی کمیٹی کی رپورٹ میں مقامی ممبر صوبائی اسمبلی میر حمال کلماتی سے علاقے کے مسائل بارے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی ہے۔ ذیلی کمیٹی میں سفارش کی گئی ہے کہ گوادر میں ٹیکس فری زون مخصوص علاقے سے ہٹا کر پورے گوادر کے لئے لاگو کیا جائے اور ملک کے دیگر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اور سپیشل اکنامک زونز کی طرح سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کی جائیں۔
گوادر میں ایکسپورٹ والی صنعتوں کا قیام عمل میں لایا جائے اور وہاں زیرو ریٹڈ سہولت فراہم کی جائے۔ ذیلی کمیٹی نے گوادر ایئرپورٹ پر فراہم کردہ سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے دیگر بڑے ایئرپورٹس کی طرح کی سہولیات فراہم کرنے کی سفارش کی۔
ذیلی کمیٹی میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ گوادر میں ریلوے نیٹ ورک گوادر پورٹ اور گوادر کی ترقی کے لئے انتہائی ضروری ہے اور انٹرنیٹ کی سہولیات بھی ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں۔ ذیلی کمیٹی رپورٹ میں گوادر میں منظور شدہ 300میگا واٹ کے کول پلانٹ کو جلد سے جلد قائم کرنے کی بھی سفارش کر دی۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ جب تک گوادر میں بجلی اور میٹھے پانی کے مسائل حل نہیں ہوں گے وہاں کوئی ڈویلپمنٹ یا سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن نہیں ہے۔
سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے گوادر شہر میں تعمیرات پر پابندی عائد ہے جس کو فوری طور پر ہٹایا جائے اس کے بغیر سرمایہ کار کس طرح علاقے کی ڈویلپمنٹ کریں گے۔ ذیلی کمیٹی نے گوادر کو فراہم کردہ فنڈز کو فراہم کرنے کی بھی سفارش کی۔ ذیلی کمیٹی میں یہ رائے بھی دی گئی کہ ایکسپریس وے پر پاسٹ وے کو مزید چوڑا کیا جائے جو ماہی گیروں کا مطالبہ بھی ہے اور اس سے معاملات میں مزید بہتری آئے گی۔
چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ذیلی کمیٹی کو جو ٹاسک دیا گیا تھا اس پر بھرپور طریقے سے کام کیا گیا ہے۔ تمام سٹیک ہولڈرز اور وہاں پر عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لئے تجاویز مرتب کی گئی ہیں۔
کنوینیئر ذیلی کمیٹی کے حکم پر ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں 7ماہی گیروں کے نمائندے گوادر پورٹ اتھارٹی، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہیں جو ہر 15دن بعد کمیٹی اجلاس طلب کر کے معاملات کا جائزہ لیتی ہے۔ سینیٹر ثمینہ سعید کے سوال کے جواب میں چیئرمین گوادر پورٹ نے بتایا کہ سیوریج کے پانی کو ری سائیکل کیا جاتا ہے۔
وہ سمندر میں نہیں گرتا اور ماحولیات کے حوالے سے تمام چیزوں کو جائزہ لے کر کول پاور پلانٹ کی حکومت نے منظوری دی ہے۔ سینیٹر کہدہ بابر نے کہا کہ گوادر کی ترقی کے لئے حکومت بلوچستان نے گوادر کو دوسرا میٹروپولیٹن شہر قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر یہی ہو گا کہ حکومت پرانے شہر کے لوگوں کے لئے ٹاؤن میں جگہ مخصوص کرے تاکہ وہاں کے مقامی لوگوں کو پورٹ کی ترقی کے بعد مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سینیٹر محمد اکرم نے کہا کہ دنیا بھر میں پہلے ڈویلپمنٹ ہوتی ہے پھر زمین فروخت کی جاتی ہے۔ گوادر کے لوگوں سے سستی زمینیں خریدی گئی ہیں اور وہاں پر ابھی تک وہ ڈویلپمنٹ نہیں ہوئی جو ہونی چاہئے تھی۔ سینیٹر رانا محمودالحسن نے کہا کہ پنجاب ملتان کے قریب فش فارمنگ کافی فروغ پا رہی ہے۔ بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں بے شمار وسائل موجود ہیں جن کا موثر استعمال کرنے سے ملک وقوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ گوادر پورٹ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے وہاں کی ڈویلپمنٹ سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا بلکہ عام عوام اور ملک کی حالت زار میں نمایاں بہتری آئے گی۔ قائمہ کمیٹی نے ذیلی کمیٹی کی رپورٹ اختیار کرتے ہوئے وزارت جہاز رانی امور سے ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پر ایک ماہ کے اندر رپورٹ طلب کر لی۔
قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز کہدہ بابر ، محمد اکرم ، ستارہ ایاز ، شمیم آفریدی ، نصیب اللہ بازعی، رانا محمودالحسن، ثمینہ سعید کے علاوہ جوائنٹ سیکرٹری وزارت جہاز رانی امور شازیہ رضوی، چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی دوستین خان جمالدینی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
300میگاواٹ پاور پلانٹ کی تعمیر جلد مکمل کی جائے،سینٹ قائمہ کمیٹی کا گوادر کو ٹیکس فری زون قرار دینے کی سفارش
![]()
وقتِ اشاعت : January 9 – 2019