|

وقتِ اشاعت :   January 12 – 2019

لاہور: وفاقی حکومت کی اجازت کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)نے ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں میں 9سے 15فیصد تک اضافہ کردیا۔

جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں 9 فیصد جبکہ باقی تمام ادویات میں 15 فیصد اضافے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ادویات ساز کمپنیاں ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں،ڈالر کی قیمت کی وجہ سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ضروری تھا اور پی پی ایم اے ڈریپ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کا جائزہ لے رہی ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان )ڈریپ )کے ترجمان کے مطابق مختلف ادویات کی قیمتوں میں 9اور 15فیصداضافہ کیاگیا ہے ۔ ادویات میں یہ اضافہ مختلف وجوہات کی بنا ء پر نا گزیر تھا ۔ پچھلے ایک برس میں ڈالر کی قیمت میں30فیصد تک اضافے کے بعدمارکیٹ میں ادویات میں استعمال ہونے والے خام اور پیکنگ میٹریل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ 

اسی طرح یوٹیلیٹی (جس میں گیس اور بجلی شامل ہیں ) کی قیمتیں بڑھنے سے فارما سیوٹیکل انڈسٹری پر بوجھ پڑا ۔ مزید برآں ایڈیشنل ڈیوٹی میں اضافہ ہوا ، انٹر ریٹ اورملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کی زیادہ فارماسیوٹیکل درآمدات چین سے ہوتی ہے چین میں ماحولیاتی وجوہات کی بناء پر آدھی سے زیادہ انڈسٹری کی بندش سے خام مال کی قیمتوں میں دو گنااضافہ ہوا ۔ترجمان کے مطابق ملک میں آئے دن کچھ ادویات اورویکسین کی عدم دستیابی کی شکایت موصول ہورہی تھیں جس کی وجوہات میں ایک وجہ ادویا ت کی قیمت بھی پائی گئی ۔

انڈسٹری سے رابطہ کرنے پر معلوام ہوا کہ بہت سی ادویات کم قیمت ہونے کی وجہ تیار کرنا کاروباری لحاط سے موزوں نہیں رہا ۔ ڈریپ کے لئے جان بچانے والی اورضروری ادویات کی فراہمی ایک اولین ترجیح ہے اسی طرح کچھ عرصہ پہلے چند ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کر کے واپس جاچکی ہیں اور کچھ کمپنیاں مزید سرمایہ کاری کرنے کی بجائے اپنے کاروبار سمیٹنے کا اراد ہ ظاہر کررہی ہیں یہ ساری صورتحال ملکی مفاد کی منافی ہے ۔

ان تمام وجوہات کی بناء پر فارماسیوٹیکل انڈسٹی ادویات کی قیمتوں میں ڈالر کی قدر کے لحاظ سے اضافے کا مسلسل مطالبہ کررہی تھی ۔ڈریپ نے جہاں تک ممکن ہوسکا ادویات کی قیمتوں کے مشکل فیصلے کو روکے رکھا لیکن جب مارکیٹ میں جان بچانے والی اور ضروری ادویا ت کی عدم دستیابی بڑھنے لگی تو مریضوں اور ملک کے وسیع تر مفاد میں قیمتوں میں مناسب اضافے کا قدم اٹھایا گیا ۔ 

ملک میں ادویات کی نوے فیصد ضروریات ملکی صنعت پوری کرتی ہے جس کی بقاء کیلئے ادویات کی قیمتوں میں جائزہ اضافہ ضروری تھا ۔ ترجمان کے مطابق ڈریپ تمام اسٹیک ہورلڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ ملک میں ادویات کی دستیابی ، نئی سرمایہ کاری اور فارماسیوٹیکل صنعت کے فروغ کیلئے قیمتوں میں 9اور 15فیصد اضافہ کیا جائے ۔

اس مقصد کیلئے منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز کی ضروری کارروائی کے بعد وفاقی حکومت کی منظوری سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے ۔ ڈریپ ترجمان نے واضح کیا کہ ادارہ ادویات کے معیار اوران کی مناسب قیمت پر دستیابی کے لئے کوشاں رہے گا اور اس اضافے کے باوجود پاکستان میں ادویات کی قیمتیں بین الاقوامی اورعلاقی کی سطح پر قیمتوں سے کم رہیں گی ۔

ڈریپ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ1986 کے ڈرگ (لیبلنگ اور پیکیجنگ)قوانین کی جانب سے بتائے گئے قوائد کے مطابق دوا کی قیمت میں اضافہ اس کے لیبل پر پرنٹ کرنا ہوگا۔

دوسری جانب پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ادویات ساز کمپنیاں ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں،ڈالر کی قیمت کی وجہ سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ضروری تھا اور پی پی ایم اے ڈریپ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کا جائزہ لے رہی ہے۔