اسلام آباد : سابق صدر آصف زرداری سے اختر مینگل نے ملاقات کی جس میں بلوچستان کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ہفتہ کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے چیمبر میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اختر مینگل نے کہاکہ چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے نہ ہٹائیں جس پر آصف زر داری نے جواب دیا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا فیصلہ میرا نہیں اپوزیشن کا ہے۔
بلوچستان عوامی پارٹی کی سینئر قیادت کی پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر رکن قومی اسمبلی آصف علی زرداری سے اہم ملاقات، چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتما د لانے کے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے چیمبر میں بلوچستان عوامی پارٹی کے سنیئر رہنماء صوبائی وزیر بلدیات سردار صالح بھوتانی کی قیادت میں رکن صوبائی اسمبلی میر جان محمد جمالی،رکن قومی اسمبلی نوابزادہ خالدمگسی،سینیٹر نصیب اللہ مری پر مشتمل وفد نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و رکن قومی اسمبلی آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔
ملاقات میں بی اے پی کے وفد نے سابق صدر سے ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور ان سے چیئرمین سینیٹ کو ہٹا نے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سردار صالح بھوتانی نے کہا کہ بلوچستان ملک کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا لیکن پسماندہ ترین صوبہ ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں عوامی مفاد کی خاطر حکومت کی تبدیلی اور صوبے کے احساس محرومی کو کم کرنے کے لئے بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اصولی طور پر ساتھ دیا تھا،بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے بعد صوبے کے عوام میں پائے جانے والی تشویش کو کم اور اعتماد کو بحال کرنے میں معاونت ملی تھی تاہم اب چیئر مین سینیٹ کو ہٹانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے جس سے بلوچستان کی محرومیوں میں اضافہ ہوگا۔
لہذا پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی جماعت ہونے کے ناطے چیئرمین سینیٹ کے خلاف لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد میں صادق سنجرانی کا ساتھ دے اور انہیں ہٹانے کی مخالفت کرے، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹا نے کا فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کا انفرادی نہیں بلکہ 26جون کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ فیصلہ ہے،اس حوالے سے حتمی فیصلہ رہبر کمیٹی کریگی جس میں تمام جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی قیادت سے اس حوالے سے مشاورت کریں گے جس کے بعد بی اے پی کو آگاہ کیا جائیگا،اس موقع پر دونوں جانب سے ملاقاتیں جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔