|

وقتِ اشاعت :   January 14 – 2019

کراچی:  پاکستان میں سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا ہے کہ پاکستان اورامریکا کے تعلقات میں اتاروچڑھاؤآتے رہتے ہیں،امریکانے ہمشہ پاکستان کے ساتھ تعاون کیاہے،امریکا کولگتا ہے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے پاکستان تعاون نہیں کرنا چاہتا، پاکستان کو ایماندارانہ طورپرامریکا کے فنڈزخرچ کرنے چاہییں۔ 

امریکہ کی پاکستان اور بھارت سے بہتر تعلقات مجبوری ہے ،ہمارے مفادات دونوں ممالک کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں کسی ایک کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے ،امریکی انتظامیہ اس وقت پاکستان میں دلچسپی نہیں لے رہی ۔

سابق امریکی سفیرکیمرون منٹرکراچی کے نجی ہوٹل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب میں پاکستان میں سفیرتھا تودہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ تھااور ملالہ والا معاملہ بھی اسی دور میں ہوا۔ہم نے دہشت گردی پر قابو پانے کیلیے کام کیا،مشرف دور میں بھی پاکستان کودہشت گردی کے خاتمے کیلیے پیسے دیئے گئے۔

سارا پیسادرست اندازمیں استعمال نہیں ہوا،امریکا کولگتا ہے دہشت گردی کی روک تھام کے لے پاکستان تعاون نہیں کرنا چاہتا، پاکستان کو ایماندارانہ طورپرامریکا کے فنڈزخرچ کرنے چاہییں،کیمرون منٹر نے کہاکہ امریکاپاکستان میں تعلیم کے فروغ کیلیے کافی سرمایہ کاری کررہا ہے،تعلیم کے فروغ کیلیے اور 2012میں صحت کی بہتری کیلیے کام کیا،امریکاچاہتا ہے کہ پاکستان کاہر بچہ پڑھا لکھا ہو،امریکا نے سندھ کو بھی تعلیم کی مد میں کافی پیسا دیا۔

امریکا نے کافی پیسا بلوچستان میں تعلیم کے لیے دیا، کیمرون منٹر نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ ہمیں معاملات اچھے رکھنے پڑتے ہیں، پاکستانی شہر کراچی اور انڈین شہر ممبئی ہمارے لیے معاشی حب ہیں، ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا صرف اور صرف ایک مفاد ہے کہ ہر ملک ترقی کرے،امریکابات چیت کے ذریعے باہمی معاملات حل کرنے کا خواہش مند ہے،امریکا بھارت،روس اور چائنہ کے ساتھ بھی بات چیت میں مصروف ہے۔

پاکستان میں سابق امریکی سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان اورامریکا کے تعلقات میں اتاروچڑھاؤآتے رہتے ہیں،امریکانے ہمشہ پاکستان کیساتھ تعاون کیاہے،امریکاچاہتا ہیکہ پاکستان اورامریکا کیتعلقات مضبوط رہیں۔

چاہتے ہیں کہ براہ راست اسلام آباد اور واشنگٹن کا رابطہ ہو، امریکا اور پاکستان کے تعلقات اتنے مضبوط ہوں کہ رکاوٹیں بے معنی ہوں،انہوں نے مزید کہا کہ امریکا چاہتا ہے پاکستان کے لوگ ہرشعبے میں ترقی کریں، امریکا نیپاکستان کیساتھ بہت سیپروگرام شروع کررکھے ہیں،ان پروگراموں کامقصد لوگوں کوتربیت یافتہ بناناہے،سیاسی معاملات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے معاملات بہتر نہیں،پاکستان کی زیادہ ترتوجہ ترقیاتی کاموں کی جانب ہوتی ہیاب وقت ہیکہ پاکستان گڈگورننس پرکام کرے۔ 

دریں اثناء وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پچھلی حکومت کی جانب سے دیا گیا بجٹ جعلی تھا اب اصلی بجٹ آرہا ہے،حکومت 23 جنوری کو روشن اور مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھے گی۔میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ قوم کی نظریں وزیرِ اعظم عمران خان پر جمی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت راوں ماہ 23 جنوری کو بجٹ پیش کرے گی جس میں روشن اور مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھی جائے گی۔

مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف کے ٹرائل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جیلوں کے اندر ٹرائل ہوتے رہے، لیکن اب ٹرائل ملزمان کی مرضی سے ہورہے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف کو ٹرائل کے دوران لندن جانے کی اجازت بھی دی گئی تھی، جبکہ شہباز شریف ٹرائل کے دوران اپنے گھر میں ہی قید ہیں اور جب ان سے نیب کو پوچھ گچھ کرنی ہوتی ہے تو شہباز شریف انہیں اپنے گھر ہی بلا لیتے ہیں۔سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سابق سفیر کو پتہ نہیں کہ پاک امریکا تعلقات میں بہتری آرہی ہے۔

دورہ سندھ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ میں مجھے کراچی جانے سے کوئی نہیں روک سکتا، میں سندھ کا دورہ ضرور کروں گا۔صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے بارے میں جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ صحافی برادری فیاض چوہان سے صلح کرلے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو ملک میں کوئی سیاسی چیلنج درپیش نہیں ہے، ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے خود اپنی قبریں کھودیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے اندر برداشت اور انصاف ہونا چاہیے، حکومت عوام کی امیدوں پر پوا اترے گی۔ملک میں ثقافتی میلوں کے کم ہونے یا ختم ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ملک میں ثقافتی میلوں کی روایت کو دوبارہ بحال کرے گی۔

فواد چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ 66 ممالک کے ساتھ ویزا پالیسی میں نرمی کا معاہدہ کیا جارہا ہے۔قبل ازیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کے شعبے میں روز بروز نئی ٹیکنالوجی متعارف ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے نجی ٹی وی چینل اپنا ریونیو ماڈل حکومت پر انحصار کرکے نہیں بناتے، کیونکہ اگر حکومت میڈیا کو پیسے دے گی تو میڈیا آزاد کیسے ہوگا؟

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا بہت بڑا چنک انٹرٹینمنٹ میں چلا گیا، نیوز میڈیا نیچے کی جانب جارہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ حکومت ہمیں اسپانسر کرے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملکی میڈیا ہاوسز کو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔